Tuesday, April 28, 2020

Tulu e Suraiyah Wali Hadees Ka Mauzoo Peshangoi Nahi طلوع ثریا والی حدیث کا موضوع پیشن گوئی نہیں


از۔صوفی محمد عمران رضوی القادری
طلوع ثریا والی حدیث  کا موضوع پیشن گوئی نہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
ایک خبر بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ ۱۲ مئی کو کرونا وائرس کا خاتمہ ہو جائےگا اوریہ بات بڑی قوت کے ساتھ مسندِ احمد کی حدیث کے حوالے سے کہی جا رہی ہے جس حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے ما طلع النجم صباحا قط و تقوم عاھۃ الا رفعت عنھم او خفت کہ جب کبھی صبح کے وقت کے وقت ستارہ یعنی ثریا طلوع ہوتا ہے اور کوئی آفت موجود ہوتی ہے تو وہ یا تو ختم ہو جاتی ہے یا کم ہو جاتی ہے [مسند احمد ]  
         جب کہ اسی مسند احمد کے اندر ایک دوسری حدیث بھی ہے جس کے اندر بھی عاھۃ [آفت] کا لفظ ہے وہ حدیث یہ ہے حضرت عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے پھلوں کے فروخت کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  "عاھۃ" یعنی آفت کے ختم ہونے تک  پھلوں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا  میں نے کہا کب تک تو انہوں نے کہا ثریا کے طلوع ہونے تک [مسند احمد]
دونو ں حدیثوں کے اجتماعی مطالعے سے واضح ہو تا ہے کہ عاھۃ یعنی آفت کے ختم ہونے کی بات پھلوں کے تعلق سے کی گئی  جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم شریف کی شرح میں  فرمایا کہ "اس سے مراد وہ بیماری ہے جو کھیت اور پھل وغیرہ میں لگ جاتی ہے اور اسے خراب کر دیتی ہے "
 علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی رحمہ اللہ عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ والنجم میں و قسم کے لئے ہے اور النجم سے مراد ثریا ہے یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے اور عرب ثریا کو النجم کہتے ہیں کیوں کہ وہ طلوع ہوتا ہے اور ہر طلوع ہونے والا نجم ہے  ]عمدۃ القاری[
فرمایا النجم سے ثریا مراد لینا اس لئے مناسب ہے کہ یہ آسمان کے ستاروں میں سب سے زیادہ روشن ہے اور سب سے زیادہ واضح ہےاور ہمارے نبی سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرتِ معجزات اور دلائل کے اعتبار سے نبیوں میں سب سے زیادہ روشن  اور واضح ہیں ،نیز خریف کے اواخر میں جب عشاء کے وقت ثریا کا ظہور ہوتا ہے تو زمین سے پھلوں کی آفت دور ہو جاتی ہے اور پھل پک جاتے ہیں اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو دلوں کی بیماریاں دور ہو گئیں اور ایمان و عرفان کے پھل پک کر تیار ہو گئے اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے النجم کی قسم کھائی جس کا معنیٰ ثریا ہے ]تبیان القرآن[آیت والنجم اذا ھوی کا ترجمہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے یوں کیا " اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے" سبحان اللہ کیسا خوبصورت تفسیری ترجمہ ہے 
طلوع ِ ثریا والی حدیث اور ستاروں کی تاثیر
ایک عام انسان جب یہ حدیث اس خاص پیرایہ بیان میں سنے گا  جس طرز و طریقے سے بیان کیا جا رہا ہے اس سے ممکن ہے اس کے دل میں یہ بات گھر کرے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ ۱۲مئی تک یہ وبا ختم ہوجائے گی اور یہ ثریا کےطلوع ہونے سے ہوگا تو اس سے عام ذہن میں دو خرابی واقع ہوں گی ایک یہ کہ اگر مقررہ تاریخ کو وبا ء ختم نا ہوئی تو احادیث پر ایمان متزلزل ہوگا اور دوسرا نقد یہ کہ  عام انسان کے ذہن میں ستاروں کے بذاتِ خود موثر ہونے کا فاسد خیال گردش کرے گا تو اس سے پہلے کہ ایسا خیال آئے بخاری و مسلم کی مشہور حدیث کا مطالعہ کیجئے  حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی اس وقت رات کی بارش کا اثر باقی تھا ،نماز سے فارغ ہو کر آپ حاضرین کے جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا صحابہ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہےآپ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں بعض کی صبح ایمان پر ہوئی اور بعض کی صبح کفر پر ہوئی جس نے کہا ہم پر اللہ کے فضل سے بارش ہوئی اس نے ستاروں کا انکار کیا اور مجھ پر ایمان رکھا  اور جس نے کہا فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو اس نے میرا کفر کیا اور ستاروں پر ایمان رکھا  [مسلم،کتاب الایمان]
اب طلوع ِ ثریا والی حدیث اور بارش والی حدیث کا اجتماعی مطالعہ کیجئے تو   پتہ چلے گا کہ  طلوعِ ثریا والی حدیث میں معاذ اللہ ستاروں کی تاثیریا  نجوم کے احکام کی بات نہیں کی گئی کہ جب وہ طلوع ہوگا تو [معاذ اللہ] اس کی وجہ سے عاھۃ ختم ہو جائے گی بلکہ طلوع ثریا کو پیمانہ وقت کے طور پر ارشاد فرمایا   جیسے شمس و قمر  کوقرآن میں حساب کا آلہ قرار دیا  ،  فرمایا اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ سورج اور چاند حساب سے ہیں کہ تقدیرِ معیّن کے ساتھ اپنے بروج و منازل میں سیر کرتے ہیں اور اس میں خَلق کے لئے منافع ہیں ، اوقات کے حساب ، سالوں اور مہینوں کی شمار  انہیں پر ہے  [کنزالایمان] ٹھیک اسی طرح اہل عرب ثریا کے طلوع کو سخت شدید گرمی کی علامت  سمجھتے ہیں اور اسی علامت اور وقت کا ذکر مسندِ احمد کی حدیث میں ہے کیوں کہ جب گرمی شدت سے گرتی ہے تو پھل یا کھجوریں ٹھیک طرح پک جاتی ہیں 
 طلوعِ ثیریا والی حدیث کا موضوع  علمِ نجوم نہیں علمِ ہیئت ہے
یہ بات قابلِ غور ہے کہ طلوعِ ثریا والی حدیث کا تعلق علمِ ہیئت [Astronomy]سے ہے نا کہ علم ِ نجوم [Astrology]سے   علم نجوم پیش گوئیPrediction پر مبنی علم ہے جب کہ علم ہیئت کا  تعلق پیشن گوئی سے نہیں علم ہیئت Astronomyوہ علم ہے جسے فلکیات کا علم بھی کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ ستاروں ،سیاروں اور کہکشاوں  وغیرہ کی تخلیق ،عمر،حرکات،باہمی فاصلوں،جسامت،کثافت،درجہ حرارت،ایام و سال کی مدت ،حرکت کی سمت،اجزائے ترکیبیہ اور عناصر وغیرہ پہچانے جاتے ہیں  اس فن کے ذریعہ اس عالم کے احوالِ عجیبہ ،حسن ترتیب،مضبوط نطام،اور اللہ تعالی کی قدرت ِ کاملہ و حکمتِ تامّہ کا ہماری بساط کے بقدر علم حاصل ہوتا ہے اور یہی علم اللہ تعالی کے وجود ،توحید،عضمتِ شان،توجہ الی اللہ اور اللہ تعالی کی رضاء کے طلب کا سبب و باعث ہے نیز بعض ایسی احادیث اور مسائل فقہیہ کا علی وجہ البصیرۃ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے جو اس موضوع سے متعلق ہیں  جیسا کہ طلوع ِ ثریا والی حدیث ، علم ِ ہیئت Astronomyکی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے امام غزالی رحمہ اللہ نے احیا العلوم میں فرمایا " ان کا وقت [یعنی سنتِ فجر کا وقت ]صبح صادق کے طلو ع سے شرو ع ہوتا ہے صبح صادق کناروں میں پھیلنے والی روشنی ہوتی ہے نہ کہ لمبائی میں  ابتدا میں مشاہدے کے ساتھ اس کا ادراک مشکل ہوتا ہے مگر یہ کہ چاند کی منازل کا علم ہو یایہ کہ فلاں ستارہ طلوع ہو گا تو صبح صادق اس کے ساتھ متصل ہو گی پس اس طرح ستاروں کے ذریعے اس پر رہنمائی حاصل ہوتی ہےمہینے کی دو راتوں میں چاند کے ذریعے یہ وقت معلوم ہوتا ہے کیوں  کہ چھبیسویں کی رات چاند فجر کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور مہینے کی بارہویں رات چاند کے غروب ہونے کے ساتھ فجر طلوع ہوتی ہے اکثر ایسا ہی ہوتا ہےبعض برجوں میں فرق بھی پڑتا ہے، اس کی تشریح طویل ہےسالک کے لئے چاند کی منازل کا جاننا اہم امور میں سے ہے تاکہ وہ دن رات کے اوقات کی مقدار پر مطلع ہو سکے[احیاءالعلوم]   
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے فیض القدیر شرح جامع الصغیر میں  فرمایا کہ یہ جو حدیث میں ہے کہ مجھے اپنے بعد اپنی امت پر ستاروں پر ایمان لانے کا خوف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اعتقاد کی تصدیق کا خوف ہے کہ ستارے دنیا کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں حدیث میں ایمان کے لفظ کو نکرہ ذکر فرمایا تاکہ وہ عموم کا فائدہ دے لہذا وہ ہر قسم کی تصدیق سے بچنے پر دلالت کر رہا ہے یعنی خواہ وہ تصدیق جزئی ہو یا کلی اور خواہ کسی سے بھی ہو ،سو اسے علم نجوم [Astrlogy]کہا جاتا ہے اور وہ علم تاثیر [دنیا کے نظام پر اثر انداز ہونے کا علم] ہے نہ کہ علم تسییر[Astronomy] کیوں کہ بے شک علم تسییر نقصان دہ نہیں  اور امام غزالی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ علم بذاتِ خود مذموم نہیں ہوتا بلکہ وہ بندوں کے حق میں مختلف اسباب کی وجہ سے مذموم ہوتا ہے  جیسے علم نجوم کیوں بے شک بذاتِ خود وہ مذموم نہیں کیوں کہ اس کی دو قسمیں ہیں ۱۔۔۔۔حسابی ۲۔۔۔۔احکامی  حسابی قسم کے بارے میں خود قرآن مجید نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ بے شک ستاروں کی تسییر [ستاروں کی چال طلوع و غروب وغیرہ] کا علم محبوب ہے چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا والشمس والقمر بحسبان [الرحمن]  
علم نجوم کی دوسری قسم احکامی ہے جس کا حاصل حوادث [آئندہ پیش آنے والے واقعات] پر سے استدلال کرنا  ہےاوریہ ایسا ہی ہے جیسے طبیب نبض دیکھ کر آئندہ  پیش آنے والی بیماری پر استدلال کرتا ہے ،لیکن شریعت نے اس کی سدِّ باب کے طور پر مذمت کی ہے کیوں کہ علم نجوم کی یہ قسم اکثر مخلوق کو نقصان پہنچانے والی ہے کیوں کہ بے شک جب ان کے سامنے یہ بات کی جائے گی یہ آثار ستاروں کے ملنے یا ان کے دیکھنے یا ان کے بلند ہونے یا ان کے پست ہونے وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ بات آتی ہے کہ ستارےہی بذاتِ خود موثر ہیں[معاذ اللہ]
ثریا اور اس کا طلوع
جاننا چاہئے کہ ثریا دراصل کوئی ستارہ نہیں بلکہ کئی ایک ستاروں کی جھرمٹ کو ثریا کہتے ہیں اسے پروین بھی کہا جاتا ہے اور ستاروں کے اس  مجمع کو سات سہیلیوں کا جھمکا بھی کہا جاتا ہے اہل یونان اسے سات بہنیں [seven Sisters]   کہتے آئے ہیں یہ ستارے گہرے نیلےسفیدی لئے ہوئے نہایت چمک دارہیں   اور آسمان پر ان ستاروں کے مجمع سے حسین کوئی مجمع نہیں ، ان کی تعداد مختلف اقوال کے مطابق ۸،۷،۶ یا ۹ ہے  
امام احمد بونی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ  [ثریا]قمر کی تیسری منزل ہے  اس میں سات ستارے ہیں چھ روشن اور ایک بہت چھوٹا اس کے دیکھنے میں آنکھوں کی تیزی کا امتحان ہے اس کا نام ثروت ہے یعنی سیرابی و خوشحالی اس کے علاوہ اس کے اور بھی نام ہیں چناچہ نجم بھی اسی کو کہتے ہیں بعض علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد  والنجم اذا ھوی سے یہی منزل ثریا مراد ہے کیوں عرب اکثر ثریا کو نجم ہی کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا نام نجم رکھا ہے چنانچہ ارشاد ہے کہ جب نجم طلوع ہو تو پھلوں وغیرہ سے آفتیں ختم ہو جاتی ہیں ، ثریا کبھی کبھی رات کے وقت اپریل،مئی کے اوخر میں آسمان پر نظر آتا ہے اور روزانہ ۴ منٹ قبل طلوع اور غروب ہوتا ہےاگر اسے غروب آفتاب  بعد دیکھنا ہو تو ستمبر اکتوبر کے مہینے میں دکھے گا ،اکتوبر کے شروع میں غروب آفتاب کے تین گھنٹہ بعد مشرقی افق پر دکھتا ہے اکتوبر سے روزانہ ۴ منٹ قبل طلوع ہونا شروع ہوتا ہے اور نومبر میں ٹھیک اسی جگہ پر غروبِ آفتاب کے فوراً بعد دکھنے لگتا ہےجہاں اکتوبر میں دکھتا تھا  اور طلوع آفتاب کے وقت غائب ہوجاتا  ہے  نومبر میں ثریا آفتاب سے ۱۸۰ درجے کے فاصلے پر ہوتا ہے نجوم کی اصطلاح میں اسے مقابلہ  کا وقت کہتے ہیں the time of opposition  جب کہ مئی کے مہینے میں ثریا آفتاب کے بالکل قریب ہوتا ہے  اس صورت کو اصطلاحِ نجوم میں قران conjunction   کہا جاتا ہے  اس وقت ثریا طلوع آفتاب کے ساتھ یا اس سے قبل صبح صادق کے وقت طلوع ہوتا ہے اور دن بھر آفتاب کے ساتھ چلتا رہتا ہے  
خلاصہ کلام
حاصل یہ کہ ثریا آفتاب کے جس قدر قریب ہوتا جاتا ہے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا  رہتاہے حتیٰ کہ صفر درجہ کی قربت مئی کے اوائل میں ہوتی ہے   اوریہ  علامت شدت ِصیف یعنی سخت گرمی کی ہے لہذا حدیث شریف میں جو یہ فرمایا کہ ثریا جب صبح کو طلوع کرتا ہے تو پھلوں سے آفت ختم ہو جاتی ہے یعنی پھل اچھی طرح پک جاتے ہیں ، اس کا موضوع علمِ نجوم اور پیشن گوئی نہیں بلکہ علم ہیئت  و افلاک اور مظاہرِقدرت  ہے