Saturday, May 2, 2020

AL AUFAAQ (Vol-7) الاوفاق


اداریہ
 از صوفی محمد عمران رضوی القادری
عاملین احباب کے لئے شب و روز کے معمولات
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ السلام علی سید الانبیا والمرسلین
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللہَ ذِکْرًا کَثِیۡرًا ﴿ۙ41﴾وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿42﴾ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿43﴾ اے ایمان والو! اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح وشام اس کی پاکی بولو وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فر شتے کہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طر ف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔(پ 22 ،الا حزاب : 41 تا 43)  عامی ہو یا عامل کامیابی کا مدار صرف اور صرف صبح و شام بطورِ دوام اللہ کی پاکی بولنے پرمنحصر ہے وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا  معمولات شب وروز اور صبح و شام کے تعلق سے الوظیفۃ الکریمہ کو  اپنا راہبر اپنامرشد اپنا استاد بنائیے کہ جو بندہ خدا  اس میں بتائے گئے طریقے پر شب و روز گذارنے کا عادی ہوگیا اس نےدنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں جمع کر لیں ،میں نےسالہا سال سینکڑوں اعمال واذکار  کا شغل اختیار کیا  وظائف کی زنجیر میں خود کو جکڑ لیا  کبھی کثرتِ کار نقش و تعویذ  نویسی کے سبب     وظائف میں کمی بھی واقع ہوئی  لیکن معمولاتِ شب و روز کے حوالے سےچند  بڑی علوی دعائیں اور تلاوت قرآن و دلائل الخیرات شریف جو   الوظیفۃ الکریمہ کو  شامل ہیں ،کبھی بھی ترک نہ کیا  اور یہ محض اس لئے لکھ دیا تاکہ احباب کو وظائف کا شوق زیادہ ہوپھر حدیث شریف میں بھی فرمایا کہ لوگوں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو خود اپنے لئے کرتے ہو  لہذا میں اپنے تمام احباب و متعلقین و جملہ خویش و اقارب دور و نزدیک کے سب  کو تلقین کروں گا کہ الوظیفۃ الکریمہ کا شغل اختیار کیجئے خواہ عامی ہو یاعامل سب کو یکساں مفید  سب کو اس کی حاجت شدید  ،جو لوگ فقیر سے روحانی علوم نقوش و تعویذات و عملیات سیکھتے ہیں ان سب کو الوظیفۃ الکریمہ  پر عامل ہونا لازم ہے  ،جس قدر معمولات اس میں درج ہیں ان میں سے کسی کا ترک مناسب نہیں سوائے مبتدی حضرات کے کہ وہ  تہجد،ذکر چہار ضربی،ذکر خفی،تصورِشیخ اور پاس انفاس  کا شغل چاہیں تو شروع میں نا کریں لیکن دیگر معمولات کی پابندی سے جلد ہی ان کا یہ شوق  بھی جاگ اٹھے گا  اللہ توفیق دے جس قدر اس باغ سے پھول چن سکتے ہیں چن لیں ان پھولوں کی مہک سے دنیا و آخرت معطر ہوں گے   ،وہ احباب جو عامل بننے  اور روحانی علاج و معالجہ سیکھنے کے لئے مشکل ترین اعمال و چلہ کشی کی طرف بے سوچے سمجھے دوڑ پڑتےہیں انہیں جاننا چاہئے کہ روحانی عامل بننے کے لئے  کچھ بنیادی ریاضتوں کا کرنا لازمی ہے   اوروہ تمام تر بنیادی ریاضتیں  الوظیفۃ الکریمہ کے اندر موجود ہے  ،عامل جس کے معمولات میں الوظیفۃ الکریمہ ہوگا وہ کبھی بھی رجعت کا شکار نہیں ہوگا پھر یہ کہ جو ذی صلاحیت احباب ہیں  اور فنِّ تعویذات کے جانکار ہیں ان کو روحانی علاج و معالجہ شروع کرنے کے لئے   نقوش و تعویذات کی اجازت کے ساتھ صرف اس کا عامل ہونا  ہی کافی ہے ہاں فقیر کا مشورہ یہ ضرور ہے کہ آسیب و جنات کے علاج سے گریز کرتے ہوئے ہر قسم کے جادو ٹونے کا علاج ،محبت،شادی بیاہ،شفائے امراض ،محبت زوجین،کاروباری ترقی،امتحان میں کامیابی، وغیرہ وغیرہ  کے نقوش  و تعویذات و علاج و معالجہ کرے اور یہ فن روحانی مطب میں بیٹھنے سے ہی آتا ہے ،ابتدائی ریاضت کے بعد   پھر جس عمل کا شوق ہو جس طرف طبیعت مائل ہو وہ با اجازت کرتا جائے  اور  جب باقائدہ سورہ مزمل،دعاء حزب البحر،چہل اسماء ،دعائے حیدری و دعائے سیفی یا اس قسم کے دوسرے  اعمال  کا عامل ہو تو  بلا تردد آسیب و جنات کا بھی علاج کرے اس واسطے   فقیر ِ قادری نے ابتدائی عاملین احباب کے لئے نہایت سادہ طریقے پر عملیات کے نو چلے  بالترتیب رکھے ہیں جن میں درود تنجینا،درود فضلِ عظیم،درود اسم اعظم ،صلوٰۃ البیر،صیغہ مقبول،بسم اللہ شریف،استغفار،یا شیخ عبد القادر جیلانی اور سورہ یس کا چلہ  شامل ہے،یہ چلے ان حضرات کے لئے لازمی ہوں گے جو کہ عملیات و تعویذات کے ساتھ ساتھ اوراد و وظائف  کے میدان میں بھی نئے ہوں اور وہ احباب جو مختلف قسم کے اعمال سے گذر چکے ہیں اور عرصہ دراز سے مختلف وظائف کی پابندی رکھتے ہیں  ان کے لئے ان چلوں کی ترتیب ضروری نہیں ہوگی  وہ اپنے صوابدید پریا فقیر کے مشورے سے دیگرعملیات و نقوش کی زکات  کی تیاری کر سکتے ہیں  
احقر العباد محمد عمران 
الوظیفۃ الکریمہ
از۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت مولانا شاہ احمد رضا خان قادری علیہ الرحمۃ والرضوان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
حَامِدًا لِّمَنْ جَعَلَ الدُّعَآءَ عِبَادَۃً بَلْ مُخَّ الْعِبَادَۃِ
وَ اَمَرَ باُدْعُوْنِیْ عِبَادَہٗ وَاَلْزَمَہٗ بِوَعْدِہٖ الْاِجَابَۃَ وَمَنْ
دَعَا رَبَّہٗ  لَبَّیْکَ یَا عَبْدِیْ اَجَابَہٗ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْۤ
اَسْتَجِبْ لَکُمْ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّی قَرِیْبٌ
اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَاِنَّہٗ سَمِیْعٌ مُّجِیْبُ وَّ
مُصَلِّیًا وَّمُسَلِّمًا عَلٰی مَنْ اخْتَبَاَ دَعْوَتَہُ الْمُسْتَجَابَۃَ
لِیَوْمِ الْمَثَابَۃِ وَعَلٰۤی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ مَا انْہَلَّ الدِّیْمَ
مِنَ السَّحَابَۃِ اٰمِیْن
           حمد  اُس کے وجہِ کریم کو جس نے ہمیں  مولائے عالم، والی ٔ اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے بندگانِ بارگاہِ عالم پناہ میں  کیا،ہمارے ہاتھ میں  حضور پُر نور سیدنا غوثُ الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دامن ِکرم دیا،اپنے اولیا، ہمارے مشائخِ سلسلہ خصوصاً ہمارے آقا ومولیٰ حضور سیدنا اعلیٰ حضرت قبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سایۂ رحمت ہم پر دراز کیا، جنہوں  نے ہم تک پہنچایا کہ تمہارا حیا والا ربِ کریم حیا فرماتا ہے کہ بندہ اس کے حضور ہاتھ پھیلائے اور وہ خالی ہاتھ پھیر دے، ہمیں  خود حکمِ دعا دیا اور اپنے کرم سے اجابت کولازم فرمایا
فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَآءِ فَاِنَّ الدُّعَآءَ یَرُدُّ الْقَضَآءَ بَعْدَ اَنْ یُّبْرَمَ
       بارگاہِ کرم سیّد ِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم سے حضور پُر نور سیدنا اعلیٰ حضرت قبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں  جو مبارک دعائیں  ہمیں  پہنچیں  اور جو اَذکار و اَشغال دُرِّ مَکنُون کی طرح خاندانِ عالیہ میں  مخزون تھے، برادرانِ اہلسنت و خواجہ     تاشانِ قادریت و رضویت کے لیے شائع کرتے اور دعوے سے کہتے ہیں  کہ ان کا عامل دین و دنیا کی نعمتوں  سے مالا مال ہوگا،ہر بلا وآفت سے محفوظ رہے گا، مولیٰ تعالیٰ ان کی برکات سے تمام اہلِ سنت کو مستفیض فرمائے۔ آمین آمین! 
حضور پُر نور سیدنا اعلیٰ حضرت قبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بطورِ تمہید کچھ تحریر فرمانا چاہا تھا مگر وہ جواہرزَواہر مثل دُرِّ مکنون سینۂ اقدس میں مخزون رہے دل نے نہ چاہا کہ ان الفاظِ کریمہ سے ایک حرف بھی کم ہو، انہیں بجنسہ نقل کر کے کہ یہ یہیں تک تھے، جو فہم قاصر میں آیا ہدیۂ ناظرین کیا، اس رسالہ کا نام بھی کچھ نہ تجویز فرمایا تھا، تاریخی نام اور خطبہ فقیر نے اضافہ کیا
گدائے آستانہ قدسیہ رضویہ
فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ (ورحمۃ اللہ علیہ)


بسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
صبح وشام دونوں  وقت
         آدھی رات ڈھلے سے سورج کی کرن چمکنے تک صبح ہے،اس بیچ میں  جس وقت ان دعاؤ ں  کوپڑھ لے گا صبح میں  پڑھنا ہو گیا،یوں  ہی دو پہر ڈھلنے سے غروبِ آفتاب تک شام ہے۔
[۱] سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَآءَ اللَّهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَاْلَمْ يَكُنْ، اَعْلَمُ اَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَاَنَّ اللَّهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً      ایک ایک بار
ترجمہ: پاک ہے اللہ عزوجل اپنی تعریف کے ساتھ،نیکی کی توفیق اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ہے، جو اس نے چاہا وہی ہوا اور جو نہ چاہا وہ نہ ہوا، میں جانتا ہوںکہ اللہ عزوجل سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ عزوجل کا علم ہر چیز کو محیط ہے
[۲]  آیَۃُ الْکُرْسِی  ایک ایک بار
اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕ یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَۚ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَۚ وَلَا یَــُٔـوۡدُہٗ حِفْظُہُمَاۚ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیۡمُ (پ۳،البقرۃ:۲۵۵)        
ترجمۂ کنزالایمان:اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے  وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے  اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا
اور اس کے بعد
 بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ  حٰمٓ ۚ ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیۡدِ الْعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوْلِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الْمَصِیۡرُ ﴿۳﴾  ایک ایک بار
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا یہ کتاب اتارنا ہےاللہ کی طرف سے جو عزت والا علم والاگناہ بخشنے والااور توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب کرنے والا بڑے انعام والا اسکے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھرنا ہے۔ (پ۲۴، المؤمن :۱۔۳)
[۳]  تینوں  ’’قُلْ‘‘  تین تین بار
ان تینوں نمبروں  کافائدہ ہربلا سے محفوظی ہے،صبح پڑھے توشام تک اور شام پڑھے تو صبح تک
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ﴿۴﴾ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاداور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی (پ۳۰ ، الاخلاص)
قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ﴿۲﴾ وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾ وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ۙ﴿۴﴾ وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ میں اسکی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے اسکی سب مخلوق کے شر سے اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے اور ان عورتوں کے شر سے جو   ِگرہوں میں پھونکتی ہیں اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے (پ۳۰ ، الفلق)
قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾ اِلٰہِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾ مِنۡ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ۬ۙ الْخَنَّاسِ﴿۴﴾۪ۙ الَّذِیۡ یُوَسْوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ٪﴿۶﴾        
ترجمۂ کنزالایمان: تم کہو میں اسکی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب سب لوگوں کا بادشاہ سب لوگوں کا خدا اسکے شر سے جو دل میں بُرے خطرے ڈالے اور دَبک رہے وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں جن اور آدمی (پ۳۰ ، النّاس)
[۴]  بِسْمِ اللہِ مَا شَآءَ اللَّهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَآءَ اللَّهُ لَا يَصْرِفُ السُّوْۤءَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَآءَ اللَّهُ مَا کَانَ مِنْ نِّعْمَةٍ فَمِنْ اللَّهِ مَا شَآءَاللہُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا اللہِ ترجمہ: اللہ عزوجل کے نام سے مَاشَآءَ اللّٰہُ خیر اور بھلائی صرف اللہ عزوجل ہی عطا فرماتا ہے مَاشَآءَ اللّٰہُ برائی اور مصیبت کو صرف اللہ عزوجل ہی دور فرماتا ہے مَاشَآءَ اللّٰہُ ہر نعمت اللہ عزوجل کی طرف سے ہے مَاشَآءَاللّٰہُ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی توفیق اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ہے
تین تین باراس کا فائدہ سات چیزوں  سے پناہ: {1}  جلنا  {2}  ڈوبنا  {3}  چوری {4} سانپ  {5}  بچھو  {6}  شیطان  {7}  سلطان۔صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک
[۵] اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّآمَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَترجمہ:میں اللہ عزوجل کے پورے اور کامل کلمات کے ساتھ مخلوق کے شر سے پناہ لیتا ہوں  تین تین بار  اس کا فائدہ سانپ، بچھو وغیرہ موذیات سے پناہ ہو۔(5)
[۶] بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَآءِوَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْم
ترجمہ:اللہ عزوجل کے نام سے ،جس کے نام سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور وہی ہے سننے اور جاننے والاتین تین بار زہر و ضرر سے امان رہے۔
[۷] رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِيْنًا وَّبِسَیِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نَبِيًّا وَّ رَسُوْلًا  ترجمہ:میں اللہ عزوجل کے رب ،اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نبی اور رسول ہونے پر راضی ہوںتین تین باراللہ عز وجل کے کرم پرحق ہے کہ روزِ قیامت اسے راضی کرے
[۸]حَسْبِیَ اللہُ ٭۫ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ ترجمۂ کنزالایمان: مجھےاللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔(پ۱۱، التوبۃ : ۱۲۹)
دس دس بارہر بلا ومکر سے محفوظی، حدیث میں  سات بار فرمایا۔(5) حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دس بار آیا، فقیر کااسی پر عمل ہے، اسے بحمد اللہ تعالیٰ تمام مقاصد کے لئے کافی پایا۔
[۹] فَسُبْحٰنَ اللہِ حِیۡنَ تُمْسُوۡنَ وَ حِیۡنَ تُصْبِحُوۡنَ ﴿۱۷﴾ وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّ حِیۡنَ تُظْہِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ؕ وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوۡنَ ایک ایک بار جس سے کسی دن سب وظائف رہ جائیں  تو یہ تنہا ان سب کی جگہ کافی ہے نیز رات دن کے ہر نقصان کی تلافی ہے۔
ترجمۂ کنزالایمان : تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو اوراسی کی تعریف ہےآسمانوں اور زمین میں اورکچھ دن رہے اورجب تمہیں دوپہر ہو وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے اور مردے کو نکالتاہے زندہ سے اورزمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے اوریونہی تم کالے جاؤ گے۔ (پ۲۱، الروم : ۱۷۔ ۱۹)
[۱۰] اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًاختم سورۃ تک  ایک ایک بار شیطان وجن وآفات سے محفوظی۔
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیۡنَا لَا تُرْجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾ فَتَعٰلَی اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیۡمِ ﴿۱۱۶﴾ وَمَنۡ یَّدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْہٰنَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾ وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾        ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں تو بہت بلندی والا ہے اللہ سچا بادشاہ کوئی معبود نہیں سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیںتو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہے بیشک کافروں کو چھٹکارا نہیں اور تم عرض کرو اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور توسب سے برتر رحم کرنے والا (پ۱۸،المؤمنون :۱۱۵۔۱۱۸)
[۱۱]اَعُوْذُ بِاللَّهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْم ِمِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم تین بار
ترجمہ:میں اللہ سمیع علیم کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے
 پھرہُوَ اللہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚسورہ ٔحشر کی اَخیر تین آیتیں (2) ایک بار
صبح پڑھے توشام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کریں  اور اس دن مرے تو شہید ہو اور شام کوپڑھے تو صبح تک یہی حکم ہے
ہُوَ اللہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ عٰلِمُ الْغَیۡبِ وَ الشَّہٰدَۃِۚ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۲۲﴾ ہُوَ اللہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیۡمِنُ الْعَزِیۡزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُؕ سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۲۳﴾ ہُوَ اللہُ الْخٰلِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیؕ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ وَ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿٪۲۴﴾        
ترجمۂ کنز الایمان: وہی اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہر نہاں و عیاں کا جاننے والاوہی ہے بڑا مہربان رحمت والاوہی ہے اللّٰہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزّت والا عظمت والا تکبر والا اللّٰہکو پاکی ہے ان کے شرک سے وہی ہے اللّٰہ بنانے والا پیدا کرنے والا ہر ایک کو صورت دینے والا اسی کے ہیں سب اچھے نام اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزّت و حکمت والا ہے (پ۲۸،الحشر:۲۲۔۲۴)
[۱۲]اَللَّهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُه
 ترجمہ:اے اللہ عزوجل ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ جان بوجھ کر کسی شے کوتیرا شریک بنائیں اور ہم بخشش مانگتے ہیں تجھ سے اس(شرک)کی جس کو ہم نہیں جانتے
تین تین بار، خاتمہ ایمان پر ہو
[۱۳]بِسْمِ اللہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللہِ عَلٰی نَفسِیْ وَ وُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ
ترجمہ:اللہ عزوجل کے نام کی برکت سے میرے دین،جان ،اولاد اوراہل ومال کی حفاظت ہو
تین تین بار  دین ، ایمان ،جان ، مال ،بچے سب محفوظ رہیں
 [۱۴] اللّٰھُمَّ مَااَصْبَحَ لِي مِنْ نِعْمَةٍ اَوْ بِاَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَك الشُّكْرُ ترجمہ:یااللہ! عزوجل میں نے یا تیری مخلوق میں سے کسی نے جن نعمتوں کے ساتھ صبح کی تو وہ تیری ہی طرف سے ہیں تواکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تمام تعریفیں اور شکرتیرے لئے ہیں
  ایک ایک بارصبح کو کہے تو دن بھر کی سب نعمتوں  کا شکر ادا کیا اور شام کو پڑھے توشب بھر کی
  شام  کو’’اَصْبَحَ‘‘کی جگہ’’اَمْسٰی‘‘کہے۔
فقیر اس کے بعد لَا اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡن زائد کرتا ہے۔
[۱۵]بِسْمِ اللهِ جَلِیْلِ الشَّاْنِ عَظِيْمِ الْبُرْهَانِ شَدِيْدِ السُّلْطَانِ مَا شَآءَ اللهُ کَانَ، اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِیْمِترجمہ:اللہ جلیل الشان، عظیم البرہان، شدید السلطان کے نام سے ابتداء، جو اللہ عزوجل چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، میں پناہ مانگتاہوں اللہ عزوجل کی شیطان مردود سے  ۔۔۔ایک ایک بارشیطان اور اس کے لشکروں سے محفوظ رہے
[۱۶] اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَاُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلٰٓئِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَترجمہ:اے اللہ! عزوجل میں نے صبح کی، تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں اور تیرے فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتے ہوئے کہ اللہ صرف تو ہی ہے، تیرے سوا کوئی معبودنہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں
چار چار بار ہر بار چہارم حصۂ بدن دوزخ سے آزاد ہو
نوٹ:شام کو  ’’ اَصْبَحْتُ‘‘ کی جگہ  ’’ اَمْسَیْتُ‘‘ کہے۔
[۱۷] اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَاۤئِماً مَّعَ دَوَامِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًاخَالِدًا مَّعَ خُلُوْدِكَ وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَّا مُنْتَهٰى لَهٗ دُوْنَ مَشِيْئَتِكَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًاعِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ وَّتَنَفُّسِ کُلِّ نَفْس
ترجمہ: اے اللہ! عزوجل تیرے لیے دائمی حمد ہے تیرے دوام کے ساتھ اور تیرے لیے ہمیشہ رہنے والی حمد ہے تیری ہمیشگی کے ساتھ اور تیرے لئے ایسی حمد ہے جس کی تیری مشیت کے سوا کوئی انتہاء نہ ہواور ہرلمحہ اور ہرسانس تیرے لئے ہی ہے ہر حمد
ایک ایک بار، گویا اس نے اس دن رات پوری عبادت کا حق ادا کی
[۱۸]اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِترجمہ:اے اللہ! عزوجل میں غم واَلَم، عجزوسستی، بزدلی وبُخل ، قرضے کے غلبے اورلوگوں کےقہر سے تیری پناہ مانگتاہوں
 ایک ایک بار، غم و اَلم سے بچے ،ادائے قرض کیلئے گیارہ گیارہ بارپڑھے
[۱۹]يَا حَىُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ فَلَا تَكِلْنِىْۤ اِلٰى نَفْسِىْ طَرْفَةَ عَيْنٍ وَّاَصْلِحْ لِىْ شَاْنِىْ كُلَّهٗ ترجمہ:اے حی! اے قیوم! تیری رحمت کے ساتھ میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ ایک پل کیلئےبھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے تمام حال کو درست کردے   ایک ایک بار،سب کام بنیں۔
[۲۰]اَللّٰهُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ  وَلَا تَکِلْنیِ اِلٰیۤ اِخْتِیَارِیْ
 ترجمہ: اے اللہ عزوجل میرے لیے بہترمعاملہ مقدر فرما اور اس میں بھلائی عطافرما اور مجھے میرے نفس کے سپرد نہ فرما
  سات سات بار، دن رات کے ہر کام کے لئے استخارہ ہے۔
[۲۱]سَيِّدُ الْاِسْتِغْفَارِایک ایک یاتین تین بار، گناہ معاف ہوں  اور اس دن رات میں  مرے تو شہید،وہ یہ ہےاَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّي لَا اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ خَلَقْتَنِيْ وَاَنَا عَبْدُكَ  وَاَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوْۤءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْۤءُ لَکَ بِذَنْبِۢیْ فَاغْفِرْ لِي فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ وَاغْفِرْ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ وَّ مُؤمِنَۃٍترجمہ:الٰہی عزوجل تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اورمیں تیرابندہ ہوں اور بقدر ِ طاقت تیرے عہد وپیمان پر قائم ہوں میں اپنے کئے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوںمجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا
فقیر اس کے بعد اتنا زائد کرتا ہے وَاغْفِرْ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ وَّ مُؤمِنَۃ  ترجمہ: اور تمام مؤمن مَردوں اور عورتوں کی بخشش فرما
اور اپنے جس فعل سے کسی ضرر کا اندیشہ ہو تا ہے مولیٰ تعالیٰ محفوظ رکھتا ہے۔
[۲۲] لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبِيْنُترجمہ:اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو صریح سچا بادشاہ ہے
سو سو بار صبح و شام  رزق کشادہ ہو عذاب قبر سے محفوظ رہے

صرف صبح
{1} بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ
ترجمہ:اللہ کے نام سے جو بہت مہربان رحمت والا،گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنےکی توفیق ا للہ کی طرف سے ہے جو کبریائی اور بڑائی والا ہے
  اس کا فائدہ ہر کام بنے،شیطان سے محفوظ رہے
{2}سورۂ اخلاص گیارہ بار ، ا گر شیطان مع اپنے لشکرکے کوشش کرے کہ اس سے گناہ کرائے نہ کرا سکے جب تک کہ یہ خود نہ کر
{3} يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
 ترجمہ: اے حی! اے قیوم! تیرے سوا کوئی معبود نہیں 
اکتالیس بار اس کا دل زندہ رہے گا اور خاتمہ ایمان پر ہو گا۔
{4} سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ وَبِحَمْدِهٖ
ترجمہ: پاک ہے اللہ بڑی عظمت والا اپنی تعریف کے ساتھ
تین بارجنون ،جذام وبرص و نا بینائی سے بچے
{5}تلاوتِ قرآن عظیم کم از کم ایک پارہ، حتی الامکان طلوعِ شمس سے پہلے ہو اور اگر آفتاب نکل آئے تو ٹھہر جائے اور ذکر واذکار کرے یہاں  تک کہ آفتاب بلند ہوجائے۔ جن تین وقتوں  میں  نماز ناجائز ہے تلاوت بھی مکروہ ہے۔  
{6}دلائل الخیرات ایک حزب
{7}شجرہ شریف  ۔۔۔دلائل و شجرہ قبل ِطلوع ہوں  یا بعد ِطلوع
 پانچوں  نمازوں  کے بعد 
{1} آیَۃُ الْکُرْسِی ایک ایک بارمرتے ہی داخلِ جنت ہو
{2} اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ
ترجمہ:میں مغفرت طلب کرتا ہوں اللہ عزوجل سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہےقائم رکھنے والا ہے اوراس کی بارگاہ میں توبہ کرتاہوں
تین تین بار، گناہ معاف ہوں  اگر چہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں
{3}تسبیح حضرت سیدتنا زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ’’سُبْحٰنَ اللہِ ‘‘تینتیس بار’’اَلْحَمْدُلِلہِ‘‘ تینتیس بار’’اَللہُ اَکْبَرُ‘‘ چونتیس بار، اخیر میں لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَہٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ترجمہ: اللہ عزوجل پاک ہے،سب خوبیاں اللہ عزوجل کے لیے ہیں، اللہ عزوجل سب سے  بڑا ہے، اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کے لیے         ہے بادشاہی اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
  ایک باراس دن تمام جہاں  میں کسی کاعمل اس کے برابر بلند نہ کیا جائے گا مگراس کا جو اس کے مثل پڑھے
{4}ماتھے پر دہنا ہاتھ رکھ کر بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنِّى الْهَمَّ وَ الْحُزْنَ ترجمہ:اللہ عزوجل کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ رحمن ورحیم ہے، اے اللہ!  عزوجل مجھ سے غم وملال دور فرما

نمازِ صبح وعصر کے بعد
{1} بغیر پاؤں  بدلے ،بغیر کلام کئے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُیُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍقَدِیْرٌ
 ترجمہ: اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اس کیلئے مُلک وحمد ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے،وہ زندہ کرتاہے اورموت دیتاہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے
 دس دس بارہر بلا وآفت وشیطان ومکروہات سے بچے ،گناہ معاف ہوں ،اس کے برابر کسی کی نیکیاں  نہ نکلیں
{2} اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِ ترجمہ:اے اللہ ! عزوجل مجھے دوزخ کی آگ سے بچا
 سات سات بار دوزخ دعا کرے کہ الٰہی اسے مجھ سے بچا
 نمازِ صبح کے بعد
{1} اَللّٰهُمَّ اکْفِنِیْ کُلَّ مُہِمٍّ مِّنْ حَیْثُ شِئْتَ وَ مِنْ اَیْنَ شِئْتَ حَسْبِیَ اللہُ لِدِیْنِیْ حَسْبِیَ اللہُ لِدُنْیَایَ حَسْبِیَ اللہُ لِمَآ اَہَمَّنِیْ حَسْبِیَ اللہُ لِمَنْۢ بَغٰی عَلَیَّ حَسْبِیَ اللہُ لِمَنْ حسَدَنِیْ حَسْبِیَ اللہُ لِمَنْ کَادَنِیْ بِسُوْۤ ءٍ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الْمَوْتِ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الْمَسْاَلَۃِ فِی الْقَبْرِ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الْمِیْزَانِ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الصِّرَاطِ حَسْبِیَ اللہُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
ترجمہ:اے اللہ عزوجل تو جیسے اور جہاں سے چاہے میرے ہر معاملے میں مجھے کفایت فرما،میرے دین کیلئے اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، میری دنیا کیلئے اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، میرےہر پریشان کن معاملے میں اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، مجھ پر سرکشی کرنے والے کیلئے اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، مجھ سے حسد کرنے والے کیلئے اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، جو مجھے نقصان پہنچانےکا ارادہ کرے اس کیلئے اللہ عزوجل مجھے کافی ہے،نزع کی تکالیف کیلئے اللہ عزوجل مجھے کافی ہے،      قبر میں سوالات کے وقت اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، میزانِ عمل کے وقت اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، پل صراط سے گزرتے وقت اللہ عزوجل مجھے کافی ہے، مجھے اللہ عزوجل کافی ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے
 ایک بار،یا تین بارہر مشکل آسان ہو،سب پریشانیاں  دور ہوں ،ایمان سلامت رہے،اللہ تعالیٰ ہر جگہ مدد فرمائے،دشمن برباد ہوں ،حاسد اپنی آگ میں  جلیں ،نزع آسان ہو،قبر میں  شاداں  ہو،نیکیوں  کا پلہ بھاری ہو،صراط پر سہل جاری ہو۔
 {2}بعد نماز صبح بغیر پاؤں  بدلے بیٹھا ہوا ذکر ِالٰہی میں  مشغول رہے یہاں  تک کہ آفتاب بلند ہو یعنی طلوعِ کنارۂ شمس کو بیس پچیس منٹ گزر جائیں اس وقت دو رکعت نماز ِ نفل پڑھے پورے حج و عمرہ کا ثواب لے کر پلٹے
نمازِ مغرب کے بعد
فرض پڑھ کر چھ رکعتیں  ایک ہی نیت سے، ہر دو رکعت پر اَلتَّحِیَّاتُ ودرُود ودُعا اور پہلی، تیسری، پانچویں  ’’سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ‘‘ سے شروع کرے،ان میں پہلی دو سنتِ مؤکدہ ہوں  گی،باقی چارنفل۔ یہ صلٰوۃِاَوَّابِین ہے اور اللہ اوّابین کیلئے غفور ہے
 شب میں (یعنی غروبِ شمس سے طلوعِ صبح تک جس وقت ہو)
{1}ایک مرتبہ  سورۂ       مُلک عذابِ قبر سے نجات ہے{2}ایک مرتبہ  سورۂ یس مغفرت ہے{3}  ایک مرتبہ سورۂ واقعہ  فاقہ سے امان ہے{4}  ایک مرتبہ سورۂ دخان  صبح اس حال میں  اُٹھے کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہو

بعد نمازِ عشاء
{1} اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا اَمَرْتَنَآ اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا ھُوَ اَھْلُہ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی رُوْحِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْاَرْوَاحِ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی جَسَدِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْاَجْسَادِ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی قَبْرِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْقُبُوْرِ صَلَّ اللہُ  عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ
ترجمہ: اے اللہ! عزوجل ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود نازل فرما جیسے تو نے ہمیں ان پر درود بھیجنے کا حکم دیا، اے اللہ! عزو جل ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت نازل فرما جیسے کہ وہ اسکے اہل ہیں، اے اللہ! عزو جل ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود نازل فرما جیسے کہ تو انکے لئے پسند فرماتا ہے، اے اللہ! عزوجل روحوں میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی روح  مبارک پر رحمت نازل فرما،اے اللہ! عزوجل اجساد میں ہمارے آقاحضرت محمد مصطفیٰصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِمبارک پر رحمت نازل فرما،اے اللہ! عزوجل قبروں میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قبر ِانور پر رحمت نازل فرما،اللہ عزوجل ہمارے     آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت نازل فرما
طاق بار جتنا نبھ سکے،حصولِ زیارت ِاقدس کے لئے اس سے بہتر صیغہ نہیں  مگر خالص تعظیم ِشانِ اقدس کے لئے پڑھے،اس نیت کو بھی جگہ نہ دے کہ مجھے زیارت عطا ہو،آگے ان کا کرم بے حد و انتہا ہے۔
فراق و وصل چہ خواہی رضائے دوست طلب        کہ حیف باشد ازو غیرِ او تمنائے
یعنی وصل و فراق سے کیا غرض!محبوب کی خوشنودی کا طالب ہو،دوست سے اس کے علاوہ کی تمناکرنا باعث افسوس ہے
مُنہ مدینہ طیبہ کی طرف ہو اور دل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی طرف، دست بستہ پڑھے،یہ تصور باندھے کہ روضۂ انور کے حضور حاضر ہوں  اور یقین جانے کہ حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں ،اس کی آواز سن رہے ہیں ،اس کے دل کے خطر وں پرمُطَّلِع ْہیں۔
{2} اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ
سُبْحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ اَبَدًا عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ
اَجْمَعِیْنَ اَللہُ اللہُ اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا غَوْثُ یَا غَوْثُ یَا غَوْثُ
 ترجمہ: اللہ عزوجلہے جس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں وہ آپ زندہ اور اَوروں کا قائم رکھنے والا، اللہعزوجل ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں بہت مہربان رحمت والا، اے اللہ!عزوجل تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاکی ہے تجھ کو، بے شک مجھ سے بے جا ہوا،  اے اللہ!عزوجل  دائمی درود وسلام اور برکتیں نازل فرما اُ   مّینبی پر اور ان کی آل اور تمام اصحاب پر، اللہ عزوجل ہے، اللہ عزوجل ہے، اللہ عزوجل ہے، اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں، اللہ عزوجل ان پر رحمت و سلامتی نازل فرمائے، اے فریاد رَس! اے فریاد رَس! اے فریاد رَس!
سو مرتبہ،گناہوں  کی مغفرت،آفاتِ دنیاوی واُخروی سے نَجات وصفاء ِقلب۔
سوتے وقت
{1} آيَةُ الْكُرْسِي شریف(1)  ایک بار۔
جب تک سوئے حفاظت ِالٰہی میں  رہے،اس کے گھر اور گرد کے گھروں  میں  چوری سے پناہ ہو،آسیب وجن کادخل نہ ہو
 {2}تسبیحِ حضر تِ زہرارضی اللہ تعالیٰ عنہ صبح  َنشاط پر اُٹھے اور فوائد بے شما
{3}’’ اَلْحَمْدُ‘‘ و ’’قُلْ‘‘ ایک ایک بار
{4} ابتدائےسورہ بقرہ  سے مُفْلِحُوْنَ تک
 الٓـمّٓۚ﴿۱﴾ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَۙ﴿۳﴾ وَالَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبْلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَؕ﴿۴﴾ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ﴿۵﴾(پ۱،البقرۃ ۱-۵)
ترجمۂ کنزالایمان :وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اسمیں ہدایت ہے ڈر والوں کووہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے
اورآ خر’’اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ‘‘سے ختم سورہ تک ان دونوں  کے فوا ئد بے شمار ہیں
اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوۡنَؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ۟ وَقَالُوۡا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا٭۫ غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الْمَصِیۡرُ﴿۲۸۵﴾ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوْ اَخْطَاۡنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیۡنَاۤ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖۚ وَاعْفُ عَنَّاٝ وَاغْفِرْ لَنَاٝ وَارْحَمْنَاٝ اَنۡتَ مَوْلٰىنَا فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۲۸۶﴾٪(پ۱،البقرۃ ۲۸۵-۲۸۶)        ترجمۂ کنزالایمان:رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے
{5} ’’ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ‘‘سے آخر’’سورہ کَہْف ‘‘ تک چار آیتیں شب میں  یا صبح جس وقت جاگنے کی نیت سے پڑھے آنکھ کھلے گی اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبْغُوۡنَ عَنْہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾ قُلۡ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا ﴿۱۰۹﴾ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صٰلِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کیلئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیںتم فرماؤ ظاہر صورتِ بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔(پ۱۶،الکہف۱۰۷۔۱۱۰)
{6}دونوں  کف ِدست پھیلا کر تینوں  ’’قُلْ‘‘ (3)ایک ایک بار پڑھ کر ان پر دم کرکرسر اور چہرہ اور سینے اور آگے پیچھے جہاں  تک ہاتھ پہنچیں  سارے بد ن پر پھیر لے،پھر دو بارہ سہ بارہ اسی طرح،ہر بلا سے محفوظ رہے گا
{7}سورۃ قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡن پر خاتمہ کرےاس کے بعد کلام کی حاجت ہو تو بات کر کے پھر پڑھ لے کہ اسی پر خاتمہ ہو گا  اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی
سوتے سے اٹھ کر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے جس نے ہمیں موت(نیند)کے بعد حیات (بیداری)عطا فرمائی اورہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے
قیامت میں  بھی اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی اللہ عز وجل کی حمد کرتا اٹھے گا۔
تنبیہ: اوپر سے یہاں  تک جتنی دعائیں  لکھی گئیں  ہر ایک کے اول وآخر درود شریف ضروری ہے
 تہجد
فرضِ عشاء پڑھنے کے بعدکچھ دیر سو رہے پھر شب میں  طلوعِ صبح سے پہلےجس وقت آنکھ کھلے اگر چہ رات کے نو بجے، یا جاڑوں  میں  پونے سات بجے عشاء  پڑھ کر سو رہے اور سات سواسات بجے آنکھ کھلے وہی وقت تہجد کا ہے ،وضو کر کے کم از کم دو رکعت پڑھ لے تہجد ہو گیا اور سنت آٹھ رکعت ہیں اور معمولِ مشائخ 12 رکعت، قرأت کااختیار ہے جو چاہے پڑھے ، اور بہتر یہ کہ جتنا قرآنِ مجید یاد ہو اس کی تلاوت ان رکعتوں  میں  کرے، اگر کل یاد ہو تو کم سے کم تین رات زیادہ سے زیاد ہ چالیس رات میں  ختم کرے، نہ یاد ہو تو ہر رکعت میں  تین تین بار سورۂ اخلاص کہ جتنی رکعتیں  پڑھے گا اتنے ختمِ قرآنِ مجیدکاثواب ملے گا۔
ذکر ِچہار ضربی
چار زانو بیٹھے،بائیں  زانو کی رگِ کیماس دہنے پاؤں  کے انگوٹھے اور اس کی برابر کی انگلی میں  دبا لے پھر سر جھکا کر بائیں  گھٹنے کے مُحاذی لاکر ’’لَا‘‘  کالام یہاں  سے شروع کرکے دہنے گھٹنے کے مُحاذات تک کھینچتا ہوا لے جائے ،اب یہاں  سے ’’اِلٰہَ‘‘ کا ہمزہ شروع کرکے لام کے بعد کا الف دہنے شانے تک کھینچتا لے جائے اور ’’ہَ‘‘ د ہنی طرف خوب منہ پھیر کے کہے،پھر وہاں  سے  ’’اِلَّا اللہُ‘‘بَقُوَّتِ دل پر ضرب کرے۔ سو بار، یا حسبِ قوت کم سے شروع کرے پھر حسبِ طاقت وفرصت بڑھاتا جائے ، بہتر یہ ہے کہ پانچ ہزار ضرب روزانہ تک پہنچائے، جب حرارت بڑھنے لگے ہرسوبار کے بعد ایک یا تین بار ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰۤی اٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہٖ وَسَلَّمَ‘‘ کہہ لے تسکین پائے گا، مگر ُمبتدی جب تک زنگ دور نہ ہو خالص حرارت کا      محتاج ہے یہ ذکر ایسے وقت ہو یاایسی جگہ ہو کہ رِیا نہ آئے، کسی نمازی، ذاکر یا مریض یا سوتے کو تشویش نہ ہو، اگر دیکھے کہ رِیا آتا ہے تو نہ چھوڑے اور خیالِ رِیا کو دفع کرے ، اللہ عزوجل کی طرف اس کے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے توسل سے رجوع لائے، تائب ہو۔ اِنْ شَآءَ اللہ ریا سے محفوظ رہے گا یا رِیا دفع ہوجائے گا۔
ذِ ْکر ِخفی
         دوزانو آنکھ بند کئے،زبان کو تالو سے جمائے کہ متحرک نہ ہو محض تصور سے کہ سانس کی آواز بھی نہ سنائی دے، ان پانچ طریقوں  سے جو طریقہ چاہے اختیار کر ے خواہ وقتاً فوقتاً پانچوں  برتے:
{1} سرجھکا کر ناف سے ’’لَا‘‘ کا لام نکال کر سر بتدریج اوپر اٹھاتا ہوا ’’اِلٰہَ‘‘ کی ’’ہَ‘‘ دماغ تک لے جائے اور معاً ’’اِلَّا اللہُ‘‘ کا پہلا ہمزہ وہاں  سے شروع کرکے اس کی ضرب ناف ،خواہ دل پر کرے ۔
{2} اسی طور پر  ’’لَا ۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ‘‘ اس میں  دوسرا جز ’’اِلَّا ہُوَ‘‘ ہوگا۔
{3} صرف ’’اِلَّا اللہُ‘‘ کو پہلا ہمزہ ناف سے اٹھا کر ’’ اِلَّا اَلْ‘‘ دماغ تک لے جائے اور معاً  ’’لَا ہ‘‘  وہاں سے اتار کر ناف یا دل پر ضرب کرے۔
{4} فقط ’’اَللہُ‘‘ پہلا ہمزہ ناف سے شروع کر کے ’’لَا‘‘ کو دماغ تک پہنچائے اور بدستور ’’ہُ‘‘ کی ضرب کرے۔
{5}محض ’’اللہُ‘‘ بسکونِ ہا پہلا ہمزہ ناف سے اٹھا کر ’’لام‘‘ دماغ تک اور ’’لَاہْ‘‘ کی ضرب۔ اسے سو بار سے شروع کر کے حسب ِ وسعت ہزاروں  تک پہنچائے اور ان پانچوں  میں  افضل پہلا طریقہ ہے، یہ طریقے اس درجہ مفید ہیں  کہ انہیں  اِخفا کرتے ہیں ، رُموز میں  لکھتے ہیں ، فقیر نے خاص اپنے برادرانِ طریقت کے لئے اسے عام کیا۔
پاس اَنفاس
         انہیں  پانچوں  طریقوں  سے جسے چاہے ہر سانس کی آمدورفت میں  کھڑے بیٹھے،چلتے پھرتے،وضو بے وضو بلکہ قضائے حاجت کے وقت بھی ملحوظ رکھے یہاں  تک کہ اس کی عادت پڑ جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے اب سوتے میں  بھی ہر سانس کے ساتھ ذکر جاری رہے گا۔
تصور ِشیخ
         خلوت میں  آوازوں  سے دور، رُو بمکانِ شیخ،اور وصال ہوگیا تو جس طرف مزارِ شیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے،محض خاموش،باادب ،بکمالِ خشوع صورتِ شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو اس کے حضور حاضر جانے اور یہ خیال دل میں  جمائے کہ سرکارِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ و التحیۃ سے انوار وفیوض شیخ کے قلب پر فائض ہو رہے ہیں ، میرا قلب قلبِ شیخ کے نیچے بحالت ِدَر ُ یوزہ گری  لگا ہوا ہے،اس میں  سے انوار وفیوض اُبل اُبل کر میرے دل میں  آرہے ہیں ،اس تصور کو بڑھائے یہاں  تک کہ جم جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے،اس کی انتہا پرصورت ِشیخ خود مُتَمَثِّل ہو کرمرید کے ساتھ رہے گی اور ہر کام میں  مدد کرے گی اور اس راہ میں  جو مشکل اسے پیش آئے گی اس کا حل بتائے گی

تنبیہ:
اذکارو اشغال میں مشغولی سے پہلے اگر قضاء نمازیں  یاروزے ہوں  ان کاادا کرنا جس قدر ممکن ہو نہایت ضرور ہے،جس پر فرض باقی ہو اس کے نفل واعمالِ مستحبہ کام نہیں  دیتے بلکہ قبول نہیں  ہوتے جب تک فرض ادا نہ کرلے۔اَذکارو اَشغال کے لئے تین بَدْرَقوں  (معاونین)کی ضرورت ہے تقلیل ِ طعام (کم کھانا) تقلیل ِ کلام (کم بولنا) تقلیل ِ مَنام(کم سونا)وَبِاللہِ التَّوْفِیْق
فقیر احمد رضا قادری غفر لہ
}ورحمۃ اللہ تعالی علیہ{
پنجم محرم الحرام ۱۳۳۸؁ ھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ابتدائی عاملین احباب کے لئے شروعاتی  ۹ چلے
پہلا چلہ صیغہ مقبول
اَلْمُسْتَغَاثُ اِلیٰ حَضْرَۃِاللّٰہِ تَعَالیٰ  اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ
برائے حصولِ توجہ آقائے دو جہاں سرورِ کائنات احمدِ مجتبی ٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سوا لاکھ مرتبہ ۴۰ یا ۶۰ دنوں میں پڑھ کر ختم کرنا ہے یہ کسی بھی جمعرات سے شروع کر سکتے ہیں،اس چلے میں نیت یہ کرنی ہے کہ میرا یہ درود  وسلام  نبی کریم روف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہِ ناز میں فرشتے پیش کر رہے ہیں اور اگر یہ تصورہو سکے تو بہت خوب کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ  وسلم خود سماعت کر رہے ہیں اور عنقریب اس بارگاہ عالی سے مجھ گناہ گار پر عنایت و بخشش  کا سلسلہ جاری ہوا چاہتا ہے اور  میرا سینہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھر گیا ہے
دوسرا چلہ بسم اللہ شریف
 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
عروج ماہ نو چندی جمعرات سے شروع کریں روزانہ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر  انیس سو ۱۹۰۰مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم چالیس روز مسلسل پڑھیں اول آخر درودِ غوثیہ ۱۱ بار اس چلے میں نیت یہ کرنی ہے کہ میں نے جو اس راہِ سلوک و عملیات کے میدان میں قدم رکھا ہے یہ اس کی بسم اللہ ہے اور آئندہ میں جو بھی اعمال و اشغال اوراد و وظائف کروں تو اِسی بسم اللہ کی برکت سے سب درست ہوں اور تکمیل پذیر ہوکہ شفاء شریف میں ہےحدیثِ پاک میں فرمایا ہر وہ کلام جس کی ابتداء اللہ کے ذکر اور مجھ پر درود سے نہ کی جائے وہ ہر بھلائی سے خالی ہو جاتا ہے ایک دوسری روایت ہے کہ ہر با مقصد کام جو اللہ کے ذکر اور مجھ پر درود سے شروع نہ کیا جائے  وہ ہر بھلائی سے خالی ہو جاتا ہے  ،پھر ان شاء اللہ بسم اللہ شریف کے بڑے چلیں بھی کرائے جائیں گے ان نو چلوں کے بعد


تیسرا چلہ درود تنجینا
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّد ًصَلوٰۃً تُنَجِّینَا بِھَا مِنْ جَمِیْعِ الْاَھْوَالِ وَالْاٰفَاتِ وَ تَقْضِیْ لَنَا بِھَا جَمیْعَ الْحَاجَاتِ وَ تُطَھِّرُنَا بِھَا مِنْ جَمِیْعِ السَّئِّآتِ وَ تَرْفَعُنَا بِھَا عِنْدَکَ اَعْلیَ الدَّرَجَاتِ وَ تُبَلِّغُنَا بِھَا اَقْصیَ الْغَا یَاتِ مِنْ جَمِیْعِ الْخَیْرَاتِ فِی الْحَیٰوۃِ  وَبَعْدَالْمَمَاتِ اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَئّ قَدِیْرْ     ً       ً
 نو چندی جمعرات سے شروع کریں بعد نماز عشاء تنہائی میں درود تنجینا  ۳۶۰ مرتبہ پڑھ کر چالیس دن چلہ مکمل کریں اس چلے میں درود  شریف کے اداب  بجا لاتے ہوئے نیت حصار و حفاظت از جملہ آفات و بلیات اور حلِّ مشکلات کی کرنی ہے ،چلے کی تکمیل کے بعد جب کوئی مشکل پیش آئے بلا تعداد کثرت سے ورد کریں گے تو ہر مشکل آسان ہو جائے گی ان شاء اللہ

چوتھا چلہ درود فضل عظیم
یَا ذَالْفَضْلِ الْعَظِیْمْ صَلِّی عَلٰی فَضْلِکَ الْعَظِیْمْ وَ رَحْمَتِکَ الْعَظِیْمْ وَ نِعْمَتِکَ الْعَظِیْمْ اَللّٰھُمَّ تَفَضَّلْ عَلَیْنَا بِفَضْلِکَ الْعَظِیْمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرۃ
نوچندی جمعرات سے شروع کریں روزانہ بعد نماز عشاء درود فضلِ عظیم ۳۶۰   مرتبہ پڑھ کر  چالیس دنوں کا چلہ مکمل کریں ،اس چلے میں درود شریف کے آداب کو بجا لاتے ہوئے نیت  حصولِ فضلِ خداوندی کی کرنی ہے کہ  سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل  رب قدیر کا فضل ہمیشہ میرے شامل حال ہو، میں جو کچھ بھی محنت مشقت اس راہ میں کروں تو  رب تعالی محض اپنے فضل سے تاثیر عطاء فرمائے اور مجھے کامیابیوں سے ہمکنار کرے آمین اس درود کی کثرت سے مال و دولت میں خوب اضافہ ہوتا ہے
پانچواں چلہ درود اسمِ اعظم

اَللّٰہُ رَبُّ مُحَمَّد ً صَلّیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَا
نَحْنُ عِبَادُ مُحَمَّد ً صَلّیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَا
کسی بھی نو چندی جمعرات سے شروع کریں روزانہ بعد نماز عشاء  درود اسمِ اعظم  کو ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھ کر چالیس دنوں کا چلہ مکمل کریں،درود شریف کے آداب کو بجا لاتے ہوئے اس چلے میں نیت ددعاء کی قبولیت کی کرنی ہے کہ میں جب کوئی عمل وظیفہ یا چلہ کروں یا کسی کےلئے دعاء کروں تو مستجاب و مقبول ہو آمین،جب کوئی مشکل پیش آئے یا کسی کے لئے دعاء کرنی ہو تو ایک ہزار پڑھ کر دعاء کریں
چھٹا چلہ صلوٰۃُ البیر
اَللّٰہْمَّ صَلِّ  عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلاَناَ مُحَمَّد  وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّد  صَلوٰۃً دَائِمَۃً مَّقْبُولۃً تُوءَدِّیْ عَنَّا حَقَّہُ الْعَظِیمْ
صلوۃ البیر کایہ چلہ کسی بھی نو چندی اتوار سے شروع کریں روانہ بعد نماز فجر ایک نششت میں ۵۰۰ مرتبہ  پڑھ کر چالیس دن کا چلہ مکمل کریں درود شریف کےآداب بجا لاتے ہوئے  اس چلے میں  نیت ترقی درجاتِ روحانی کی کریں یہ درود کا وہی صیغہ ہے جس کے برکات  دیکھ کر امام جزولی رحمہ اللہ نے درود شریف کے تمام تر مقبول صیغوں کو جمع کر کے مجموعہ دلائل الخیرات شریف ترتیب دی

ساتواں چلہ استغفار
آٹھواں چلہ آپ کو استغفار کا شروع کرنا ہے یہ کسی بھی دن سے شروع کر سکتے ہیں روزانہ کسی بھی نماز کے بعد۱۰۰۰ ،ایک ہزار مرتبہ    اَسْتَغفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَا اِلَہٰ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْم وَ اتُوْبُ اِلَیْہ ْ پڑھ کر چالیس دن کاچلہ مکمل کریں اس چلے میں اپنے ظاہری باطنی گناہوں سے تائب ہونے اور نفس امّارہ کے شر سے بچنے کی نیت کے ساتھ معرفتِ نفس کی بھی نیت کریں اور توجہ رکھیں اس استغفار میں اسمِ اعظم یا حی یا قیوم ہے

آٹھواں چلہ یا شیخ عبد القادر جیلانی شئاً للہ
ابتدائی طور پرچند مقبول درود شریف کےصیغوں سے فارغ ہونے کے بعد آپ کسی بھی نو چندی جمعرات سے روزانہ بعد نماز عشاء  یا شَیْخْ عَبْدُ الْقَادِرْ جِیْلَانِیْ شَیْئاً لِلہ  اول آخر درود غوثیہ ۱۱ مرتبہ کے ساتھ چالیس روز مسلسل ۱۰۰۰ مرتبہ  پڑھ کر ختم کریں  ، اس چلے میں نیت سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی مدد اور ان کی روحانی توجہات کی کریں تاکہ سلوک کی اس راہ میں شیاطین الانس والجن کے فریب سے بچے رہیں اور ساتھ ہی ہر طرح کی مشکل یا شیخ عبد القادر جیلانی شئاً للہ کے وظیفے کی برکت سے آسان ہو
نواں چلہ سورۃ یس شریف
نواں چلہ آپ سورہ یس کاکریں  گے کہ روزانہ بعد نماز فجر سات مرتبہ درود تنجینا پڑھ کر  تعوذ و تسمیہ کے ساتھ سورہ  یس سات مرتبہ اس طور پر پڑھیں گے کہ پہلے مبین پر ۷ مرتبہ سورۃ الفاتحہ دوسرے مبین پر سات مرتبہ سورۃ القریش تیسرے مبین پر ۷ مرتبہ سورۃ االکوثر چوتھے مبین پر ۷ مرتبہ سورۃ النصر پانچویں مبین پر ۷ مرتبہ سورۃ الاخلاص چھٹے مبین پر ۷ مرتبہ سورۃ الفلق ساتویں مبین پر ۷ مرتبہ سورۃ الناس  پڑھنا ہے اس طرح کل ۷ مرتبہ سورۃ یس پڑھ کر درود تنجینا ۷ مرتبہ پرھیں اور چالیس دنوں کا چلہ مکمل کریں اس چلے میں آپ نیت عملیات کے میدان میں یا راہِ سلوک میں فتح و نصرت اور حصار وحفاظت از شیاطین الانس والجن کی کریں گے  اس کے علاوہ جو سورۃ یس روزانہ شب ایک مرتبہ معمول ہے وہ بھی جاری رہے گا  
ان نو چلوں کو کرنے کے ساتھ ساتھ الوظیفۃ الکریمہ کی پابندی سے  آپ کے اندر  اس قدر صلاحیت ان شاء اللہ ضرور  پیدا ہو جائے گی کہ آپ ترک حیوانات جمالی و جلالی پرہیز کے ساتھ کوئی عمل با موکل مثلاً چہل اسماء و دعائے حیدری وچہل کاف و حزب البحر و دعائے سیفی یا اس قسم کے اعمال  کی ہمت جٹا سکیں اور ان شاء اللہ ہر عمل میں کامیاب ہوں گے اور روحانی ترقیوں کا سلسلہ خوب دراز ہوگا



سُوۡرَۃُ یٰسٓ مَکِّیَّۃٌ
 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
یٰسٓ ۚ﴿۱ وَ الۡقُرۡاٰنِ  الۡحَکِیۡمِ  ۙ﴿۲﴾اِنَّکَ  لَمِنَ  الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍؕ﴿۴ تَنۡزِیۡلَ الۡعَزِیۡزِ  الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۵ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ  اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۶ لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی  اَکۡثَرِہِمۡ  فَہُمۡ  لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷ اِنَّا جَعَلۡنَا فِیۡۤ  اَعۡنَاقِہِمۡ  اَغۡلٰلًا فَہِیَ  اِلَی  الۡاَذۡقَانِ فَہُمۡ  مُّقۡمَحُوۡنَ ﴿۸ وَ جَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۹ وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ  لَا  یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰ اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ  الذِّکۡرَ  وَ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَبَشِّرۡہُ  بِمَغۡفِرَۃٍ وَّ اَجۡرٍ  کَرِیۡمٍ ﴿۱۱ اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ ؕوَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ  فِیۡۤ   اِمَامٍ  مُّبِیۡنٍ ﴿۱۲ وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا  اَصۡحٰبَ الۡقَرۡیَۃِ ۘ اِذۡ جَآءَہَا  الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۚ۱۳
اِذۡ  اَرۡسَلۡنَاۤ  اِلَیۡہِمُ  اثۡنَیۡنِ  فَکَذَّبُوۡہُمَا فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوۡۤا اِنَّاۤ  اِلَیۡکُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۴ قَالُوۡا مَاۤ  اَنۡتُمۡ  اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۙ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ  الرَّحۡمٰنُ  مِنۡ شَیۡءٍ ۙ اِنۡ  اَنۡتُمۡ  اِلَّا تَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۵ قَالُوۡا رَبُّنَا یَعۡلَمُ  اِنَّاۤ  اِلَیۡکُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۶ وَ مَا عَلَیۡنَاۤ  اِلَّا  الۡبَلٰغُ  الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۷ قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ  اَلِیۡمٌ ﴿۱۸ قَالُوۡا طَآئِرُکُمۡ مَّعَکُمۡ ؕ اَئِنۡ ذُکِّرۡتُمۡ ؕ بَلۡ  اَنۡتُمۡ  قَوۡمٌ  مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۱۹ وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ  رَجُلٌ یَّسۡعٰی قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۲۰ اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسۡـَٔلُکُمۡ اَجۡرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۱وَ مَا لِیَ  لَاۤ  اَعۡبُدُ الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ وَ  اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۲ ءَاَتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ  اٰلِہَۃً اِنۡ یُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا  وَّ لَا  یُنۡقِذُوۡنِ ﴿ۚ۲۳ اِنِّیۡۤ   اِذًا  لَّفِیۡ  ضَلٰلٍ  مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴ اِنِّیۡۤ   اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ   فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵ قِیۡلَ ادۡخُلِ الۡجَنَّۃَ ؕ قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶ بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿۲۷ وَ مَاۤ  اَنۡزَلۡنَا عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنۡۢ  بَعۡدِہٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا کُنَّا مُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۸ اِنۡ کَانَتۡ  اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً  فَاِذَا ہُمۡ خٰمِدُوۡنَ ﴿۲۹ یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ  اِلَّا  کَانُوۡا بِہٖ  یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۰ اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ  اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ  اَنَّہُمۡ  اِلَیۡہِمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱ وَ اِنۡ کُلٌّ  لَّمَّا جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿٪۳۲ وَ اٰیَۃٌ  لَّہُمُ الۡاَرۡضُ الۡمَیۡتَۃُ ۚۖ اَحۡیَیۡنٰہَا وَ اَخۡرَجۡنَا مِنۡہَا حَبًّا فَمِنۡہُ  یَاۡکُلُوۡنَ ﴿۳۳ وَ جَعَلۡنَا فِیۡہَا جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ وَّ فَجَّرۡنَا فِیۡہَا مِنَ الۡعُیُوۡنِ ﴿ۙ۳۴ لِیَاۡکُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِہٖ ۙ وَ مَا عَمِلَتۡہُ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ اَفَلَا  یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۵ سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ وَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ  مِمَّا لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۶ وَ اٰیَۃٌ  لَّہُمُ الَّیۡلُ ۚۖ نَسۡلَخُ مِنۡہُ النَّہَارَ  فَاِذَا ہُمۡ  مُّظۡلِمُوۡنَ ﴿ۙ۳۷ وَ الشَّمۡسُ تَجۡرِیۡ لِمُسۡتَقَرٍّ  لَّہَا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ  الۡعَزِیۡزِ  الۡعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸ وَ الۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰہُ  مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالۡعُرۡجُوۡنِ  الۡقَدِیۡمِ ﴿۳۹ لَا الشَّمۡسُ یَنۡۢبَغِیۡ لَہَاۤ اَنۡ تُدۡرِکَ الۡقَمَرَ  وَ لَا الَّیۡلُ سَابِقُ النَّہَارِ ؕ وَ کُلٌّ فِیۡ  فَلَکٍ  یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿۴۰ وَ اٰیَۃٌ  لَّہُمۡ  اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّیَّتَہُمۡ  فِی الۡفُلۡکِ  الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿ۙ۴۱ وَ خَلَقۡنَا  لَہُمۡ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ مَا یَرۡکَبُوۡنَ ﴿۴۲ وَ  اِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡہُمۡ  فَلَا صَرِیۡخَ لَہُمۡ وَ لَا ہُمۡ  یُنۡقَذُوۡنَ ﴿ۙ۴۳ اِلَّا رَحۡمَۃً  مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۴۴ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّقُوۡا مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ مَا خَلۡفَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۵ وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ  مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا  کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴۶ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ  اَنۡفِقُوۡا  مِمَّا رَزَقَکُمُ  اللّٰہُ ۙ قَالَ  الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ  یَشَآءُ  اللّٰہُ   اَطۡعَمَہٗۤ ٭ۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ   اِلَّا  فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۷ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸ مَا یَنۡظُرُوۡنَ  اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً تَاۡخُذُہُمۡ  وَ ہُمۡ  یَخِصِّمُوۡنَ ﴿۴۹ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ تَوۡصِیَۃً  وَّ لَاۤ  اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ   یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۵۰ وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَاِذَا ہُمۡ مِّنَ الۡاَجۡدَاثِ  اِلٰی  رَبِّہِمۡ  یَنۡسِلُوۡنَ ﴿۵۱ قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَا مَنۡۢ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ٜۘہٰذَا  مَا  وَعَدَ  الرَّحۡمٰنُ وَ صَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۲ اِنۡ کَانَتۡ  اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً  فَاِذَا ہُمۡ جَمِیۡعٌ  لَّدَیۡنَا  مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۵۳ فَالۡیَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَیۡئًا وَّ لَا تُجۡزَوۡنَ  اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۴ اِنَّ  اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ  الۡیَوۡمَ فِیۡ  شُغُلٍ فٰکِہُوۡنَ ﴿ۚ۵۵ ہُمۡ وَ اَزۡوَاجُہُمۡ فِیۡ ظِلٰلٍ عَلَی الۡاَرَآئِکِ مُتَّکِـُٔوۡنَ ﴿۵۶ لَہُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ  وَّ لَہُمۡ مَّا یَدَّعُوۡنَ ﴿ۚۖ۵۷ سَلٰمٌ ۟ قَوۡلًا  مِّنۡ  رَّبٍّ  رَّحِیۡمٍ ﴿۵۸ وَ امۡتَازُوا الۡیَوۡمَ اَیُّہَاالۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۹ اَلَمۡ  اَعۡہَدۡ  اِلَیۡکُمۡ یٰبَنِیۡۤ  اٰدَمَ اَنۡ  لَّا تَعۡبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ  لَکُمۡ  عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۰ وَّ  اَنِ اعۡبُدُوۡنِیۡ ؕؔ ہٰذَا  صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱ وَ لَقَدۡ اَضَلَّ  مِنۡکُمۡ  جِبِلًّا کَثِیۡرًا ؕ اَفَلَمۡ  تَکُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۲ہٰذِہٖ  جَہَنَّمُ  الَّتِیۡ  کُنۡتُمۡ  تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۶۳﴾اِصۡلَوۡہَا الۡیَوۡمَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۴ اَلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤی اَفۡوَاہِہِمۡ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ تَشۡہَدُ اَرۡجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ  ﴿۶۵﴾وَ لَوۡ نَشَآءُ  لَطَمَسۡنَا عَلٰۤی  اَعۡیُنِہِمۡ فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۶۶ وَ لَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰہُمۡ عَلٰی مَکَانَتِہِمۡ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِیًّا وَّ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۶۷ وَ مَنۡ نُّعَمِّرۡہُ  نُنَکِّسۡہُ  فِی الۡخَلۡقِ ؕ اَفَلَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۸ وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ اِنۡ ہُوَ   اِلَّا  ذِکۡرٌ   وَّ  قُرۡاٰنٌ  مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۹ لِّیُنۡذِرَ مَنۡ کَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۰ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا خَلَقۡنَا لَہُمۡ مِّمَّا عَمِلَتۡ اَیۡدِیۡنَاۤ  اَنۡعَامًا فَہُمۡ  لَہَا مٰلِکُوۡنَ ﴿۷۱ وَ ذَلَّلۡنٰہَا لَہُمۡ  فَمِنۡہَا رَکُوۡبُہُمۡ  وَ  مِنۡہَا یَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۲ وَ لَہُمۡ  فِیۡہَا مَنَافِعُ  وَ  مَشَارِبُ ؕ اَفَلَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳ وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً  لَّعَلَّہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۷۴ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَہُمۡ ۙ وَ ہُمۡ   لَہُمۡ  جُنۡدٌ  مُّحۡضَرُوۡنَ ﴿۷۵ فَلَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّا نَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ  وَ مَا  یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۶ اَوَ لَمۡ یَرَ الۡاِنۡسَانُ  اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ  فَاِذَا ہُوَ  خَصِیۡمٌ  مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلۡقَہٗ ؕ قَالَ مَنۡ  یُّحۡیِ  الۡعِظَامَ  وَ  ہِیَ  رَمِیۡمٌ ﴿۷۸ قُلۡ یُحۡیِیۡہَا الَّذِیۡۤ  اَنۡشَاَہَاۤ  اَوَّلَ  مَرَّۃٍ ؕ وَ  ہُوَ  بِکُلِّ  خَلۡقٍ عَلِیۡمُۨ  ﴿ۙ۷۹ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا  فَاِذَاۤ  اَنۡتُمۡ مِّنۡہُ  تُوۡقِدُوۡنَ ﴿۸۰ اَوَ لَیۡسَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی  اَنۡ  یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ ؕبَلٰی ٭ وَ ہُوَ  الۡخَلّٰقُ  الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۱ اِنَّمَاۤ  اَمۡرُہٗۤ   اِذَاۤ   اَرَادَ  شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ  لَہٗ کُنۡ  فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲ فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ  تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳

سُوۡرَۃُ الدُّخَانِ مَکِّیَّۃٌ
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
حٰمٓ ﴿ۚۛ۱ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲ اِنَّاۤ  اَنۡزَلۡنٰہُ  فِیۡ  لَیۡلَۃٍ  مُّبٰرَکَۃٍ  اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳ فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ  اَمۡرٍ  حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴ اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ ۚ﴿۵ رَحۡمَۃً  مِّنۡ  رَّبِّکَ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ۙ﴿۶
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا  ۘ اِنۡ  کُنۡتُمۡ  مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۷ لَاۤ  اِلٰہَ  اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ رَبُّکُمۡ  وَ رَبُّ اٰبَآئِکُمُ  الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸ بَلۡ  ہُمۡ  فِیۡ  شَکٍّ  یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿۹ فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾یَّغۡشَی النَّاسَ ؕ ہٰذَا  عَذَابٌ  اَلِیۡمٌ ﴿۱۱ رَبَّنَا  اکۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ  اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲ اَنّٰی لَہُمُ الذِّکۡرٰی وَ قَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۳
ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡہُ  وَ قَالُوۡا مُعَلَّمٌ  مَّجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۱۴ اِنَّا کَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِیۡلًا  اِنَّکُمۡ عَآئِدُوۡنَ ﴿ۘ۱۵ یَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَۃَ  الۡکُبۡرٰی ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿۱۶ وَ لَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَہُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَ جَآءَہُمۡ  رَسُوۡلٌ  کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷
اَنۡ  اَدُّوۡۤا  اِلَیَّ  عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ  لَکُمۡ رَسُوۡلٌ  اَمِیۡنٌ ﴿ۙ۱۸ وَّ اَنۡ  لَّا تَعۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ ۚ اِنِّیۡۤ  اٰتِیۡکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۱۹ وَ اِنِّیۡ  عُذۡتُ بِرَبِّیۡ  وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ ﴿۫۲۰ وَ  اِنۡ  لَّمۡ  تُؤۡمِنُوۡا  لِیۡ  فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱ فَدَعَا رَبَّہٗۤ  اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ  قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲ فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳ 
وَ اتۡرُکِ  الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴ کَمۡ  تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ  وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵ وَّ  زُرُوۡعٍ  وَّ  مَقَامٍ  کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۲۶ وَّ  نَعۡمَۃٍ  کَانُوۡا فِیۡہَا  فٰکِہِیۡنَ ﴿ۙ۲۷ کَذٰلِکَ ۟ وَ  اَوۡرَثۡنٰہَا قَوۡمًا  اٰخَرِیۡنَ ﴿۲۸ فَمَا بَکَتۡ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ  وَ الۡاَرۡضُ وَ مَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ ﴿۲۹ وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ  مِنَ الۡعَذَابِ  الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۱ وَ لَقَدِ  اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ  مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳ اِنَّ  ہٰۤؤُلَآءِ  لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴ اِنۡ ہِیَ  اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰی وَ مَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِیۡنَ ﴿۳۵ فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۶ اَہُمۡ خَیۡرٌ  اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ ۙ وَّ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ ۫ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۷ وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸ مَا خَلَقۡنٰہُمَاۤ  اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ  لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹
اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ مِیۡقَاتُہُمۡ  اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۴۰ یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ مَوۡلًی عَنۡ مَّوۡلًی شَیۡئًا وَّ لَا  ہُمۡ  یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۴۲ اِنَّ  شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ ﴿ۙ۴۳ طَعَامُ  الۡاَثِیۡمِ ﴿ۖۛۚ۴۴﴾کَالۡمُہۡلِ ۚۛ یَغۡلِیۡ  فِی الۡبُطُوۡنِ ﴿ۙ۴۵ کَغَلۡیِ  الۡحَمِیۡمِ ﴿۴۶ خُذُوۡہُ فَاعۡتِلُوۡہُ  اِلٰی سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ ﴿٭ۖ۴۷ ثُمَّ صُبُّوۡا فَوۡقَ رَاۡسِہٖ  مِنۡ عَذَابِ الۡحَمِیۡمِ ﴿ؕ۴۸ ذُقۡ ۚۙ  اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ  الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹ اِنَّ ہٰذَا مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ  تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰ اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ  مَقَامٍ  اَمِیۡنٍ ﴿ۙ۵۱ فِیۡ  جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۚۙ۵۲﴾ یَّلۡبَسُوۡنَ مِنۡ سُنۡدُسٍ وَّ اِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿ۚۙ۵۳ کَذٰلِکَ ۟ وَ  زَوَّجۡنٰہُمۡ  بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿ؕ۵۴ یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ  اٰمِنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵ لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا الۡمَوۡتَ  اِلَّا الۡمَوۡتَۃَ الۡاُوۡلٰی ۚ وَ وَقٰہُمۡ  عَذَابَ  الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۵۶ فَضۡلًا  مِّنۡ  رَّبِّکَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۵۷ فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ  بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸ فَارۡتَقِبۡ  اِنَّہُمۡ   مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿۵۹

سُوۡرَۃُ  الۡوَاقِعَۃِ  مَکِّیَّۃٌ
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱ لَیۡسَ  لِوَقۡعَتِہَا  کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲ خَافِضَۃٌ  رَّافِعَۃٌ ۙ﴿۳ اِذَا  رُجَّتِ الۡاَرۡضُ  رَجًّا ۙ﴿۴ وَّ  بُسَّتِ الۡجِبَالُ  بَسًّا ۙ﴿۵ فَکَانَتۡ ہَبَآءً  مُّنۡۢبَثًّا ۙ﴿۶ وَّ کُنۡتُمۡ  اَزۡوَاجًا  ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷ فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ  اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸ وَ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ۬ۙ مَاۤ  اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ؕ﴿۹ وَ السّٰبِقُوۡنَ  السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰ اُولٰٓئِکَ  الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱ فِیۡ  جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۱۲ ثُلَّۃٌ  مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۱۳ وَ قَلِیۡلٌ  مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۱۴ عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵ مُّتَّکِـِٕیۡنَ عَلَیۡہَا مُتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۱۶ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ  وِلۡدَانٌ   مُّخَلَّدُوۡنَ ﴿ۙ۱۷ بِاَکۡوَابٍ وَّ اَبَارِیۡقَ ۬ۙ وَ کَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍ ﴿ۙ۱۸ لَّا  یُصَدَّعُوۡنَ عَنۡہَا وَ لَا  یُنۡزِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۹ وَ فَاکِہَۃٍ   مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۰ وَ  لَحۡمِ  طَیۡرٍ  مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿ؕ۲۱ وَ حُوۡرٌ عِیۡنٌ ﴿ۙ۲۲ کَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤَ  الۡمَکۡنُوۡنِ ﴿ۚ۲۳ جَزَآءًۢ  بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۴ لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا  وَّ لَا  تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵ اِلَّا  قِیۡلًا  سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿۲۶ وَ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ۬ۙ مَاۤ  اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۲۷ فِیۡ  سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۸ وَّ  طَلۡحٍ  مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۹ وَّ ظِلٍّ  مَّمۡدُوۡدٍ ﴿ۙ۳۰ وَّ مَآءٍ  مَّسۡکُوۡبٍ ﴿ۙ۳۱ وَّ  فَاکِہَۃٍ   کَثِیۡرَۃٍ ﴿ۙ۳۲ لَّا مَقۡطُوۡعَۃٍ  وَّ لَا  مَمۡنُوۡعَۃٍ ﴿ۙ۳۳ وَّ فُرُشٍ مَّرۡفُوۡعَۃٍ ﴿ؕ۳۴ اِنَّاۤ  اَنۡشَاۡنٰہُنَّ  اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵ فَجَعَلۡنٰہُنَّ  اَبۡکَارًا ﴿ۙ۳۶ عُرُبًا  اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۷ لِّاَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۳۸ ثُلَّۃٌ  مِّنَ  الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۳۹ وَ ثُلَّۃٌ  مِّنَ  الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۴۰ وَ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ۬ۙ مَاۤ  اَصۡحٰبُ  الشِّمَالِ ﴿ؕ۴۱ فِیۡ  سَمُوۡمٍ  وَّ  حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۴۲ وَّ ظِلٍّ  مِّنۡ  یَّحۡمُوۡمٍ ﴿ۙ۴۳ لَّا  بَارِدٍ  وَّ  لَا کَرِیۡمٍ ﴿۴۴ اِنَّہُمۡ  کَانُوۡا  قَبۡلَ  ذٰلِکَ  مُتۡرَفِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۵ وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶ وَ کَانُوۡا یَقُوۡلُوۡنَ ۬ۙ  اَئِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا  لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۴۷ اَوَ  اٰبَآؤُنَا  الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۴۸ قُلۡ  اِنَّ الۡاَوَّلِیۡنَ  وَ  الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۹ لَمَجۡمُوۡعُوۡنَ ۬ۙ اِلٰی مِیۡقَاتِ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۵۰ ثُمَّ  اِنَّکُمۡ  اَیُّہَا الضَّآلُّوۡنَ الۡمُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۙ۵۱ لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ  مِّنۡ  زَقُّوۡمٍ ﴿ۙ۵۲ فَمَالِـُٔوۡنَ  مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ۚ۵۳ فَشٰرِبُوۡنَ عَلَیۡہِ مِنَ الۡحَمِیۡمِ ﴿ۚ۵۴ فَشٰرِبُوۡنَ شُرۡبَ الۡہِیۡمِ ﴿ؕ۵۵ ہٰذَا  نُزُلُہُمۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۵۶ نَحۡنُ خَلَقۡنٰکُمۡ  فَلَوۡ لَا تُصَدِّقُوۡنَ ﴿۵۷ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ ﴿ؕ۵۸ ءَاَنۡتُمۡ تَخۡلُقُوۡنَہٗۤ  اَمۡ  نَحۡنُ  الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿۵۹ نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰ عَلٰۤی  اَنۡ نُّبَدِّلَ  اَمۡثَالَکُمۡ وَ نُنۡشِئَکُمۡ  فِیۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۱ وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَۃَ  الۡاُوۡلٰی فَلَوۡ لَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۶۲ اَفَرَءَیۡتُمۡ  مَّا  تَحۡرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَہٗۤ  اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴ لَوۡ نَشَآءُ  لَجَعَلۡنٰہُ  حُطَامًا فَظَلۡتُمۡ تَفَکَّہُوۡنَ ﴿۶۵ اِنَّا  لَمُغۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۶۶ بَلۡ  نَحۡنُ  مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴿۶۷ اَفَرَءَیۡتُمُ  الۡمَآءَ  الَّذِیۡ تَشۡرَبُوۡنَ ﴿ؕ۶۸ ءَاَنۡتُمۡ  اَنۡزَلۡتُمُوۡہُ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ ﴿۶۹ لَوۡ نَشَآءُ  جَعَلۡنٰہُ  اُجَاجًا فَلَوۡ لَا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۰ اَفَرَءَیۡتُمُ النَّارَ الَّتِیۡ تُوۡرُوۡنَ ﴿ؕ۷۱ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡشَاۡتُمۡ شَجَرَتَہَاۤ  اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡشِـُٔوۡنَ ﴿۷۲ نَحۡنُ جَعَلۡنٰہَا تَذۡکِرَۃً  وَّ مَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِیۡنَ ﴿ۚ۷۳ فَسَبِّحۡ  بِاسۡمِ  رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ﴿۷۴ فَلَاۤ   اُقۡسِمُ  بِمَوٰقِعِ  النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵ وَ  اِنَّہٗ  لَقَسَمٌ  لَّوۡ  تَعۡلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶ اِنَّہٗ   لَقُرۡاٰنٌ   کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷ فِیۡ  کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸ لَّا  یَمَسُّہٗۤ  اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹ تَنۡزِیۡلٌ  مِّنۡ  رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰ اَفَبِہٰذَا  الۡحَدِیۡثِ  اَنۡتُمۡ  مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱ وَ تَجۡعَلُوۡنَ  رِزۡقَکُمۡ  اَنَّکُمۡ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۸۲ فَلَوۡ لَاۤ   اِذَا  بَلَغَتِ  الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳ وَ اَنۡتُمۡ  حِیۡنَئِذٍ  تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴
وَ  نَحۡنُ  اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ  وَ لٰکِنۡ لَّا  تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵ فَلَوۡ لَاۤ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ  غَیۡرَ  مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶ تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۸۷ فَاَمَّاۤ  اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸ فَرَوۡحٌ  وَّ  رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹ وَ اَمَّاۤ  اِنۡ  کَانَ مِنۡ  اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰ فَسَلٰمٌ  لَّکَ مِنۡ  اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۹۱ وَ اَمَّاۤ   اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳ وَّ تَصۡلِیَۃُ  جَحِیۡمٍ ﴿۹۴ اِنَّ ہٰذَا  لَہُوَ  حَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿ۚ۹۵ فَسَبِّحۡ  بِاسۡمِ  رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿۹۶
سُوۡرَۃُ  الۡمُلۡکِ مَکِّیَّۃٌ
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ  بِیَدِہِ  الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ  شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱ الَّذِیۡ  خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ  اَیُّکُمۡ  اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ
الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ  خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ  تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ  الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ  تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳ ثُمَّ  ارۡجِعِ  الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ  یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ  الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ ﴿۴ وَ لَقَدۡ  زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَ جَعَلۡنٰہَا  رُجُوۡمًا  لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵ وَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا  بِرَبِّہِمۡ  عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۶ اِذَاۤ  اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا  لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ  تَفُوۡرُ ۙ﴿۷
تَکَادُ  تَمَیَّزُ مِنَ  الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ  اُلۡقِیَ فِیۡہَا  فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ  اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ  نَذِیۡرٌ ﴿۸ قَالُوۡا  بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا  نَذِیۡرٌ ۬ۙ  فَکَذَّبۡنَا وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ  مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنۡ  اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹ وَ قَالُوۡا  لَوۡ  کُنَّا نَسۡمَعُ  اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ   اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ فَسُحۡقًا  لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۱ اِنَّ  الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ  وَّ  اَجۡرٌ  کَبِیۡرٌ ﴿۱۲ وَ اَسِرُّوۡا  قَوۡلَکُمۡ  اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ  عَلِیۡمٌۢ  بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳ اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۴
ہُوَ  الَّذِیۡ جَعَلَ  لَکُمُ  الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِیۡ  مَنَاکِبِہَا وَ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِہٖ ؕ وَ  اِلَیۡہِ  النُّشُوۡرُ ﴿۱۵ ءَاَمِنۡتُمۡ  مَّنۡ  فِی السَّمَآءِ  اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمُ  الۡاَرۡضَ فَاِذَا ہِیَ  تَمُوۡرُ ﴿ۙ۱۶ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ  اَنۡ یُّرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ؕ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ  کَیۡفَ نَذِیۡرِ ﴿۱۷ وَ لَقَدۡ  کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۱۸ اَوَ لَمۡ  یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ ؔۘؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ  اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ  بِکُلِّ  شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ ﴿۱۹
اَمَّنۡ  ہٰذَا  الَّذِیۡ  ہُوَ جُنۡدٌ لَّکُمۡ یَنۡصُرُکُمۡ  مِّنۡ  دُوۡنِ  الرَّحۡمٰنِ ؕ اِنِ
الۡکٰفِرُوۡنَ  اِلَّا  فِیۡ  غُرُوۡرٍ ﴿ۚ۲۰ اَمَّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ یَرۡزُقُکُمۡ  اِنۡ  اَمۡسَکَ رِزۡقَہٗ ۚ بَلۡ لَّجُّوۡا فِیۡ عُتُوٍّ  وَّ نُفُوۡرٍ ﴿۲۱ اَفَمَنۡ یَّمۡشِیۡ مُکِبًّا عَلٰی وَجۡہِہٖۤ  اَہۡدٰۤی  اَمَّنۡ  یَّمۡشِیۡ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۲ قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡۤ  اَنۡشَاَکُمۡ وَ جَعَلَ  لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا  تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۳ قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵ قُلۡ  اِنَّمَا  الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪ وَ  اِنَّمَاۤ  اَنَا نَذِیۡرٌ  مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶ فَلَمَّا رَاَوۡہُ   زُلۡفَۃً  سِیۡٓـَٔتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قِیۡلَ ہٰذَا  الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ  تَدَّعُوۡنَ ﴿۲۷ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ  اِنۡ  اَہۡلَکَنِیَ  اللّٰہُ  وَ مَنۡ مَّعِیَ  اَوۡ  رَحِمَنَا ۙ فَمَنۡ  یُّجِیۡرُ الۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۸
قُلۡ  ہُوَ الرَّحۡمٰنُ  اٰمَنَّا بِہٖ  وَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ  فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۹ قُلۡ  اَرَءَیۡتُمۡ  اِنۡ  اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ ﴿٪۳۰


شجرہ حضراتِ مشائخ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ
رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین
یاالہٰی رحم فرما مصطفی کے واسِطے                                
                        یارسول اللہ کرم کیجیے خدا کے واسِطے
مشکلیں حل کر شہِ مشکل کشا کے واسِطے                                
                        کر بلائیں رد شہید کربلا کے واسِطے
سیِّدِ سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے                
                        علم حق دے باقر علم ہُدٰی کے واسِطے
صدقِ صادِق کا تَصَدُّق صادِقُ الاسلام کر                        
                        بے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسِطے
بہر معروف و سری معروف دے بیخود سری                
                        جُندِ حق میں گِن جنید باصَفا کے واسِطے
بہر شبلی شیر حق دُنیا کے کتوں سے بچا                        
                        ایک کا رکھ عبد واحِد بے رِیا کے واسِطے
بُوالفَرَح کا صدقہ کر غم کو فَرَح دے حُسن و سعد                
                        بُو الحسن اور بُوسعید سعد زا کے واسِطے
قادِری کر قادِری رکھ قادِریوں میں اُٹھا                        
                        قدرِ عبدُالقادِرِ قدرت نُما کے واسِطے
اَحْسَنَ اللہُ لَہٗ رِزْقاً سے دے رزقِ حَسن                
                        بندہ  رزّاق تاجُ الاصفیاء کے واسِطے
نصراَبی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ                
                        دے حیاتِ دین مُحی جانفزا کے واسِطے
طُورِ عِرفان و عُلُوّ و حمد و حسنٰی و بَہا                        
                        دے علی موسیٰ حسن احمد بہا کے واسِطے
بہر ابراھیم مجھ پر نارِ غم گلزار کر                                
                        بھیک دے داتا بھکاری بادشاہ کے واسِطے
خانہ دل کو ضیاء دے رُوئے ایماں کو جمال                        
                        شہ ضیاء مولیٰ جمال الاولیاء کے واسِطے
دے محمد کے لیے روزی کر احمد کے لیے                        
                        خوانِ فضل اللہ سے حصہ گدا کے واسِطے
دِین ودُنیاکے مجھے بَرَکات دے بَرَکات سے                        
                        عشقِ حق دے عشقی عشقِ اِنتِمَاکے واسِطے
حُبِّ اہلِ بیت دے آلِ محمد کے لیے                        
                        کر شہید عشق، حمزہ پیشوا کے واسِطے
دِل کو اچھا تن کو ستھر اجان کو پُر نُور کر                        
                        اچھے پیارے شمسِ دیں بدرُ العُلٰی کے واسِطے
دو جہاں میں خادِم آلِ رسولُ اللہ کر                        
                        حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسِطے
نور ِ جاں نورِ ایماں نور و قبر حشر دے
بوالحسین احمدِ نوری ضیاء کے واسطے
کر عطا احمد رضائے احمد مرسل مجھے                        
                        میرے مولیٰ حضرتِ احمد رضا کے واسِطے
حامد و محمود حماد و احمد کر مجھے                        
                        میرے مولا حضرتِ حامد رضا  کے واسِطے

سائہ جملہ مشائخ یا خدا ہم پر رہے
رجم فرما آل رحمن مصطفے کے واسطے

ائے خدا اختر رضا کو چرخ پر اسلام کے
 رکھ درخشاں ہر گھری اپنی رضا کے واسطے
        
                صدقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین عز، علم و عمل                
                        عفو و عرفاں عافیت اِس بے نَوا کے واسِطے

طلسمی انگوٹھی و لوح شرفِ آفتاب
شرفِ آفتاب کا وقت پورے سال میں ایک مرتبہ آتا ہے نقوش و تعویذات کے لئے حد درجہ موثر اور نہایت با قوت وقت ہے،  اس سال ہمارے یہاں لوحِ شرفِ آفتاب کے ساتھ طلسمی انگوٹھی کے نقوش بھی تیار کئے گئے ہیں یہ نقوش چاندی کے پانچ پتروں پر کندہ ہیں ایک پر نقش تسخیر خلق دوسرے پر خاتم شرف آفتاب تیسرے پر طلسم شرف آفتاب چوتھے اور پانچوے پر دعائے تسخیر خلق کندہ ہے ان پانچ پتروں کو چاندی کی انگوٹھی میں رکھ کر اوپر سے دم شدہ اصلی یمنی عقیق جڑ دیا جائےگا یہ انگوٹھی حاجتمندوں کی انگلیوں کی سائز کے مطابق ہی تیار کی جائے گی اسی طرح  لوحِ شرفِ آفتا ب  بھی کاغذ پر زعفران سے  وقتِ مقررہ پر تیار کیا گیا ہے یہ لوح اور انگوٹھی ہر اس شخص کے لئے ایک روحانی تحفہ ہے جو تسخیر خلائق یا عوام الناس میں مقبول ہونا چاہتا ہے، جسے سیاست میں نمایا کامیابی درکا ہے ،جو اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے،جومقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہونا چاہتا ہے ،جو شہرت عزت اور رعب و دبدبہ کا متمنی ہے ، جو دشمنوں پر غالب آنا چاہتا ہو ان سب حضرات و خواتین کے لئے لوح شمس یاطلسمی انگو ٹھی  لاجواب ہے