Friday, December 27, 2019

AL-AUFAAQ (Vol-5) الاوفاق


بسم اللہ الرحمن الرحیم
ادرایہ
از صوفی محمد عمران رضوی القادری

روحانی مرض کی تشخیص  تعبیرِ خواب کی مانند ہے
اللہ رب العزت نے قرآن مقدس کے اندر سورہ یوسف میں حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات مفصل بیان فرمایا ہے جس میں ایک واقعہ دوران اسیری جیل خانے میں دو قیدیوں کو ان کے خواب کی تعبیر بتانے والا  بڑا مشہور ہے اس واقعے میں عقل والوں کے لئے مختلف جہات سے درسِ عبرت ہے ،تو آئیے سب سے پہلے ہم بطورِ تمہید مختصراً اس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں
جب حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر نے قید خانے میں ڈلوا دیا تو ان کے ساتھ دو اور قیدی بھی تھے جن میں ایک بادشاہ کا نانبائی تھا جو کہ مطبخ کا منتظم تھا اور دوسرا ساقی جو محفل عیش و طرب کا نگران تھا  ان دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے کھانے اور شراب میں زہر دے کر بادشاہ کوقتل کرنے کی کوشش کی تھی قید خانے میں ان دونوں نے خواب دیکھا اور آپس میں  یہ فیصلہ کیا کہ ہم دونوں اپنا خواب حضرتِ یوسف علیہ السلام کو بتا کر اس کی تعبیر معلوم کریں گے اس طرح ان کے علم کو بھی آزما لیں گے  جس کا ذکر قرآنِ مقدس میں یوں ہے
        وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِؕ-قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًاۚوَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُؕ-نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(سورۃ یوسف۔۳۶)
ترجمہ کنز الایمان:
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ان میں ایک بولا میں نے خواب دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرندے کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتائیے بےشک ہم آپ کو نیکوکار دیکھتے ہیں
ان دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر جو حضرتِ یوسف نے بیان فرمائی اسے قرآن مقدس میں یوں فرمایا

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًاۚوَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖؕقُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ(سورۃ یوسف۴۱)
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا  رہا دوسرا وہ سو لی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے
تفسیر خزائن العرفان میں صدرالافاضل رحمہ اللہ نےنقل فرمایا حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے  حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا  جو میں نے کہہ دیا یہ ضرور واقع ہوگا ، تم نے خواب دیکھا ہو  یا نہ دیکھا ہو اب یہ حکم ٹل نہیں سکتا  جاننا چاہئیے خواب کی تعبیر کا علم ظن و تخمین اور فراست  پر مبنی ہے لیکن  حضرتِ یوسف علیہ السلام کو اللہ نے  خواب کی تعبیر کا علم ظنی و تخمینی نہیں بلکہ یقینی و قطعی طور پر بذریعہ وحی عطاء فرمایا تھا  اور آپ تعبیرِ رویا کے علم میں جس درجہ پر فائز تھے کوئی اس درجے کو نا پہنچا لہذا جیسی تعبیرخواب کی حضرتِ یوسف علیہ السلام نے بتائی تھی ان دونوں قیدیوں کے ساتھ من و عن ویسا ہی ہوا  ،ساقی و نانبائی کے بیان کردہ خواب کے معلق تین قسم کے اقوال تفاسیر میں ملتےہیں
  1. حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے 
  2. مجاہد اور امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کہا انہوں نے سچا خواب بیان کیا تھا اور انہوں نے واقعی خواب دیکھا تھا
  3. ابو مجاز نے کہا نانبائی نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا اور ساقی نے سچا خواب بیان کیا تھا
اب خواب کی تعبیر کےتعلق سے اصول ذہن نشیں کیجئے تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو  مشکوۃ  شریف کی حدیث میں فرمایا  خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک اس کی خبر نہ دی جائے جب وہ بیان کردی جائےتو واقع ہوجاتا ہے   اس حدیث کی شرح مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ نے یوں فرمائی "
یہاں اتنا سمجھ لو کہ خواب تعبیر سے پہلے اڑتی ہوئی چڑیا ہے جو ظاہر نہیں ہوتی مگر تعبیر ہوجانے کی صورت میں ضرور واقع ہوتاہے اور تعبیر میں پہلی تعبیر کا اعتبار ہے بعد کی  دی ہوئی تعبیر کا اعتبار نہیں یعنی پہلی بارتعبیر لینے کے لیے اپنی خواب یا اپنے پیارے سے بیان کرو یا بہت سمجھ دار سے جسے خواب کی تعبیر کا علم ہوپیارا اگر تعبیر نہ جانتا ہوگا تو تعبیر دے گا ہی نہیں،عالم تعبیر دے گا مگر درست،بے علم بے وقوف سے خواب نہ کہو کہ وہ غلط تعبیر دے کر تمہارا خواب بگاڑ دے گا حکایت ہے  کہ ایک عورت کا خاوند تلاش روزگار میں باہر گیا ہوا تھا عورت نے خواب میں دیکھا کہ میرے خاوند کے منہ سے کوے نکل کر اڑ رہے ہیں،اس نے اپنی پڑوسن سے بیان کیا وہ بولی کہ کوے تو مردے کے منہ سے اڑتے ہیں تیرا خاوند مرگیا ہوگا،پھر وہ عالم وقت کے پاس گئی انہوں نے فرمایا کہ تیرا خاوند توپ خانہ کا مالک کردیا گیا ہے،کچھ روز بعد اس کی موت کی خبر آگئی تو وہ پھر ان عالم کے پاس گئی اور ماجرا بیان کیا،عالم نے فرمایا کہ خواب کی پہلی تعبیر ہی ہوتی ہے تو نے اس نادان عورت سے اپنا خواب کہہ کر تعبیر خراب کرلی۔"

روحانی مرض خواب کی مثل اور علاج تعبیر کی طرح ہے
جس طرح خواب دیکھنے والے کو چاہئیے کہ اپنا خواب کسی معتبر شخص یا عالمِ دین کو سنا کر تعبیر لے اسی طرح روحانی مسائل کے شکار افراد کو بھی چاہئے کہ مخلص عامل یا عالم دین کو ہی اپنا مسئلہ بتائے بلکہ پہلے خوب تحقیق کر لے کہ یہ معالج کیسا ہے  اس کے بعد ہی رابطہ کرے اور  ان کے لگائے گئے احکام اور بتائے گئے علاج پر کاربند ہو تاکہ سلامتی کے ساتھ علاج مکمل ہو اور مریض سحر جادو شیاطین یا جنات سے نجات حاصل کرے ،لیکن افسوس ایسا ہوتا نہیں لوگ ایک مسئلہ کے لئے مختلف عاملین سےرابطہ کر تےہیں ظاہر ہے ہر کسی کی تشخیص الگ الگ ہوگی اور یہ ایک بدیہی امر ہے جیسے ڈاکٹروں کے رپورٹس جدا ہوتے ہیں ، اس طرح وہ تشخیص کے مرحلے میں ہی تردد کا شکارہوکر روحانی معالجین سے بد ظن یا سوئے اعتقاد میں مبتلا ء ہو جاتا ہےاور اگریہ نہ ہو تو کم از کم جو اس کا سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے  وہ یہ کہ مختلف عاملوں کی فاعل قوتِ نفسی ان کے بتائے گئے احکام و علاج کے ذریعہ سائل کے مفعول نفس و قلب  پر اثر انداز ہوتے ہیں اس طرح جو مسئلہ چند ہفتوں میں حل ہونا چاہئے اسے مہینوں لگ جاتے ہیں   اس لئے فقیر قادری کہتا ہے کہ روحانی مرض خواب کی مثل ہے جیسے خواب بیان کرنے سے قبل خوب غور و فکر کرتے ہیں کہ کس کو بتاکر تعبیر لی جائے ایسے ہی خدا نخواستہ آپ کسی روحانی مرض سے شکار ہوں ہو پہلے خوب چھان بین کیجئے جب اعتماد ہوجائے تب رابطہ کیجئے کیوں کہ کوئی بھی روحانی معالج جب تشخیص کے بعد علاج تجویز کرتا ہے تو اس تجویز شدہ باتوں کا پورا کرنا علاج کے لئے نہایت ضروری اور لازمی ہو جاتا ہے ورنہ علاج مکمل نہیں ہوتا میری اس بات سے ہر اس شخص کو  اتفاق ہوگا جو روحانی علاج  و معالجہ کا شغل رکھتا ہے اس واسطے میں نے عنوان قائم کیا کہ روحانی علاج خواب کی تعبیر کے مثل ہے جیسی دی جائے ویسے ہو جاتی ہے اس کی بے شمار نظیر میرے سامنے ہے مثلاً آج  میں نے کسی خاتون کا علاج کیا جسے شیطانی اثرات تھے ان کا علاج شروع کرنے سے قبل میں نے ان کے شوہر کو بتایا کہ بھئی دورانِ چلہ ان کے نام سے ایک بکری صدقہ کی نیت سے کسی مدرسے میں دینا ہے انہوں کہا جی ٹھیک ہے  چلہ مکمل ہو گیا اور مریضہ اچھی ہو گئی ،جب فائدہ ہو جاتا ہے تو کوئی کیوں بتانے آئے لہذا ایسا ہی ہوا وہ صاحب اپنے مسئلے کے ساتھ غائب ہو گئے لیکن ایک سال کے بعد پھر ہانپتے کانپتے آئے اور کہنے لگے میری اہلیہ وہی سب حرکتیں پھر سے کر رہی ہے میں نے تشخیص کری تو کچھ نا آیا پھر معاً مجھے القا ء ہوا کہ کہیں اس نے صدقہ سے  تو ہاتھ نہیں روک لیا تھا میں  نےبرجستہ اس شخص سے کہا جو صدقہ تمہیں بتایا گیا کیا وہ تم نے کیا تھا؟ بولا نہیں میں نے سوچا فائدہ ہو رہا ہے تعویذ سے تو رہنے دو میں نے کہا ابھی جا اور ایک بکری خرید وہ شخص اٹھا بازار گیا جانور خرید کر مدرسہ میں دے کر گھر چلا گیا گھر پہنچ کر مجھے فون پر بولتا ہے ابھی میری اہلیہ کچھ ٹھیک ہے میں نے تین دن میں بالکل ٹھیک ہو جائے گی اوراللہ کے فضل ویسا ہی ہوا 

شوقیہ تشخیص کرانے والے لوگوں کا حال
روحانی معالجین کے پاس اکژ ایسے لوگ بھی رابطہ کرتے ہیں جن کو کوئی مرض روحانی نہیں ہوتا بس شوقیہ سوال کرتے ہیں کہ زرا دیکھئے کوئی جادوبندش وغیرہ تو نہیں میرے ساتھ ،اور کہتے ہیں حضرت زرا اچھا سے چیک کر کے بتائیے   اس طرح وہ خود کو خوامخواہ مصیبت میں ڈالتے ہیں کہ اگراس  عامل کی قوتِ نفسی  فاعل ہوئی تو اس کے لگائے گئے احکام کا اثر سائل کے نفس تک پہنچتا ہے اور خدا نخواستہ اگر نیت امتحان کی ہو اور عامل اپنے تشخیص میں بھی خوب اخلاص کا مظاہرہ کرے تو سائل کی حالت اس نانبائی کی طرح ہو جائے گی جس کا قصہ آپ اوپر پڑھ آئے ہیں کہ اس نے خواب تو نہیں دیکھا تھا لیکن ہنسی یا آزمائش کے طور پر حضرتِ یوسف علیہ السلام کو جھوٹا خواب بتاکر تعبیر لینا چاہتا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے موت کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا اس طرح کے بہت سارے واقعات مختلف  بزرگوں کے آپ نے سنے ہوں گے کچھ لوگوں نے بطورِ آزمائش  ایک بندے کو مردےکی کھاٹ پر لٹا کر بزرگ کے پاس لائے اور کہا حضرت جناہ پڑھا دیجئے جب بزرگ نے جنازہ پڑھا دیا تو بات مکمل ہو گئی اور کام تمام ہو گیا  ان مثالوں کے دینے سے کوئی یہ گمان ہرگذ نہ کرے کہ کوئی بھی روحانی معالج یا عامل جو کہہ دیتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے ،نہیں بلکہ تعبیرِ خواب اور تشخیصِ مرض کے مابین جو نکتئہ روحانی مشترک ہے یہاںصرف اسی سے کام ہے   اور سمجھانا صرف یہ مقصود ہے کہ جس طرح خواب دیکھ کر تعبیر لینے کے اصول ہیں اور بنا خواب دیکھے جھوٹا خواب گڑنا فضول ہے اسی طرح اگر آپ کسی روحانی مرض کے شکار نہ ہوں تو بلا وجہ شوقیہ تشخیص و استخارے کرواتے نہ پھریں کہ کسی بندہ خدا کے ہتھے چڑھ گئے تو لینی کے دینی پڑجائے گی الامان والحفیظ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح فکر اور علمِ نافع عطاء فرمائے

سچا سائل و حاجتمند بادشاہ کےساقی کی طرح ہے
ساقی اور نانبائی کے خواب  کے متعلق  تین قسم کے  اقوال   کتبِ تفاسیر میں ملتے ہیں  ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ نانبائی نے جھوٹا خواب دیکھا تھا اور ساقی نے سچا لہذا ساقی کا تعبیر دریافت کرنا  بالکل صحیح تھا اور نانبائی کا نہایت غلط اس واسطے تعبیر ِ رویا سے فائدہ صرف ساقی کو پہنچا اور کامیاب ہوا جبکہ نانبائی ناکام ہوکر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ،اسی طرح جو سچا سائل یا حاجتمند ہوتا ہے وہ فائز المرام ہوتا ہے اور تشخیصِ مرض کا فائدہ صرف اسے ہی پہنچتا ہے حتیٰ کہ اس کا علاج مکمل ہوتا ہے اور وہ روحانی معالج سےمکمل یا  مثبت استفادہ کرتا لیکن جو سائل بناوٹی ہوتا ہے وہ نانبائی کی طرح شوقیہ تشخیص کرواتا پھرتا ہے اور اپنے زعم میں استفادہ توکرتا ہے لیکن وہ استفادہ نا مکمل یا منفی ہوتا ہے
اس موضوع پر کہنا تو بہت کچھ ہے لیکن اختصار بھی مطلوب ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو علمِ نافع عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طب ط کے فتح سے بھی ہے کسرہ سے بھی پیش سے بھی مگر فتح مشہور ہے اس کے معنی علاج و دوا۔ طب ط کے فتح سے اس کے معنی جادو بھی ہیں اس لیے مسحور کو مطبوب کہتے ہیں۔ علاج کے تین ارکان ہیں:دفع مرض،حصول صحت،دفع اسباب مرض۔طب جسمانی قرائن اور طب روحانی قرآن سے ہے اس لیے طب کے اوراق جمع فرمائے گئے۔رقی جمع ہے رقیۃ کی بمعنی جھاڑپھونک۔ناجائز یا شرکیہ الفاظ سے دم کرنا حرام یا کفر ہے،جائز دعائیں پڑھ کر دم کرنا سنت ہے،جس دم جھاڑ پھونک کے معانی معلوم نہ ہوں انہیں نہ پڑھے۔اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کو جہاں اور علوم بخشے ہیں وہاں علم طب بھی عطا فرمایا بذریعہ وحی کے بھی اور بذریعہ تجربہ وغیرہ کے بھی۔حضرت سلیمان علیہ السلام ہر درخت و گھاس سے پوچھا کرتے تھے کہ تجھ میں کیا تاثیر ہے اگر وہ اچھی تاثیر بتاتی تو اس کی کاشت بھی کراتے تھے اور اس کا نام و فوائد لکھ بھی لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ طب کی تدوین آپ نے بھی کی۔واللہ اعلم!(مرقات)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضیاءِحدیثِ نبوی
از مراۃ المناجیح شرح مشکوۃالمصابیح
رب قدیر نے ہر مرض کے لئے شفاء اتاری ہے
حدیث
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ نے کوئی بیماری نہ بنائی مگر اس کے لیے شفا بھی اتاری (بخاری شریف)
شرح
موت اور بڑھاپا ان کے سواء تمام امراض کی دوائیں ہیں۔جب اللہ کسی کو شفاء دینا چاہتا ہے تو طبیب کا دماغ اس کی دوا تک پہنچ جاتا ہے ورنہ طبیب کا دماغ الٹا چلتا ہے علاج غلط کرتا ہے۔مصرع! چوں قضا آید طبیب آبلہ شود۔
حدیث
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر بیماری کی دوا ہے جب دوا بیماری تک پہنچادی جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے اچھا ہوجاتا ہے (مسلم شریف)
شرح
یعنی دوا بیماری دور کرنے میں مؤثر تو ہے مگر مستقل مؤثر نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے تابع ہے وہ چاہے تو دواء کو مؤثر بنادے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جب اللہ تعالٰی کسی بیمار کی شفا نہیں چاہتا تو دواء اور مرض کے درمیان ایک فرشتے کے ذریعے آڑ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے دواء مرض پر واقع نہیں ہوتی،جب شفاء کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جس سے دواء مرض پر واقع ہوتی ہے اور شفاء ہوجاتی ہے۔(مرقات)ہم نے بہت بیماروں کو دیکھا کہ دواء ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی بعد موت ان کے منہ سے دوا نکلتی ہے یہ ہے وہ آڑ۔
احمد نے بروایت حضرت علی مرفوعًا روایت کیا کہ ہر مرض کی دواء ہے اور گناہ کی دواء توبہ ہے۔خیال ہے کہ دفع مرض کے لیے دواءکرنا مستحب ہے مگر دفع بھوک کے لیے کھانا اور دفع پیاس کے لیے پانی پینا فرض ہے لہذا اگر کوئی بیمار بغیر دواء کیے مرجائے تو گنہگار نہیں لیکن اگر کوئی بھوکا پیاسا بغیر کھائے پیئے مرجائے،مرن برت یا بھوک ہڑتال کرکے مرے تو حرام موت مرے گا کیونکہ دواء سے شفا میں یقین نہیں مگر کھانے سے دفع بھوک میں اور پانی سے دفع پیاس میں یقین یا گمان اغلب ہے دواءکرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ توکل کی قسم ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورِ قرآن
از احیاءالعلوم الدین
کلام الٰہی کے معانی کو اس مثال سے سمجھئے
ایک بزرگ نے کلام ِالہی کے معانی تک پہنچنے کی ایک لطیف صورت بیان فرمائی بلکہ ایک مثال بھی پیش کی ہے۔ چنانچہ، فرماتے ہیں کسی داناشخص نے ایک بادشاہ کو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی لائی ہوئی شریعت کی دعوت دی تو بادشاہ نے چند سوال کئے تو دانا نے بادشاہ کی سمجھ کے مطابق جوابات دیئے بادشاہ نے کہا: ’’میں نے دیکھا ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو کلام لاتے ہیں تم اس کے متعلق کہتے ہو کہ یہ لوگوں کا کلام نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا کلام ہے،پھر لوگ اسے کیسے سمجھتے ہیں ؟‘‘ اس دانا شخص نے جواب دیا: ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جب کسی جانور یا پرندے کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں مثلاً آگے بڑھنا، پیچھے ہٹنا، سامنے منہ کرنا اور پشت پھیرنا وغیرہ اور وہ جانوروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگوں کی عقل سے تحسین وتزیین اور عجیب تنظیم کے ساتھ صادر ہونے والے کلام کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو وہ جانوروں کے رنگ میں ڈھل کر کلام کرتے ہیں اور اپنے مقصود کو ان میں ایسی آواز سے پہنچاتے ہیں جو ان کی سمجھ کے مناسب ہو مثلاً ٹخ ٹخ کرنا، سیٹی بجانا اور ایسی آوازیں جو ان کی آوازوں کے قریب قریب ہوں تاکہ وہ انہیں سمجھ سکیں  اسی طرح لوگ بھی کلامِ الٰہی کو اس کی ماہیت اور کمالِ صفات سے سمجھنے سے عاجز ہیں تو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھی ان کے ساتھ وہی انداز اختیار کیا جو لوگ جانوروں کے ساتھ برتتے ہیں یعنی اس کلام پاک کو ایسے الفاظ وحروف میں بیان کیا جس سے لوگ اس کی حکمت کو سمجھ جائیں جیسے جانور سیٹی وغیرہ سے ان کے مطالب کو سمجھ لیتے ہیں اور چونکہ حکمت کے معانی ان حروف اور اصوات میں پوشیدہ رہتے ہیں لہٰذا ان معانی کی شرافت اور عظمت کے سبب کلام کی سمجھ آتی ہے تو گویا آواز حکمت کے لئے جسم اور مکان جبکہ حکمت آواز کے لئے جان اور روح ہے جس طرح آدمی کا جسم روح کے سبب مکرم ومعزز ہوتا ہے اسی طرح کلام کے اصوات وحروف بھی ان میں موجود حکمتوں کی وجہ سے مشرف ومقصود ہوتے ہیں اور کلام بلند مرتبہ اور اعلیٰ درجہ رکھتا ہے، غلبہ میں زبردست، حق وباطل میں حکم نافذ کرنے والا، حاکمِ عادل اور پسندیدہ گواہ ہے، اسی سے امر ونہی کا صدور ہوتا ہے باطل کو تاب نہیں کہ پُرحکمت کلام کے سامنے ٹھہرسکے جیسے سایہ سورج کی شعاع کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا، بندوں میں طاقت نہیں کہ حکمت کی گہرائی کے پار جائیں جیسے وہ اپنی آنکھوں کو سورج کی روشنی کے پار نہیں کر سکتے البتہ ،سورج کی روشنی سے انہیں اتنا حاصل ہوتا ہے کہ جس سے ان کی آنکھوں میں نور آ جائے اور وہ اپنی ضروریات کی طرف رہنمائی حاصل کر لیں کلامِ الٰہی چھپے ہوئے بادشاہ کی مانند ہے جس کا چہرہ محسوس نہیں ہوتا لیکن اس کا حکم جاری ہے یا گویا وہ سورج ہے جس کی روشنی ظاہر ہے مگر وہ خود پوشیدہ ہے یا چمکتے ستارے کی مثل ہے کہ جسے اس کی چال سے واقفیت نہیں ہوتی وہ بھی اس کے ذریعے راہ پا لیتا ہے۔
خلاصۂ کلام:
کلامِ الٰہی نہایت عمدہ خزانوں کی چابی ہےیہ آبِ حیات ہے کہ جس نے اس میں سے پیا وہ حیاتِ ابدی سے متصف ہو گیا اور ایسی دوا ہے کہ جس نے اس کو نوش کیا کبھی بیمار نہ ہوا یہ دانا شخص نے جو بیان کیا ہے کلام کے معنی کو سمجھنے کے لئے ایک مختصر سی بات ہے، اس سے زیادہ بیان کرنا علمِ معاملہ کے مناسب نہیں لہٰذا اسی پر اکتفا کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واقعات و قصص
اسمِ اعظم پڑھتے ہی خضر علیہ السلام کا حاضر ہو جانا
  حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،ایک مرتبہ میں ا سکندریہ کے ایک شخص سے ملا جسے اسلم بن زید اَلجھنی کہا جاتاتھا ۔ و ہ مجھ سے کہنے لگا :''اے نوجوان ! تم کون ہو؟'' میں نے کہا:'' میں خراسان کا رہنے والا ہوں۔'' اس نے پوچھا: ''تجھے دنیا سے بے رغبتی پر کس چیز نے ابھارا؟'' میں نے جواب دیا :'' دنیوی خواہشات کو ترک کرنے اور ا ن کے ترک پر اللہ عزوجل کی طرف سے ملنے والے ثوا ب کی امید نے۔''وہ کہنے لگا :'' بندے کی اللہ عزوجل سے اجر وثواب کی امید اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر کرنے کا عادی نہ بنالے ۔ یہ سن کر اُس کے پاس کھڑے ایک شخص نے پوچھا :'' صبر کیا ہے؟ ''اس نے جواب دیا:'' صبر کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ انسان ان باتوں کو بھی (خوشی سے) برداشت کرلے جو اس کے دل کو اچھی نہ لگیں۔''میں نے کہا:''اگروہ ایساکر لے تو پھر کیا ہوگا؟''
     اس نے کہا :'' جب وہ ناپسند یدہ باتوں کو برداشت کرلے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو نور سے بھردے گا پھر میں نے اس سے پوچھا:'' نور کیا ہے ؟ '' اس نے مجھے بتایا:''یہ اس شخص کے دل میں موجود ایسا چراغ ہوتا ہے جو حق وباطل اور متشابہ میں فرق کرتا ہے اے نوجوان ! جب تو اولیاء کرا م رحمہم اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرے یا صالحین سے گفتگوکر ے تو ان کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے رہناکیونکہ ان کی ناراضگی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی اور ان کی خوشی میں اللہ عزوجل کی خوشی پوشیدہ ہے اے نوجوان! میری یہ باتیں یاد کرلے ، اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر اور سمجھدار ہوجا۔''
    یہ نصیحت آموز باتیں سن کرمیری آنکھوں سے سیل ِاشک رواں ہوگیا۔میں نے کہا :'' اللہ عزوجل کی قسم ! میں نے اللہ عزوجل کی محبت ،اس کی رضاکے حصول اور دنیوی خواہشات کو تر ک کرنے کی خاطر اپنے والدین اورمال و دولت کو چھوڑ اہے'' اس نے کہا:'' بُخل سے کوسوں دور بھاگنامیں نے پوچھا:'' بُخل کیا ہے؟'' اس نے کہا:'' دنیا والوں کے نزدیک توبخل یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں کنجوسی کرے جبکہ آخرت کے طلبگار وں کے نزدیک بخل یہ ہے کہ کوئی اپنے نفس کے ساتھ اللہ عزوجل سے کنجوسی کرے  یا د رکھ ! جب انسان اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اپنے دل سے سخاوت کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے دل کوہدایت او ر تقوی سے بھر دیتا ہے اور اسے سکون ،وقار ، اچھا عمل اورعقل سلیم جیسی نعمتیں ملتی ہیں اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ مسرور و شاداں ان دروازوں کے کھلنے کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔''
     یہ سن کراس کے رفقاء میں سے ایک شخص نے کہا :'' حضور !اس کی آتشِ عشق کو مزید بھڑکایئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نوجوان کو اللہ عزوجل کی طر ف سے ولایت کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ''
   وہ شخص اپنے رفیق کی اس بات سے بہت متعجب ہو ا کہ'' اسے اللہ عزوجل کی ولایت کی تو فیق عطا کی گئی ہے۔'' پھر میری طرف متوجہ ہو ا اور کہنے لگا:'' اے عزیز ! عنقریب تو اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریگا جب تجھے یہ سعادت نصیب ہو تو ان کے لئے ایسی زمین کی مانند ہوجا کہ اگر وہ چاہیں تو تجھے پاؤں کے نیچے روند ڈالیں  اوراگر وہ تجھے ماریں،جھڑکیں یا دھتکاردیں تو تُو اپنے دل میں سوچنا کہ تو آیاکہاں سے ہے ؟ اگر تو غور وفکر کریگا تو اللہ عزوجل کی نصرت تیری مؤید ہوگی اور اللہ عزو جل تجھے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے گا،پھر لوگ دل وجان سے تجھے مان لیں گے
    اے نوجوان !یا د رکھ ،جب کسی انسان کو اچھے لوگ چھوڑ دیں ، پرہیز گار اس کی صحبت سے بچنے لگیں اور نیک لوگ اس سے ناراض ہو جائیں تو یہ اس کے لئے نقصان دہ بات ہےاب اسے جان لینا چاہے کہ اللہ عزوجل مجھ سے ناراض ہے جو شخص اللہ عزوجل کی نافرمانی کر ے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو گمراہی اور تاریکی سے بھر دے گا اس کے ساتھ ساتھ وہ رزق( کی برکت )سے محرو م ہوجائے گا اور خاندان والوں کی جفا اور صاحبِ اقتدار لوگو ں کا بغض اس کا مقدّر بن جائے گا پھر اللہ عزوجل جہاں چاہے اسے ہلاک کر دے۔''
     میں نے کہا:'' ایک مرتبہ میں نے ایک نیک شخص کی ہمراہی میں کوفہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کیاجب شام ہوتی تو وہ دو رکعت نماز ادا کرتاپھر آہستہ آہستہ کلام کرتامیں دیکھتا کہ ثرید سے بھرا ہوا پیالہ اور پانی سے بھرا ہوا ایک کوزہ اس کے دائیں جانب رکھا ہوتا وہ اس کھانے میں سے خود بھی کھاتا اور مجھے بھی کھلاتامیری یہ بات سن کر وہ شخص اور اس کے رفقاء رونے لگے۔''
     پھراس نے مجھے بتایا:'' اے میرے بیٹے! وہ میرے بھائی داؤد تھے اور ان کی رہائش بلخ سے پیچھے ایک گاؤں میں تھی داؤد کے وہاں سکونت اختیار فرمانے کی وجہ سے وہ گاؤں دو سری جگہوں پر فخر کرتا ہے اے عزیز ! انہوں نے تجھے کیا کہا تھا ، او رکیاسکھایا تھا ؟'' میں نے کہا:'' انہوں نے مجھے اسمِ اعظم سکھایا۔'' اس شخص نے پوچھا: ''وہ کیا ہے ؟'' میں نے کہا:'' اس کا بولنا میرے لئے بہت بڑا معاملہ ہے۔ ایک بار میں نے اسم اعظم پڑھا تو فوراً ایک آدمی ظاہر ہوا اور میرا دامن پکڑ کر کہنے لگا:'' سوال کر، عطا کیا جائے گا'' مجھ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی میری یہ حالت دیکھ کر وہ بولا:'' گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،میں خضر ہوں اورمیرے بھائی داؤد نے تمہیں اللہ عزوجل کا اسم ِاعظم سکھایا ہے ا س اسم اعظم کے ذریعے کسی ایسے شخص کے لئے کبھی بھی بد دعا نہ کرنا جس سے تمہارا ذاتی جھگڑا اوراختلاف ہو، اگر ایساکروگے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے دنیا و آخرت کی ہلاکت میں مبتلا کردو اور پھر تم بھی نقصان اُٹھاؤ  بلکہ اس اسمِ اعظم کے ذریعے اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ وہ تمہارے دل کو دینِ اسلام پر ثابت رکھے تمہارے پہلو کو شجاعت وبہادری عطا فرمائے، تمہاری کمزوری کو قوت سے بدل دے  تمہاری وحشت کو اُنسیَّت سے اور تمہارے خوف کو امن سے بدل دے۔ ''    پھر مجھ سے کہا:''اے نوجوان ! نفس کی خواہشات کو تر ک کرنے کی غرض سے دنیا کو چھوڑنے والوں نے اللہ عزوجل کی رضا کو (اپنا) لباس ، اس کی محبت کواپنی چادر اور اس کی عظمت وبزرگی کو اپنا شعار بنالیا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے ان پر ایسا فضل وانعام فرمایاکہ ایسا کسی پر نہ فرمایا اتناکہنے کے بعد وہ چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درسِ تصوف
فقراء کے تینوں طبقے کامیاب ہیں
 حضرتِ سیِّدُناعباس بن دِہْقَان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ''مجھے حضرتِ سیِّدُنا احمد بن زَیَّات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بتایا : ''ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر تھا  آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صبر و رضا کا درس دے رہے تھے  اچانک ایک صوفی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مخاطب کر کے کہا: '' اے ابو نَصْر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! کہیں تم حُبِّ جاہ کی خاطر تو لوگوں کے سامنے نیک اعمال نہیں کرتے ؟ اگر تم زُہد میں کامل ہوگئے ہو تودُنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لو اور لوگو ں کے عطیات وغیرہ قبول کرو،تاکہ ان کے نزدیک تمہارا جو مقام ہے اس میں کمی واقع ہو ان کی طرف سے جو چیزیں تمہیں بطور نذرانہ ملیں انہیں فقراء پر خرچ کردو  اور تو کل کی رسی مضبوطی سے تھام لو اگر ایسا کرو گے توغیب سے رزق دیا جائے گا ۔'' اس صوفی کا یہ اندازِ گفتگو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے معتقدین پربہت گراں گزرالیکن وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ادب کی وجہ سے خاموش رہےآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے!بے شک فقراء تین طرح کے ہوتے ہیں (۱)۔۔۔۔۔۔ایک فقیر تووہ ہے جوسوال نہیں کرتا ،اگربغیرسوال کئے کچھ مل جائے تواسے بھی قبول نہیں کرتا ایسا شخص پاکیزہ خصلت وَلی ہے  جب وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو رحمن ورحیم پروردگارعَزَّوَجَلَّ اس کی طلب پوری فرمادیتاہے  اگروہ کسی بات کی قسم کھالے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو پورا فرمادیتا ہے ۔
    (۲) ۔۔۔۔۔۔دوسرا فقیروہ ہے جو سوال تو نہیں کرتالیکن بغیر سوال کئے کچھ مل جائے توقبول کرلیتا ہےایسا شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرنے والوں میں درمیانی درجہ پر ہےیہ ان لوگو ں میں سے ہے جنہیں حضوریئ دربارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی عظیم نعمت حاصل ہے۔
    (۳)۔۔۔۔۔۔ تیسرا فقیر وہ ہے جو صبر پر یقین رکھتا ہے اوربسا اوقات حالات سے بھی موافقت کرلیتا ہے جب اسے کوئی شدید حاجت درپیش ہوتی ہے تو لوگو ں سے بقدرِ حاجت لے لیتا ہے ،لیکن اس کا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مانگ رہا ہوتا ہے لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ  سے کئے جانے والے سوال کی سچائی ،مخلوق سے کئے ہوئے سوال کا کَفّارہ ہوجاتی ہے اورفقراء کے یہ تینوں طبقے کا میاب ہیں۔''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وظائف حلِ مشکلات
از صوفی محمد عمران رضوی القادری
کشادگی رزق کا انمول وظیفہ
 لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینْ
صبح و شام ایک سو مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں  دنیا میں  فاقہ نہ ہو، قبر میں  وحشت نہ ہو،حشر میں  گھبراہٹ نہ ہو اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے اس عظیم کلمے کو الوظیفۃ الکریمہ میں شامل فرمایا
ہر مشکل آسان
لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم
 ۵۰۰ مرتبہ روز ورد میں رکھنے والے کی ہر مشکل آسان ہوگی یہ کوتاہيوں کی کمی اور ٹوٹے ہوئے دلوں کی درستگی کا باعث ہےبخاری شریف کی صحیح حدیث ِ پاک میں ہے کہ ''یہ(یعنی لَاحَوْل شریف) جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے
بگڑی اولاد سدھر جائے
یَا اَللہُ یَا ھَادِیُ یَا نَافِعُ یَا نُوْرُ
اگر کسی کی اولاد غلط صحبت میں رہ کر بگڑ جائے تو اس کے لئے یہ وظیفہ روزانہ ۵۴۳ مرتبہ مع اول آخر درود کے پڑھا کرے ان شاء اللہ سدھر جائےگا اور بری صحبت چھوڑ دیگا
امیر کبیر بننے ا وظیفہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جو شخص یہ چاہتا ہو کہ دولتِ دنیا اس کے قدم چومے وہ روزانہ بوقتِ طلوع آفتاب ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھنے کا معمول بنا لے
دکان چلنے کا وظیفہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ   اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ(۱)وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ(۲)فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠(۳)
جس کی دکان نہ چلتی ہو گراہک کم آتے ہوں اسے چاہئے کہ روزانہ صبح کے وقت ۷۰ مرتبہ سورۃ نصر پڑھ لیا کرے اول آخر درود گیارہ مرتبہ کے ساتھاور  ان شاء اللہ دکان خوب چلے گی
تنگدستی کا خاتمہ
اَللہُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّد عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ وَ صَلِّ عَلَی الْمُوْمِنِینَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمینَ وَالْمُسْلِمَاتْ
تنگدستی کے خاتمے کے لئے مذکورہ بالا درود شریف کو روزانہ ۱۰۰ مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں حضرتِ شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمہ اللہ نے اس کی بڑی تعریف فرمائی ہے
حلِ مشکلات
یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ          بروز اتوار ۱۰۰۰ مرتبہ
یَامُفَتِّحَ الْاَبْوَابِ               بروز پیر ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا مُسَبِّ الْاَسْبَابِ    بروز منگل ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ                                بروز بدھ ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِبِ               بروز جمعرات ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا ذَالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ    بروز جمعہ ۱۰۰۰ مرتبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنّیِ کُنْتُ مِنَ الظَّا لِمِینْ     بروز اتوار ۱۰۰۰ مرتبہ
ہر قسم کی مشکلات میں پھنسے لوگوں کے لئے بہترین وظیفہ ہے چاہئیے کہ روزانہ ایک وقتِ مقررہ پر ان کا ورد کرے اول آخر درودِ تنجینا تین بار ضرور پڑھیں انشاء سب مشکلیں آسان ہوں گی
ملازمت کا حصول
حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ
بے روزگار شخص کو چاہئے کہ بعد نماز ظہر یا عشاء ۴۵۰ مرتبہ مع اول آخر درود شریف کے روز پڑھا کرے اس کے علاوہ ہر وقت بلا تعداد وردِ زبان رکھے انشاء اللہ روزگار سے لگ جائے گا اللہ بڑا کارساز ہے
برائے شادی
یَا لَطِیفُ یَا فَتَّاحُ
جن بچیوں کا رشتہ نا آتا ہو یا شادی نہ ہوتی ہو تو ۱۰۰۰ مرتبہ بعد نماز عشاء بغیر کسی سے بات کئے مع اول آخر  درود کے پڑھیں ان شاء اللہ جلد ہی رشتہ موصول ہوگا یا شادی ہو جائے گی
نافرمان بیوی کو تابع کرنا
اِنَّ وَلِیِّ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ
اگر کسی کی بیوی نا فرمانی کرتی ہو تو شوہر اس آیت کو روزانہ ۱۰۰ متربہ پڑھا کرے ان شاء اللہ فرماںبردار ہوگی
محبتِ زوجین
وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ  وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ
میاں بیوی کے درمیان محبت قائم رکھنے کے لئے اس آیت کا وظیفہ روزانہ ۱۰۰ مرتبہ کرنا چاہئے
شوہر کو دوسری عورت سے روکنا
وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ
جو عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر کسی غیر کے پاس نہ جائے یا جانے کا ندیشہ ہو تو اس آیت کو روز ۴۱ بار پڑھے
حفاظت و حصار
یَاحَفِیظُ تَحَفَّظْتُ بِالحِفْظِ وَ الْحِفْظِ فِی حِفْظِکَ یَاحَفِیظُ
جب کبھی کسی جگہ ڈر خوف یا نقصان کا اندیشہ ہو ۴۱ مرتبہ پڑھ کر خود پر دم کر لیں حفاظت رہے گی ان شاء اللہ
ادئے قرض
 اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
قرض کی ادائےگی کے واسطے روزانہ ۷۰ مرتبہ مع اول آخر درود تنجینا ۷ مرتبہ روز پڑھا جائے مجرب مجرب مجرب
 امتحان میں کامیابی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱) لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ(۲) وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا(۳الفتح)
 ہر قسم کے امتحان میں کامیابی کے لئے  سورہ فتح کی اس آیت کو روزانہ ۴۱ مرتبہ پڑھ لیجئے مع اول آخر درود
ہر بیماری سے شفاء
یَا شَافِیُّ یَا سَلَامُ
کل امراض سے شفاء کے لئے بعد نماز مغرب مریض کے سرہانے بیٹھ کر ۱۰۰۰ مرتبہ مع اول آخر درودِ شفاء کے پڑھا جائے اور مریض پر دم کریں ساتھ ہی پانی پر دم کر کے پلائیں جلد شفاء نصیب ہوگی
برائے کل مطالب
یَا اَللہُ الْمَحْمُودُ فِی کُلِّ فَعَالِہِ
روزانہ ۳۶۰ مرتبہ وقتِ مقررہ پر پڑھا جائے اول آخر درود شریف ۳ مرتبہ پڑھ لیجئے
قضائے حاجات
یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعُ
جب کوئی حاجت درپیش ہو مذکورہ اسم کو ۱۲۰۰ مرتبہ بارہ روز پڑھ کر ختم کریں وقت اور جگہ مقرر ہو اول آخر درودِ تنجینا ۳ بار پڑھیں ان شاء اللہ سبیل پیدا ہوگی
برائے جملہ حاجات
یَا شَیْخْ عَبْدُ الْقَادِرْ جِیلَانِی شَیْئاً لِلہ
اول آخت درودِ غوثیہ کہ ۱۰۰۰۰ مرتبہ روزانہ ۴۰ دنوں تک پڑھیں ان شاء اللہ حاجات بر آئے گی
برائے روشنی چشم
اَللہُمَّ مَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَ بَصَرِیْ وَاجْعَلَہُ الْوَارِثَ مِنِّیْ وَانْصُرْنِی عَلیٰ مَنْ ظَلَمَنِی
جملہ امراضِ چشم میں اس دعاء کو بعد ہر فرض نماز کے ایک بار پڑھ کر دونوں انگوٹھوں  پر دم کریں اور آنکھوں پر پھیر لیں مجرب اور  بزرگوں کا معمول ہے
بچوں کا ذہن کھولنے والی دعاء
اِلٰہی اَنْتَ اِلٰہُ عَالِمُ وَ اَنَا عَبْدُکَ جَاھِلُ اَسْئَلُکَ اَنْ تَرْزُقَنِیْ عِلْمًا نَافِعًا وَّ فَھْمًا کَامِلًا وَّ طَبْعًا زَکِیًا وَّقَلْبًا صَفِیًّا حَتّٰی اَعْبُدَکَ وَلَا تُھْلِکُنِیْ بِالْجِھَا لَۃِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینْ
سبق یا پڑھائی شروع کرنے سے قبل ۱۱ مرتبہ اس کو کو پڑھا جائے ان شاء اللہ بچہ جو پڑھے گا یاد رہے گا
برائے ملازمت
یَا فَتَّاحُ یَا رَزَّاقُ یَا وَھَّابُ یَا بَاسِطُ
ملازمت اور نوکری ملنے کے واسطے ۸۸۳ مرتبہ بعد نماز عشاء روز پڑھا جائے مع اول آخر درود شریف ۱۱ بار
فراخی رزق
یَا وَھَّابُ ذَالطَّوْلِ
فراخی رزق کے لئے علی الصبح اسم یا وھاب کو اس طرح ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھے مع اول آخر درود شریف تین تین بار
تسخیرِ خلق
یَا اَ للہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ
تسخیر خلق و جملہ حاجات کے لئے روزانہ ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھا کرے اور جمعہ کے دن سے شروع کریں
تصفیہ قلب
یَا مَلِکُ یَا قُدُّوْسُ
صفائے قلب کے واسطے خالی پیٹ ہو کر ۱۰۰۰ مرتبہ روز پڑھنے کا معمول بنائیں اول آخر درود شریف طاق مرتبہ
حفاظت از دشمن
یَا مُوْمِنُ یَا مُھَیْمِنُ
دشمنوں سے حفاظت اور تسخیر کے لئے روزانہ ۵۰۰ مرتبہ بوقتِ صبح پڑھنا مفید ہے اول آخر درود لازمی ہے
گناہوں سے توبہ
یَا غَفَّارُ اِغفِرْلِی ذُنُوْبیِ
جسے گناہوں کا چسکا لگ جائے اور چاہتا ہے کہ سچی توبہ نصیب ہو تو روزانہ صدق دل سے سو بار پڑھ لیا کرے
مقہوری اعداء
یَا قَھَّارُ
۲۱ روز بوقتِ زوال ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھ کر دشمن کی طرف پھونک مارے ان شاء اللہ دشمن مقھور ہوگا
مستجاب الدعوات
یَا سَمِیْعُ یَا بَصِیْرُ
جو بندہ مستجاب الدعوات ہونا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ روزانہ چاشت کے وقت ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھ لیا کرے
شادی ہو جائے
 اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ
سورہ یوسف کی اس آیت کو روزانہ  ۱۱۱ مرتبہ پڑھا جائےمع اول آخر درود شریف ۱۱ مرتبہ کے  ان شاء اللہ جلد شادی  اور رشتہ طے ہو جائے گا
ذہن کی تیزی اور حافظہ
 رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ
روزانہ ۱۱۱ مرتبہ پڑھا جائے اور سبق یاد کرنے سے قبل ۷ مرتبہ پڑھ کر دل پر دم کر لیں ان شاء اللہ حافظہ قوی ہوگا
بگڑے حالات سدھر جائیں
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۶) تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘
وَ تُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٘-وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۲۷)
انتہائی پریشانی اور بگڑے حالات میں اس آیت کو ہر نماز کے بعد ۵ مرتبہ پڑغ کر ربِّ قدیر سے دعاء کریں تو ان شاء اللہ جلد ہی کوئی صورت ِ اسباب پیدا ہو اور بگڑے حالات سدھرنے لگیں گے
حصول اولاد
هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕلَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۶)
جس عورت کو حمل نا ٹھہرتا ہو اس آیت کو روزانہ ۱۱۰ مرتبہ پڑھ لیا کرے ان شاء اللہ جلد ہی حاملہ ہوگی
مرحومین کو خواب میں دیکھنا
اَللہُمَّ اَرِنیِ فِیْ مَنَامِیْ مَا اَسْتَدِل ُّ  بِہِ عَلیٰ اِجَابَۃِ دَ عْوَتِیْ 
سونے سے قبل اچھی طرح وضو بنا کر پاک بستر پر ۷ مرتبہ سورہ والشمس ۷ مرتبہ سورہ واللیل ۷ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھ کر ۷ مرتبہ دعاءِ مذکور پڑھیں اور بغیر کسی بات کئے سو جائیں اس طرح ۳ یا ۷ دن کریں
دلی مراد کا بر آنا
یَا اَللہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْم
جمعہ کے دن عصر و مغرب کی درمیان بلا تعداد بچشمِ نم اپنے مقصد کو ذہن میں رکھ کر پڑھے انشاء اللہ مراد بر آئےگی
غناء ظاہری و باطنی
یَا مُغْنِیُ
غنائے ظاہری و باطنی کے لئے ۴۰ مرتبہ سورہ مزمل شریف اور گیارہ سو مرتبہ یا مغنی عشاء کے بعد پڑھا کرے یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمہ اللہ کے  مجربات میں سے ہے اور حضرت کا تاعمر اس پر عمل رہا
قبولیت دعاء
اتوار کے دن طلوع آفتاب سے قبل بعد نماز فجر ۱۰ مرتبہ سورہ کافرون پڑھ کر جو دعاء کی جائے قبول ہوگی ان شاء اللہ
دین و دنیا کی دولت
جو شخص روزانہ ۷ مرتبہ سورہ قدر پڑھ کر اس دعاء کو سات مرتبہ پڑھ لیا کرے گا اس کو دین و دنیا کی دولت نصیب ہوگی دعاء یہ ہےَاللہُمَّ یَا مَن یَّکفِنِی مِن خَلقِہِ جَمِیعًا وَلَا یَکفِنِی مِنہ‘ اَحَد مِن خَلقِہِ یَا اَحَدُ لَا یَنقَطِعُ الرَّجَائُ اِلَّا مِنکَ وَمَا تَصَوَّرَتِ الاٰ مَالُ اِلاَّ فِیکَ یَا غَیَا ثَ المُستَغِیثِینَ اَغِثنِی
کبھی فاقہ نہ ہو
جس گھر میں عورتیں روزانہ بعد نماز مغرب ایک مرتبہ سورہ واقعہ پڑھتی ہوں اس گھر میں فاقے نہیں ہوں گے
طاقتور دشمن زیر ہو
فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ
اس آیت کو روزانہ ۳۰۳ مرتبہ پڑھنے والا کا دشمن ہمیشہ زیر رہے گا اور کوئی برائی نہ پہنچا سکے گا ان شاء اللہ
جادو کا اثر نہ ہو
جو شخص روزانہ ۷ مرتبہ سورہ مزمل پڑھ کر ۴۵۰ مرتبہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھا کرے گا اس پر جادو کا اثر نہ ہوگا
غیب سے رزق ملے
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕوَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ
جو کوئی ہر روز اس آیت کو ۱۰۰ مرتبہ پڑھا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غیب سے رزق عطاء فرمائے گا
مکان کی حفاطت
شیخ ابو الحسن شاذلی رحمہ اللہ  نے فرمایا رات کے وقت ۲۱ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لینے سے جنات ،شیطان،جلنے اور چوری سے محفوظی رہے گی
نا فرمان اولاد کے لئے
یَا مُقِیْتُ
نا فرمان بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر روزانہ ۲۱ مرتبہ یا مقیت پڑھا کریں انشاء اللہ تابع فرمان ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چہل اسماء کے چالیس مجرب نقوش
نقش اسم اول 
سبحانک لا الہ الا انت یا رب کل شئی ووارثہ و راقہ و راحمہ
خاصیت: کشائشِ رزق،تسخیرِ حکام،تیزی ذہن،تسخیرِ عام ،بر آمدن حاجات وغیرہ کے لئے رات کی نیک ساعتوں میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۶۳۵
۶۴۹
۶۴۵
۶۴۲
۶۴۶
۶۴۱
۶۳۶
۶۴۸
۶۴۰
۶۴۳
۶۵۱
۶۳۷
۶۵۰
۶۳۸
۶۳۹
۶۴۴

نقش اسم دوم
سبحانک یالا الہ الا لھیۃ الرفیع جلالہ
خاصیت: عزت و جاہ،عملہ پر کنٹرول ،عوام الناس میں مقبولیت کے لئے رات کی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۲۳۳
۲۴۷
۲۴۳
۲۴۰
۲۴۴
۲۳۹
۲۳۴
۲۴۶
۲۳۸
۲۴۱
۲۴۹
۲۳۵
۲۴۸
۲۳۶
۲۳۷
۲۴۲

نقش اسم سوم
یا اللہ المحمود فی کل فعالہ
خاصیت: تسخیرِ خلق اور دفع نحوست سیارگان کے لئے دن کی نیک ساعتوں میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۱۲۲
۱۳۶
۱۳۳
۱۳۰
۱۳۴
۱۲۹
۱۲۳
۱۳۵
۱۲۸
۱۳۱
۱۳۸
۱۲۴
۱۳۷
۱۲۵
۱۲۷
۱۳۲

نقش اسم چہارم
یا رحمن کل شئ ووارثہ و راحمہ
خاصیت: محبت و مودۃ  اورتسخیرِ روحانیین کے لئے رات کی کسی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۲۲۴
۲۳۸
۲۳۵
۲۳۱
۲۳۶
۲۳۰
۲۲۵
۲۳۷
۲۲۹
۲۳۳
۲۴۰
۲۲۶
۲۳۹
۲۲۷
۲۲۸
۲۳۴

نقش اسم پنجم
یا حی حین لا حی فی دیمومۃ ملکہ و بقائہ
خاصیت: بر آمدن حاجاتِ دینی و دنیاوی اور شفائے امراض جسمانی کے لئے رات کی نیک ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۲۲۹
۲۴۳
۲۴۰
۲۳۷
۲۴۱
۲۳۶
۲۳۰
۲۴۲
۲۳۵
۲۳۸
۲۴۵
۲۳۱
۲۴۴
۲۳۲
۲۳۴
۲۳۹

نقش اسم ششم
یا قیوم فلا یفوت شئ من علمہ ولا یودہ حفظہ یا قیوم
خاصیت: حضوری قلب، کشائشِ فہم اور چوری وغیرہ سے حفاظت کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۵۸۶
۵۹۹
۵۹۶
۵۹۳
۵۹۷
۵۹۲
۵۸۷
۵۹۸
۵۹۱
۵۹۴
۶۰۱
۵۸۸
۶۰۰
۵۸۹
۵۹۰
۵۹۵

نقش اسم ہفتم
یا واحد الباقی اول کل شئ و آخر
خاصیت: دفع غم و اندیشہ و فکر لا یعنی ، تسخیرِ خلق،دفع دشمناں اور حصولِ ذوق و شوق کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۳۳۸
۳۵۱
۳۴۸
۳۴۵
۳۴۹
۳۴۴
۳۳۹
۳۵۰
۳۴۳
۳۴۶
۳۵۳
۳۴۰
۳۵۲
۳۴۱
۳۴۲
۳۴۷

نقش اسم ہشتم
یا دائم بلا فناء ولا زوال لملئکۃ و بقائہ
خاصیت : ثابت قدمی ، استحکام اور معزولی سے حفاظت کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۲۲۹
۲۴۳
۲۴۰
۲۳۷
۲۴۱
۲۳۶
۲۳۰
۲۴۲
۲۳۵
۲۳۸
۲۴۵
۲۳۱
۲۴۴
۲۳۲
۲۳۴
۲۳۹

نقش اسم نہم
یا صمد غیر مشبہ فلا شئ کمثلہ
خاصیت : محبتِ زوجین،دفع خصائل بد اورحاجت بر آنے کے واسطے رات کی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۶۸۴
۶۹۸
۶۹۴
۶۹۱
۶۹۵
۶۹۰
۶۸۵
۶۹۷
۶۸۹
۶۹۲
۷۰۰
۶۸۶
۶۹۹
۶۸۷
۶۸۸
۶۹۳

نقش اسم دہم
یا بار فلا شئ کفوہ یدانیہ ولا امکان لوصفہ
خاصیت : دفع حاسدین و دشمناں،عقد اللسان اور تسخیر ِ ارواح کے لئے شب کو نیک ساعت میں لکھنا چاہئیے
۷۸۶
۲۸۸
۳۰۲
۲۹۹
۲۹۶
۳۰۰
۲۹۵
۲۸۹
۳۰۱
۲۹۴
۲۹۷
۳۰۴
۲۹۰
۳۰۳
۲۹۱
۲۹۳
۲۹۸

نقش اسم یاز دہم
یا کبیر انت اللہ  الذی لا تھتدی العقول  لوصفہ عظمتہ
خاصیت: ادائے قرض،زیارت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت خضرعلیہ السلام  بوقتِ شب  نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۱۰۴۲
۱۰۵۵
۱۰۵۲
۱۰۴۹
۱۰۵۳
۱۰۴۸
۱۰۴۳
۱۰۵۴
۱۰۵۳
۱۰۴۸
۱۰۴۳
۱۰۵۴
۱۰۵۶
۱۰۴۵
۱۰۴۶
۱۰۵۱

نقش اسم دواز دہم
یا باری النفوس بلا مثال خلا من غیرہ
خاصیت : دفع آسیب،دفع نظرِ بد، دفع سحر ،شفاء امراض کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۷۳۷
۷۵۱
۷۴۸
۷۴۴
۷۴۹
۷۴۳
۷۳۸
۷۵۰
۷۴۲
۷۴۶
۷۵۳
۷۳۹
۷۵۲
۷۴۰
۷۴۱
۷۴۷


نقش اسم سیزدہم
یا زاکی الطاہر من کل  آفۃ بقدسہ
خاصیت : مقبولِ خلائق ، علوِ مراتب،تسخیرِ جن و شیاطین و دفع آسیب کے لئے بوقتِ شب لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۲۶۱
۲۷۵
۲۷۲
۲۶۸
۲۷۳
۲۶۷
۲۶۲
۲۷۴
۲۶۶
۲۷۰
۲۷۷
۲۶۳
۲۷۶
۲۶۴
۲۶۵
۲۷۱

نقش اسم چہاردہم
 یا کافی الموسع لما خلق من فضلہ
خاصیت : رشتہ و شادی  اور کشائشِ رزق حسنہ کے لئے دن کی کسی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۵۴۶
۵۶۰
۵۵۶
۵۵۳
۵۵۷
۵۵۲
۵۴۷
۵۵۹
۵۵۱
۵۵۴
۵۶۲
۵۴۸
۵۶۱



۵۴۹
۵۵۰
۵۵۵

نقش اسم  پانزدہم
یا نقیا من کل جور لم یرضہ ولم یخالطہ
خاصیت : قید سے رہائی،دشمن کی ہلاکت اور کسی شئے کی حقیقت جاننے کے لئے  دن کی نیک ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۶۲۰
۶۳۴
۶۳۱
۶۲۷
۶۳۲
۶۲۶
۶۲۱
۶۳۳
۶۲۵
۶۲۹
۶۳۶
۶۲۲
۶۳۵
۶۲۳
۶۲۴
۶۳۰

نقش اسم شانزدیم
یا حنان انت الذی وسعت کل شئی رحمۃ وعلما
خاصیت: حصول غنا ، ادائیگی قرض  اور وسعتِ رزق کے لئے رات کی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۷۹۳
۸۰۶
۸۰۳
۸۰۰
۸۰۴
۷۹۹
۷۹۴
۸۰۵
۷۹۸
۸۰۱
۸۰۸
۷۹۵
۸۰۷
۷۹۶
۷۹۷
۸۰۲

نقش اسم ہفتدہم
یا منان ذالاحسان قد عم کل الخلائق منہ
خاصیت : ترقی اعمالِ روحانی اور غنائے ظاہری و باطنی کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھنا چاہئے نقش یہ ہے
۷۸۶
۵۳۲
۵۳۷
۵۳۴
۵۳۰
۵۳۵
۵۲۹
۵۲۴
۵۳۶
۵۲۸
۵۳۲
۵۳۹
۵۲۵
۵۳۸
۵۲۶
۵۲۷
۵۳۳

نقش اسم ہیزدہم
یا دیان العباد کل یقوم خاضعا لرھبتہ و رغبۃ
خاصیت : دفع مرض بواسیر و برص اور سفر روکنے کے واسطے رات کی ساعتوں میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۱۰۱۹
۱۰۳۲
۱۰۲۹
۱۰۲۶
۱۰۳۰
۱۰۲۵
۱۰۲۰
۱۰۳۱
۱۰۲۴
۱۰۲۷
۱۰۳۴
۱۰۲۱
۱۰۳۳
۱۰۲۲
۱۰۲۳
۱۰۲۸

نقش اسم نوازدہم
یا خالق من فی السموت والارض کل الیہ معادہ
خاصیت : غائب کو حاضر کرنے اور غائب کی خبر معلوم کرنے کے واسطے دن کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۸۴۳
۸۵۷
۸۵۴
۸۵۱
۸۵۵
۸۵۰
۸۴۴
۸۵۶
۸۴۹
۸۵۲
۸۵۹
۸۴۵
۸۵۸
۸۴۶
۸۴۸
۸۵۳

نقش اسم بستم
یا رحیم کل صریخ و مکروب و غیاثہ و معاذہ
خاصیت : حل مشکلات اور کسی کام کی تدبیر غیب سے معلوم ہو بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۹۴۹
۹۶۲
۹۵۹
۹۵۶
۹۶۰
۹۵۵
۹۵۰
۹۶۱
۹۵۴
۹۵۷
۹۶۴
۹۵۱
۹۶۳
۹۵۲
۹۵۳
۹۵۸

نقش اسم بست و یکم
یا تام فلا تصف الالسن کل جلالہ و ملکہ و عزہ
خاصیت : دشمنوں کے لشکر کو تباہ کرنا اور تسخیر ارواح عالم علوی وسفلی کے لئے دن کی ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۴۱۱
۴۲۵
۴۲۲
۴۱۹
۴۲۳
۴۱۸
۴۱۲
۴۲۴
۴۱۷
۴۲۰
۴۲۷
۴۱۳
۴۲۶
۴۱۴
۴۱۶
۴۲۱

نقش اسم بست و دوم
یا مبدع البدائع لم تبغ انشاء ھا عونا من خلقہ
خاصیت : حکمت و علم لدنی اور دستِ غیب کے لئے دن کی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۷۷۱
۷۸۵
۷۸۲
۷۷۸
۷۸۳
۷۷۷
۷۷۲
۷۸۴
۷۷۶
۷۸۰
۷۸۷
۷۷۳
۷۸۶
۷۷۴
۷۷۵
۷۸۱

نقش اسم بست و سوم
یا علام الغیوب فلا یفوت شئ من حفظہ
خاصیت : قوتِ حافظہ شہرت و ناموری اور حصول دولت کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۷۹۲
۸۰۶
۸۰۳
۷۹۹
۸۰۴
۷۹۸
۷۹۳
۸۰۵
۷۹۷
۸۰۱
۸۰۸
۷۹۴
۸۰۷
۷۹۵
۷۹۶
۸۰۲

نقش اسم بست و چہارم
یا حلیم ذالآنات فلا یعادلہ شئ من خلقہ
خاصیت: دفع رجعت ،حاضری مطلوب اور تسخیر خلائق کے لئے بوقت شب نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۶۵۴
۶۶۸
۶۶۴
۶۶۱
۶۶۵
۶۶۰
۶۵۵
۶۶۷
۶۵۹
۶۶۲
۷۷۰
۶۵۶
۶۶۹
۶۵۷
۶۵۸
۶۶۳

نقش اسم بست و پنجم
یا معید ما افناہ اذا برزالخلائق لدعوۃ من مخافۃ
خاصیت: دفع خطرات و وسواس،جمیعت خاطر اور زبان بندی کے لئے دن کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۹۲۱
۹۳۵
۹۳۲
۹۲۸
۹۳۳
۹۲۷
۹۲۲
۹۳۴
۹۲۶
۹۳۰
۹۳۷
۹۲۳
۹۳۶
۹۲۴
۹۲۵
۹۳۱

نقش بست و ششم
یا حمید الفعال ذالمن علی جمیع خلقہ بلطفہ
خاصیت: دفع رجعت عمل، مقہوری دشمناں  اور مقبول خلائق ہونے کے لئے دن کی ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۵۳۹
۵۵۳
۵۵۰
۵۴۷
۵۵۱
۵۴۶
۵۴۰
۵۵۲
۵۴۵
۵۴۸
۵۵۵
۵۴۱
۵۵۴
۵۴۲
۵۴۴
۵۴۹

نقش اسم بست و ہفتم
یا عزیز المنیع الغالب علی جمیع امرہ فلا شئ یعادلہ
خاصیت: تسخیر قمر،کشف عالم جبروت اور فراخی رزق کے لئے دن کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۵۸۹
۶۰۳
۶۰۰
۵۹۷
۶۰۱
۵۹۶
۵۹۰
۶۰۲
۵۹۵
۵۹۸
۶۰۵
۵۹۱
۶۰۴
۵۹۲
۵۹۴
۵۹۹

نقش اسم بست و ہشتم
یا قاھر ذاالبطش الشدید انت الذی لا یطاق انتقامہ
خاصیت: تباہی و بربادی دشمن،عداوت و نفرت اور معزولی دشمن کے لئے دن کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۹۰۱
۹۱۵
۹۱۲
۹۰۹
۹۱۳
۹۰۸
۹۰۲
۹۱۴
۹۰۷
۹۱۰
۹۱۷
۹۰۳
۹۱۶
۹۰۴
۹۰۶
۹۱۱

نقش اسم بست و نہم
یا قریب المتعالی فوق کل شئ علو ارتفاعہ
خاصیت : مقبوضہ مال حاصل کرنے اور تسخیر خاص و عام کے لئے رات کی نیک ساعت میں لکھ کر کام میں لائیں
۷۸۶
۵۷۰
۵۸۴
۵۸۱
۵۷۸
۵۸۲
۵۷۷
۵۷۱
۵۸۳
۵۷۶
۵۷۹
۵۸۶
۵۷۲
۵۸۵
۵۷۳
۵۷۵
۵۸۰

نقش اسم سی ام
یا مذل کل جبار عنید بقھر عزیز سلطانہ
خاصیت: اجابتِ دعاء،غلبہ و قہر بر دشمن ظاہری و باطنی اور تسخیر عطارد کے لئے دن کی ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۴۲۱
۴۳۵
۴۳۲
۴۲۸
۴۳۳
۴۲۷
۴۲۲
۴۳۴
۴۲۶
۴۳۰
۴۳۷
۴۲۳
۴۳۶
۴۲۴
۴۲۵
۴۳۱

نقش اسم سی و یکم
یا نور کل شئ و ھداہ انت الذی فلق الظلمات بنورہ
خاصیت: نورانیت و صفائی قلب ،حصول معرفت حق اور تسخیر زہرہ کے لئے رات کی نیک ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۱۰۵۱
۱۰۶۴
۱۰۶۱
۱۰۵۸
۱۰۶۲
۱۰۵۷
۱۰۵۲
۱۰۶۳
۱۰۵۶
۱۰۵۹
۱۰۶۶
۱۰۵۳
۱۰۶۵
۱۰۵۴
۱۰۵۵
۱۰۶۰

نقش اسم سی و دوم
یا عالی الشامخ فوق کل شئ علو ارتفاعہ
خاصیت: زبردست دشمن پر غلبہ پانے اور تسخیر مشتری کے لئے دن کی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۶۱۸
۶۳۱
۶۲۸
۶۲۵
۶۲۹
۶۲۴
۶۱۹
۶۳۰
۶۲۳
۶۲۶
۶۳۳
۶۲۰
۶۳۲
۶۲۱
۶۲۲
۶۲۷

نقش اسم سی و سوم
یا قدوس الطاہر من کل سور فلا شئ یعادلہ
خاصیت: تصرفات و طہارت ظاہری و باطنی کا حصول اور انقطاع ما سو اللہ کے لئے دن کی نیک ساعت میں لکھا جائے
۷۸۶
۷۲۰
۷۳۴
۷۳۱
۷۲۸
۷۳۲
۷۲۷
۷۲۱
۷۳۳
۷۲۶
۷۲۹
۷۳۶
۷۲۲
۷۳۵
۷۲۳
۷۲۵
۷۳۰

نقش اسم سی و چہارم
یا مبدی البرایا و معید ھا بعد فنا ئھا بقدرۃ
خاصیت: شفائے امراض  شدیدہ  و حصولِ اوصاف حمیدہ کے واسطے دن کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۳۳۹
۳۵۲
۳۴۹
۳۴۶
۳۵۰
۳۴۵
۳۴۰
۳۵۱
۳۴۴
۳۴۷
۳۵۴
۳۴۱
۳۵۳
۳۴۲
۳۴۳
۳۴۸

نقش اسم سی و پنجم
یا جلیل المتکبر علی کل شئی فالعدل امرہ والصدق وعدہ
خاصیت: حصولِ کشف و مراد و مراتبِ علیا کے واسطے دن کی نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۴۹۸
۵۱۲
۵۰۸
۵۰۵
۵۰۹
۵۰۴
۴۹۹
۵۱۱
۵۰۳
۵۰۶
۵۱۴
۵۰۰
۵۱۳
۵۰۱
۵۰۲
۵۰۷

نقش اسم سی و ششم
یا محمود فلا تبلغ الاوھام کل کنہہ ثناء ہ و مجدہ
خاصیت: اوصاف حمیدہ اور تسخیر ِ زحل کے واسطے رات کی نیک ساعتوں میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۵۹۲
۶۰۶
۶۰۲
۵۹۹
۶۰۳
۵۹۸
۵۹۳
۶۰۵
۵۹۷
۶۰۰
۶۰۸
۵۹۴
۶۰۷
۵۹۵
۵۹۶
۶۰۱

نقش اسم سی و ہفتم
یا کریم العفو ذالعدل انت الذی ملا کل شئ
خاصیت: ظلم سے خلاصی اور مغفرت و نورانیت قبر کے لئے بوقتِ شب نیک ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۷۵۱
۷۶۴
۷۶۱
۷۵۸
۷۶۲
۷۵۷
۷۵۲
۷۶۳
۷۵۶
۷۵۹
۷۶۶
۷۵۳
۵۶۵
۷۵۴
۷۵۵
۷۶۰

نقش اسم سی و ہشتم
یا عظیم ذاالثناء الفاخر و ذاالعز والمجد والکبریا فلا یذل غیرہ
خاصیت: درقی درجات ،حصول جاہ اور تسخیر مریخ کے واسطے دن کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۱۱۴۷
۱۱۶۰
۱۱۵۷
۱۱۵۴
۱۱۵۸
۱۱۵۳
۱۱۴۸
۱۱۵۹
۱۱۵۲
۱۱۵۵
۱۱۶۲
۱۱۴۹
۱۱۶۱
۱۱۵۰
۱۱۵۱
۱۱۵۶

نقش اسم سی و نہم
یا قریب المجیب المدانی دون کل شئ قربہ
خاصیت: بد خواہوں کی سرکوبی  اور دفع حصولِ مقاصدِ حسنہ کے واسطے رات کی ساعت میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۳۱۰
۳۲۴
۳۲۰
۳۱۷
۳۲۱
۳۱۶
۳۱۱
۳۲۳
۳۱۵
۳۱۸
۳۲۶
۳۱۲
۳۲۵
۳۱۳
۳۱۴
۳۱۹

نقش اسم چہلم
یا عجیب الثناء فلا تنطق الالسن بکل الآئہ و ثنائہ و نعمائہ
خاصیت: علم و حکمت و ظہور عجائب وغرائب کے واسطے رات کی ساعتوں میں لکھا جائے نقش یہ ہے
۷۸۶
۵۰۰
۵۱۴
۵۱۱
۵۰۷
۵۱۲
۵۰۶
۵۰۱
۵۱۳
۵۰۵
۵۰۹
۵۱۶
۵۰۲
۵۱۵
۵۰۳
۵۰۴
۵۱۰

نقش اسم چہل و یکم
یا غیاثی عند کل کربۃ و محبتی عند کل شدۃ و رجائی حین تنقطیع حیلتی
خاصیت: جمیع حاجات و تسخیر خلائق و زیارت نبی کریم صلی اللہ علیہ واسلم دن کی ساعت میں لکھنا چاہئیے
۷۸۶
۱۷۸۸
۱۸۰۱
۱۷۹۸
۱۷۹۵
۱۷۹۹
۱۷۹۴
۱۷۸۹
۱۸۰۰
۱۷۹۳
۱۷۹۶
۱۸۰۳
۱۷۹۰
۱۸۰۲
۱۷۹۱
۱۷۹۲
۱۷۹۷