Monday, October 7, 2019

AL AUFAAQ (VOL-4) الاوفاق



اداریہ
از صوفی محمد عمران رضوی القادری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خزانہ زمین میں کم لوگوں کے دماغ میں زیادہ دفن ہے
خزانہ اور دفینہ کا پتہ لگانے اور انہیں حاصل کرنے کے لئے فقیر کے پاس آئے دن میسیجس اور کالس آتے رہتے ہیں ،آج سے تقریباً دس سال قبل دفینے کی دھن میں ،میں نے اندرونِ ملک مختلف شہروں کا سفر کیا جو جہاں سے بلاتا بلا تامل چلا جاتا کسی کی پرانی حویلی میں ٹھہرا کسی کا نیا مکان قیام گاہ بنا کوئی کھیت میں کھٹیا بچھائے میری راہ تک رہا تھا، کوئی آبائی مکان جو سالوں سے بند پڑا تھا میرے ہاتھوں سے کھلوا رہا تھا ،کسی نے دھوکے سے دوسرے کی زمیں میں مجھ سے مرغ چھڑوائے ، کسی نے بند کنویں میری نگرانی میں کھدوائے ، کہیں اہلِ خانہ حکیم صاحب اور سادھوی دیوی کو چھ ماہ سے پال رہے تھے ،کہیں لوگ خزانہ ہے یا نہیں مجھے بلا بلا کر اپنا شبہ نکال رہے تھے ، کوئی کہتا تھا آپ آجائیے اپنے خرچ سے کوئی ٹکٹ ہوائی جہاز کے نکال رہا تھا ،کہیں دس بیس بندوں کا پروجیکٹ تھا کہیں معاملہ ہم دونوں کے درمیان سیکریٹ تھا ۔۔۔۔۔غرضیکہ اتنے سارے واقعات و تجربات سے میں گذرا ہوں ان سے میں نے جو کچھ اخذ کیا اعمال و نقوش کی صحت کے حوالے سے وہ اپنی جگہ لیکن اس کے علاوہ  اس دفینے کی دنیا میں جو دھوکا فریب عیاری مکاری خود غرضی و خود فریبی دیکھی اس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا یہاں ہر ایک واقعے کو اگر تفصیل سے لکھوں تو با ضابطہ ایک کتاب بن جائے ، میں صرف ایک واقعہ کو مختصر بیان کروں گا جس سے آپ حضرات کو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ خزانہ زمین میں زیادہ ہے یا لوگوں کے دماغ
     آج سے تقریباً ۱۲ سال قبل بریلی شریف سے واپسی پر ٹرین میں مجھے ایک صاحب ملے جو پیشے سے حکیم تھے  علیک سلیک کے بعد مذہبی گفتگو ہونے لگی انہوں نے مجھ سے دفینے کے حوالے سے چند سوالات کئے تو میں نے جو انہیں جوابات دئے اس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور مجھ کو ایک صدری نسخہ قوتِ باہ کا لکھ کر دیا چوںکہ حکمت سے مجھے کوئی خاص شغف نہیں میں نے وہ نسخہ بھلا دیا اس کے ساتھ انہوں نے ایک واقعہ بڑا دلچشپ دفینے کا سنایا کہا کہ میرے پاس ایک غیر مسلم اکثر علاج کے لئے آیا کرتا تھا ایک دن اس نے مجھے اپنے بڑےبھائی کے بارے میں بتایا کہ ان کو کسی پنڈٹ نے کہ دیا ہے کہ تمہاری زمین کہ اندر بھاری ماترا میں کوئی کھجانا مطلب خزانہ دفن ہے جب سےمیرے بڑے بھائی اب تک لاکھوں روپئے عاملوں اور پنڈٹوں کی نذر کر چکے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا اب نتیجہ یہ ہے کہ وہ نا  خود کھیت میں بیج بوتے ہیں اور نا ہی کسی کو اجازت دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب تک خزانہ نہیں نکلتا اس کھیت میں فصل نہیں اگائیں گے ،حکیم صاحب نے اس کی بات بغور سننے کے بعد کہا میں خزانہ نکال دوں گا لیکن ۲۵ ہزار روپئے خرچ ہونگے جو آپ کو پیشگی دینی ہو گی وہ صاحب راضی ہو گئے دوسرے دن پیسے لیکر آئے حکیم صاحب انہیں لیکر مرادآباد گئے وہاں سے پرانی اینٹک تانبے پیتل سے سامان خریدے اور چند چاندی کے سکے خریدے پھر واپس ہوئے اور اس شخص سے کہا رات ۱۱ بجے کھیت میں چلنا کدال لے کر دونوں گئے اور کسی مناسب جگہ کھدائی کر کے سارا سامان اس میں دفن کر دیا اور کہا صبح اپنے بھائی کو میرے پاس یہ کہ کر لانا کہ یہ حکیم صاحب ۵۰۰۰ روپئے لیتے ہیں لیکن خزانے کی نشاندہی فوراً کر دیتے ہیں بلکہ نکلنے تک نگرانی کرتے ہیں ،دوسرے دن علی الصبح وہ اپنے بڑے بھائی کو لیکر حکیم صاحب کے پاس آیا حکیم صاحب  نے ایک گھنٹہ  دونوں بھائیوں سے تفتیشی انداز میں بات چیت کی پھر  ان سے کہاں آپ لوگ اپنے کھیت میں جاو میں اپنے موکل سے معلوم کر کے آتا ہوں خزانہ کس جگہ دفن ہے پھر کچھ دیر بعد حکیم صاحب کھیت میں آئے اور کہاں اور پورے کھیت کا چکر لگایا اور اسے مناسب مقام پر اپنی چھڑی سے گول دائرہ بنا دیا کہاں یہاں کھودو زیادہ نہیں صرف پانچ فٹ کھودو خزانہ اوپر آچکا ہے وہ شخص فوراً دوڑا گھر سے کدال لے آیا اور کھودنا شروع کیا جب ڈھن کی آواز آئی تو وہ خوشی سے کودنے لگا اور حکیم صاحب کو معاذ اللہ سجدہ کرنے لگا اس سے کہا گیا پہلے خزانہ نکالوں ورنہ اندر چلا جائےگا وہ ڈر گیا فوراً کدال اٹھا کر مستعدی سے اپنے کام میں لگ گیا کھدائی سے جو چیزیں برآمد ہوئیں اسے دیکھ کو وہ اتنا خوش تھا کہ اس کا بیان کرنا مشکل ہے اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا دیکھا میں کہتا تھا نا کہ کچھ نا کچھ تو ضرور ہے اگرچہ بہت کچھ نا صحیح ،جب یہ مشن پورا ہوا تب جاکے کہیں کھیت میں فصل لگی نعوذ با للہ ،جب حکیم صاحب نے مجھے یہ قصہ سنایا تو میں نے کہا در اصل خزانہ زمین میں نہیں اس بنیے کے دماغ تھا جسے آپ نے نکال باہر کیا اور اس طرح آپ نے ایک نفسیاتی مریض کا کامیاب علاج کیا سبحان اللہ
     اور آج بھی میں اپنے متعدد تجربات کی روشنی میں کہتا ہوں کہ خزانہ زمین میں کم انسانوں کے دماغ میں زیادہ ہے بلکہ بہروپیوں کا گروہ ہر شہر میں سیدھے سادے لوگو ں کے دماغ میں مفروضہ خزانہ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ یہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ آپ کے مکان میں زمیں کے اندر اندر خزانہ کھینچ لانے کے دعوے کئے جا رہےہیں   ،میں اپنے تمام احباب روحانی عاملین سے کہوں گا کہ آپ حضرات پہلے حالات کا صحیح طور پر جائزہ لیں اگر کچھ صداقت پائیں تو قسمت آزمائیں ورنہ خواہ مخواہ اس جھمیلے میں نا پڑیں


جنتی لاٹھی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو ''عصاءِ موسیٰ''کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اُن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔
اِس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو اپنے دامن میں سینکڑوں اُن تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔
یہ لاٹھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور اس کے سر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہوجایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ چنانچہ
حضرت سید علی اجہوزی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ  ؎

واٰدَمُ مَعَہٗ اُنْزِلَ الْعُوْدُ وَالْعَصَا                 لِمُوْسٰی مِنَ الْاٰسِ النَّبَاتِ الْمُکَرَّمِ
وَ اَوْرَاقُ تِیْنٍ وَّالْیَمِیْنُ بِمَکَّۃَ                 وَ خَتْمُ سُلَیْمٰنَ النَّبِیِّ اَلمُعَظَّم

ترجمہ: حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود (خوشبودار لکڑی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا،انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبئ معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اُتاری گئیں۔
  (تفسیر الصاوی ،ج۱،ص۶۹،البقرۃ:۶۰ )
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو ''قومِ مدین''کے نبی تھے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔ اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اُس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصا عطا فرمایا۔
پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ''طُویٰ'' میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اُس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اُس کو اِ س طرح بیان فرمایا کہ!
وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَلِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی 
ترجمہ کنز الایمان :۔اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔(پ 16،طہ:17،18)
مَاٰرِبُ اُخْرٰی(دوسرے کاموں)کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مثلاً:۔(۱)اس کو ہاتھ میں لے کر اُس کے سہارے چلنا (۲)اُ س سے بات چیت کر کے دل بہلانا (۳)دن میں اُس کا درخت بن کر آپ پر سایہ کرنا(۴)رات میں اس کی دونوںشاخوں کا روشن ہو کر آپ کو روشنی دینا (۵)اُس سے دشمنوں، درندوں اور سانپوں، بچھوؤں کو مارنا (۶)کنوئیں سے پانی بھرنے کے وقت اس کا رسی بن جانا اور اُس کی دونوں شاخوں کا ڈول بن جانا (۷)بوقتِ ضرورت اُس کا درخت بن کر حسبِ خواہش پھل دینا(۸)اس کو زمین میں گاڑ دینے سے پانی نکل پڑنا وغیرہ   
(مدارک التنزیل،ج۳،ص۲۵۱،پ۱۶،طہ:۱۸)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس مُقدّس لاٹھی سے مذکورہ بالا کام نکالتے رہے مگر جب آپ فرعون کے دربار میں ہدایت فرمانے کی غرض سے تشریف لے گئے اور اُس نے آپ کو جادوگر کہہ کر جھٹلایا تو آپ کے اس عصا کے ذریعہ بڑے بڑے معجزات کا ظہور شروع ہو گیا، جن میں سے تین معجزات کا تذکرہ قرآنِ مجید نے بار بار فرمایا جو حسب ذیل ہیں۔
عصا اژدہا بن گیا اس کا واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے ایک میلہ لگوایااور اپنی پوری سلطنت کے جادوگروں کو جمع کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دینے کے لئے مقابلہ پر لگا دیا اور اس میلہ کے ازدحام میں جہاں لاکھوں انسانوں کا مجمع تھا، ایک طرف جادوگروں کا ہجوم اپنی جادوگری کا سامان لے کر جمع ہو گیا اور اُن جادوگروں کی فوج کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا ڈٹ گئےجادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم کھا کر اپنے جادو کی لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکا تو ایک دم وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر پورے میدان میں ہر طرف پھنکاریں مار کر دوڑنے لگیں اور پورا مجمع خوف و ہراس میں بدحواس ہو کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا اور فرعون اور اس کے تمام جادوگر اس کرتب کو دکھا کر اپنی فتح کے گھمنڈ اور غرور کے نشہ میں بدمست ہو گئے اور جوشِ شادمانی سے تالیاں بجا بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرنے لگے کہ اتنے میں ناگہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اپنی مقدس لاٹھی کو اُن سانپوں کے ہجوم میں ڈال دیا تو یہ لاٹھی ایک بہت بڑا اور نہایت ہیبت ناک اژدہا بن کر جادوگروں کےتمام سانپوں کو نگل گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑے اور باآوازِ بلند یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ آمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَمُوْسٰی یعنی ہم سب حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے رب پر ایمان لائے۔
چنانچہ قرآنِ مجید نے اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی قَالَ بَلْ اَلْقُوۡا ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَ عِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی فَاَوْجَسَ فِیۡ نَفْسِہٖ خِیۡفَۃً مُّوۡسٰی قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنۡتَ الْاَعْلٰی وَاَلْقِ مَا فِیۡ یَمِیۡنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوۡا ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا کَیۡدُ سٰحِرٍ ؕ وَ لَایُفْلِحُ السّٰحِرُ حَیۡثُ اَتٰی فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ ہٰرُوۡنَ وَ مُوۡسٰی 
ترجمہ کنزالایمان:بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی اُن کی رسیاں اور لاٹھیاں اُن کے جادو کے زور سے اُن کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے اورڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور اُن کی بناوٹوں کو نگل جائے گا وہ جو بنا کر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے تو سب جادوگر سجدے میں گرالئے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔(پ16،طہ65تا70)

عصا مارنے سے چشمے جاری ہو گئے بنی اسرائیل کا اصل وطن مُلکِ شام تھا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں یہ لوگ مصر میں آ کر آباد ہو گئے اور ملکِ شام پر قوم عمالقہ کا تسلط اور قبضہ ہو گیا جو بدترین قسم کے کفار تھے جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے خطرات سے اطمینان ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قوم ِ عمالقہ سے جہاد کر کے ملکِ شام کو اُن کے قبضہ و تسلط سے آزادکرائیں چنانچہ آپ چھ لاکھ بنی اسرائیل کی فوج لے کر جہاد کے لئے روانہ ہوگئے مگر ملکِ شام کی حدود میں پہنچ کر بنی اسرائیل پر قومِ عمالقہ کا ایسا خوف سوار ہو گیا کہ بنی اسرائیل ہمت ہار گئے اور جہاد سے منہ پھیر لیا اس نافرمانی پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ سزادی کہ یہ لوگ چالیس برس تک ''میدان تیہ''میں بھٹکتے اور گھومتے پھرے اور اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اُن لوگوں کے ساتھ میدانِ تیہ میں تشریف فرما تھے۔ جب بنی اسرائیل اس بے آب و گیاہ میدان میں بھوک و پیاس کی شدت سے بے قرار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا سے اُن لوگوں کے کھانے کے لئے ''من و سلویٰ'' آسمان سے اُتارا۔ مَن شہد کی طرح ایک قسم کا حلوہ تھا، اور سلویٰ بھنی ہوئی بٹیریں تھیں کھانے کے بعد جب یہ لوگ پیاس سے بے تاب ہونے لگے اور پانی مانگنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر اپنا عصا مار دیا تو اُس پتھر میں بارہ چشمے پھوٹ کر بہنے لگے اور بنی اسرائیل کے بارہ خاندان اپنے اپنے ایک چشمے سے پانی لے کر خود بھی پینے لگے اور اپنے جانوروں کو بھی پلانے لگے اور پورے چالیس برس تک یہ سلسلہ جاری رہا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا جو عصا اور پتھر کے ذریعہ ظہور میں آیا قرآن مجید نے اس واقعہ اور معجزہ کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
وَ اِذِ اسْتَسْقٰی مُوۡسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبۡ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ ؕ  ۔
ترجمہ کنزالایمان :۔اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا۔        (پ1،البقرۃ: 60)

عصا کی مار سے دریا پھٹ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مدت دراز تک فرعون کو ہدایت فرماتے رہے اور آیات و معجزات دکھاتے رہے مگر اس نے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ اور زیادہ اس کی شرارت و سرکشی بڑھتی رہی۔ اور بنی اسرائیل نے چونکہ اس کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا اِس لئے اس نے اُن مومنین کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اِس دوران میں ایک دم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی اُتری کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر رات میں مصر سے ہجرت کرجائیں چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات میں مصر سے روانہ ہو گئے جب فرعون کو پتا چلا تو وہ بھی اپنے لشکروں کو ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی گرفتاری کے لئے چل پڑا جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو بنی اسرائیل فرعون کے خوف سے چیخ پڑے کہ اب تو ہم فرعون کے ہاتھوں گرفتار ہوجائیں گے اوربنی اسرائیل کی پوزیشن بہت نازک ہوگئی کیونکہ اُن کے پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر تھا اور آگے موجیں مارتا ہوا دریا تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مطمئن تھے اور بنی اسرائیل کو تسلی دے رہے تھے۔ جب دریا کے پاس پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ تم اپنی لاٹھی دریا پر ماردو۔ چنانچہ جونہی آپ نے دریا پر لاٹھی ماری تو فوراً ہی دریا میں بارہ سڑکیں بن گئیں اور بنی اسرائیل ان سڑکوں پر چل کر سلامتی کے ساتھ دریا سے پار نکل گئے۔ فرعون جب دریا کے قریب پہنچا اور اس نے دریا کی سڑکوں کو دیکھا تو وہ بھی اپنے لشکروں کے ساتھ اُن سڑکوں پر چل پڑا مگر جب فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اچانک دریا موجیں مارنے لگا اور سب سڑکیں ختم ہو گئیں اور فرعون اپنے لشکروں سمیت دریا میں غرق ہو گیا اس واقعہ کو قرآن مجید نے اس طرح بیان فرمایا کہ:۔
فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوۡسٰۤی اِنَّا لَمُدْرَکُوۡنَ قَالَ کَلَّا ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ فَاَوْحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضْرِبۡ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیۡمِ وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیۡنَ وَ اَنۡجَیۡنَا مُوۡسٰی وَ مَنۡ مَّعَہٗۤ اَجْمَعِیۡنَ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیۡنَ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ 
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو اُنہوں نے آلیا موسیٰ نے فرمایا۔ یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہو گیا جیسے بڑا پہاڑ۔ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو پھر دوسروں کو ڈبو دیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور اُن میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ (پ19،الشعراء: 61تا 67)
یہ ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مقدس لاٹھی کے ذریعہ ظاہر ہونے والے وہ تینوں عظیم الشان معجزات جن کو قرآن کریم نے مختلف الفاظ اور متعدد عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرما کر لوگوں کے لئے عبرت اور ہدایت کا سامان بنا دیا ہے۔  (واللہ تعالٰی اعلم)

 اﷲ جس کا بھلا چاہتا ہے اسے دین کا فقیہ بنادیتا ہے
روایت ہے حضرت معاویہ سے  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم نے اﷲ جس کا بھلا چاہتا ہے اسے دین کا فقیہ بنادیتا ہے۱؎  میں بانٹنے والا ہوں اﷲ دیتا ہے۲؎ (بخاری،مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اسے دینی علم،دینی سمجھ ا ور دانائی بخشتاہے۔خیال رہے کہ فقہ ظاہری شریعت ہے اور فقہ باطنی طریقت اور حقیقۃً یہ حدیث دونوں کو شامل ہے۔اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ قرآن و حدیث کے ترجمے اور الفاظ رٹ لینا علم دین نہیں،بلکہ انکا سمجھنا علم دین ہے۔یہی مشکل ہے اسی کے لئے فقہاء کی تقلید کی جاتی ہے اسی وجہ سے تمام مفسرین و محدثین آئمہ مجتہدین کے مقلد ہوئے اپنی حدیث دانی پر نازاں نہ ہوئے رب فرماتا ہے:"مَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا"وہاں حکمت سے مراد فقہ ہی ہے۔قرآن و حدیث کے ترجمے تو ابوجہل بھی جانتا تھا۔دوسرے یہ کہ حدیث و قرآن کا علم کمال نہیں،بلکہ ان کا سمجھنا کمال ہے۔عالم دین وہ ہے جس کی زبان پر اﷲ اور رسول کا فرمان ہو اور دل میں ان کا فیضان،فیضان کے بغیر فرمان بیکار ہے،جیسے بجلی کی پاور کے بغیر فٹنگ بیکار۔
۲؎   اس سے معلوم ہوا کہ دین و دنیا کی ساری نعمتیں علم،ایمان،مال،اولاد وغیرہ دیتا اﷲ ہے بانٹتے حضور ہیں جسے جو ملا حضور کے ہاتھوں ملا،کیونکہ یہاں نہ اﷲ کی دین میں کوئی قیدہے نہ حضور کی تقسیم میں۔لہذا یہ خیال غلط ہے کہ آپ صرف علم بانٹتے ہیں ورنہ پھر لازم آئے گا کہ خدا بھی صرف علم ہی دیتا ہے۔خیال رہے کہ حضور کی دَین یکساں ہے مگر لینے والوں کے لینے میں فرق ہے۔بجلی کاپاور یکساں آتا ہے مگر مختلف طاقتوں کے بلب بقدر طاقت پاور کھینچتے ہیں۔پھر جیسا بلب کا شیشہ ویسا اس کا رنگ حنفی شافعی ایسے ہی قادری چشتی ہیں مختلف رنگ کے مگر سب میں پاور ایک ہی ہے ایک ہی سمندر سے تمام دریا بنے مگر راستوں کے لحاظ سے ان  کے نام الگ الگ ہوگئے ایسے ہی قادری چشتی وغیرہ ان سینوں کے نام ہیں جن سے یہ فیض آرہا ہے ۔۔۔مرآۃ المناجیح

دعاء جامع المطلوب و دافع الکروب
از صوفی محمد عمران رضوی القادری

دعاء جامع المطلوب و دافع الکروب کی ریاضت کا طریقہ
یہ دعاء بڑی جامع اور اسم با مسمیٰ ہے ،فقیرِ قادری نے اپنے ابتدائی دنوں میں اس کی ریاضت کی تھی اور کئی ایک چلے اس دعاء کے کر ڈالے تھے ، احباب کے لئے اس کی ریاضت کے چند طریقے لکھے دیتا ہوں سب سے پہلا جو مشہور ہے اسے چالیس دنوں تک روزانہ چالیس مرتبہ پڑھ کر عمل میں لائیں فقیر نے بھی اول ایسا ہی کیا تھا لیکن جب اس کے فوائد کثیر دیکھے تو مختلف تعداد میں پڑھ کر اس دعاء سے خوب مستفید ہوا ، تو پہلا طریقہ تو چالیس مرتبہ چالیس دن کا ہے اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ایک سو چودہ مرتبہ چالیس دن پڑھ کر عمل میں لائیں یہ پہلے طریقے سے عمدہ ہے اب اس سے بھی عمدہ ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک سو چودہ دنوں تک ایک سو چودہ مرتبہ اس دعاء کی تکرار کی جائے ان شاء اللہ کیسی بھی حاجت ہوگی اس عظیم دعاء کی برکت سے ضرور پوری ہوگی پھر چاہئے کہ روزانہ ۷ مرتبہ مطابق سبع سیارگان کے اس کو ورد میں رکھا جائے تاکہ برکات اس دعاء کی جاری رہے ، اس عمل میں کسی قسم کا پرہیز نہیں ہے اور کسی بھی ماہ میں شروع کر سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ ماہ ثابت یا ذوجسدین میں ہی شروع کرے، اور اس عمل میں اجازت ضروری ہے کہ بلا اجازت کرنے سے ناکامی ہاتھ آئےگی و لہذا اول اجازت اپنے مرشد یا استاذ سے حاصل کریں
دعاء جامع المطلوب ودافع الکروب سے کام لینے کا طریقہ
کسی بھی رکے ہوَئے کام کے لئے روزانہ ۱۱ بار پڑھ کر دعاء کی جائے ان شاء اللہ جلد ہی کام ہو جائےگا،سحر زدہ پر سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا جائے تو اسے آرام ہو چاہئے کہ سات روز مسلسل دم کرے اسی طرح آسیب زدہ کو بھی فائدہ ہوتا ہے فقیر کا آزمایا ہوا ہے،جس بچی کا رشتہ نہ آتا ہو رشتے میں رکاوٹ ہو تو یہ دعاء لکھ کر اس کے گلے میں ڈالے اور اسے پڑھنے کو دی جائے روزانہ گیارہ مرتبہ بچی یا اس کے گھر میں کوئی پڑھا کرے ان شاء اللہ بندش رشتے کی ختم ہوگی،اگر کسی کا کاروبار نقصان میں چل رہا ہو تو چاہئے کہ اس دعاء کو سفید کاغذ پر زعفران سے لکھے اور اس پر چالیس مرتبہ پرھ کر دم کرے اور اس شخص کو پاس رکھنے کو دی جائے ان شاء اللہ کاروباری نقصان سے بچا رہے گا ،اگر کوئی زحل کی ساڑھ ستی یا کسی بھی سیارے کی نحوست میں گرفتار ہو تو چاہئے کہ طلسم سبعہ سیارگان کے ساتھ دعاء جامع المطلوب لکھ کر اس پر چالیس مرتبہ پڑھ کر دم کر کے دے کہ وہ شخص اپنے پاس رکھے ان شاء اللہ ساڑھ ستی اور نحوستِ سیارگان سے محفوظ رہے گا فقیرِ قادری عرصہ دراز سے یہ طلسم تیار کرتا آرہا ہے بحمدللہ بے حد موثر ہے، غرضیکہ اس دعاء سے کام لینے کے بے شمار طریقے ہیں عامل کو چاہئے کہ اپنی فراست کو کام میں لائے اللہ تعالی مجھے اور میرے تمام احباب کو علمِ نافع عطاء فرمائے آمین
دعاء جامع المطلوب ودافع الکروب پڑھنے کے فوائد
اس دعاء کو روزانہ بطور وظیفہ پڑھنے کے فوائد کثیر ہیں،میں یہاں مختصرا لکھے دیتا ہوں،اس دعاء کو روزانہ پڑھنے والے کی فرشتے اس کے کاموں میں غیبی مدد فرمائینگے،مقاصد و مراد پورے ہوں گے،جان و مال آل و اولاد دوست و احباب و اخوان گھر بار اہلِ خانہ سب آفات و بلیات و نقصانات سے محفوظ رہینگے ،سیارگان کی نحوست دفع ہو کر ہر کام آسان ہو جایا کرے گا،ہر قسم کے جن شیاطین آسیب اثرات بلیات سے محفوظی ہوگی ،جادوگروں کا جادو ناکام ہوگا اور ساحر عاجز و پریشان ہوگا،ظالم حکام کے ظلم و ستم سے امان میں رہے گا ،یہ دعاء ایک بہترین استخارہ بھی ہے ساتھ ہی آئیندہ پیش آنے والے واقعات کی خواب میں نشاندہی ہو جایا کرےگی اور سچے خواب دکھیں گے، کسی بھی حادثے  یا خوشنما واقعےسے قبل خواب یا بیداری میں اطلاع مل جایا کریگی،دشمنوں پر ہمیشہ غلبہ رہے گا اور مخلوقِ خدا خوب خوب مسخر ہوگی لوگ پیچھا نہیں چھوڑیں گے،بلا زکات بھی اجازت لے کر روزانہ پابندی سے ۱۱ بار پڑھنے والا مذکورہ بالا فوائد کم و بیش ضرور دیکھے گا چاہئے کہ اپنے مرشد یا استاذ سے اجازت حاصل کر کے روزانہ اپنے ورد میں رکھے



دعائے تسخیرِ دشمناں
مولائے کائنات حضرتِ علی شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے منسوب یہ دعاء دفع اعداء میں اثر تمام رکھتی ہے جو کوئی ۴۱ مرتبہ بوقتِ فجرقبلِ طلوعِ آفتاب پڑھے گا اس کا دشمن ہمیشہ ذلیل و خوار ہوگا اور چاہے جتنا ایڑی چوٹی کا زور لگا لے اس دعاء کے پڑھنے والے پر ہرگذ غالب نہ آسکے گا اس دعاء کو عمل میں لانے کے لئے روزانہ ۴۱ مرتبہ فجر میں پڑھ لیں کسی بھی دن سے شروع کرسکتے ہیں چلہ مکمل کرنے کے بعد روزانہ اُسی وقت ۱۱ مرتبہ پڑھتا رہے عمل قائم رہےگا ،میاں بیوی میں سے کوئی نا فرمان ہو تو ا ن کو راہِ راست پر لانے کے لئے بھی یہ عمل اکسیر ہے 


کشف القلوب اور یکسوئی کا عمل
از صوفی محمد عمران رضوی القادری
کسی بھی فن میں کامیاب ہونے کے لئے انسان کے دل و دماغ کا یکسو ہونا ضروری ہے خاص کر فنِّ عملیات و نقوش میں کہ جب تک عامل کا ذہن منتشر ہوگا اس کے اعمال ناقص اور نقوش بے اثر ہوں گے ،پھر آگے ترقی کا مدار بھی یکسوئی اور صفائے قلبی پر منحصر ہے لہذا  احباب کے لئے کشف القلوب اور یکسوئی حاصل کرنے کے لئے سورہ یسین  اور اسماءِ موکلینِ باطنی حروفِ تہجی کا ایک خاص صدری عمل پیش خدمت ہے، عامل کوچاہئے کہ تہجد کا اہتمام کرے اس کے لئے عشاء کے بعد جلد سو جائے تاکہ تہجد میں بیدار ہونے میں دشواری پیش نہ آئے  ،جب بیدار ہو تو حضوری قلب کے ساتھ وضو بنائے اور جس قدر نفل ادا کرنا چاہے ادا کرے کم از کم چار نفل دو سلام سے ادا کرے اب درودشریف کوئی سا طاق مرتبہ پڑھ کر تعوذ و تسمیہ کے ساتھ سورۃ یسین شریف کا ورد شروع کرے  جب یسین شریف کے پہلے مبین پر پہنچے تو   الف تا یا حروفِ تہجی موکلینِ باطنی کے ساتھ   ایک مرتبہ پڑھے جب دوسرے مبین پر پہنچے تو دو مرتبہ پڑھے جب تیسرے مبین پر پہنچے تو تین مرتبہ پڑھے اسی طرح چوتھے  پر چار مرتبہ پانچوے پر پانچ مرتبہ  چھٹے  پر چھ مرتبہ اور ساتویں مبین پر سات مرتبہ پڑھے  یہ کل اٹھائیس ہو جائیں گے،اس عمل کی خاصیت یہ ہے کہ دل پر ایک سکون طاری ہو جائےگا  اور لا یعنی خیالات دل میں جا گذیں نہیں ہوں گے  اور دن بھر طبیعت میں ایک قسم کا ٹھہراو    رہے گا نہ ذہن منتشر ہوگا نہ دل پریشان ، بلکہ یکسو ئی کی نعمت حاصل ہونے لگے گی  ،ایک ہفتے میں ہی یوں ہوگا کہ آپ کے دل میں پیش آنے والے واقعات یا کسی خبر یا دوست احباب کے مافی الضمیر سے آگاہی ہونے لگے گی اور یہ بہت معمولی بات ہے ،ایسا ہونے پر اترانا نہیں چاہئے نا خودی کے زعم میں مبتلا ہونا چاہئے اور نا ہی کسی کے سامنے شیخی بگھارنا چاہئے بلکہ واقعات و اخبار سے محض اپنے کشف کی تصدیق کرتاجائے اور اپنے ایمان کو جلا بخشتا رہے اور یکسوئی کا لطف اٹھاتا رہے ،اس عمل کا حاصل یہی ہے لہذا کوئی کم ضرف اگر یہ سمجھے کہ وہ اس عمل کو کرکے لوگوں کے دلوں کے بھید جان لےگا تو جاننا چاہئے کہ ایسی ردّی فکر والا کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا اسے چاہئے کہ پہلے اپنی فکر کی اصلاح کرے پھر اس میدان میں قدم رکھے ،جب یکسوئی حاصل ہونے لگے  تو سمجھ لینا تمہاری جہاز اب رنوے پر دوڑ نے والی ہے پھر آگے پرواز بھی کرنا ہے
اسمائے موکلین باطنی مع حروف تہجی
بسم اللہ الرحمن الرحیم اجب یا اسرافیل بحق الف.اجب یاجبرائیل بحق با.اجب یاکلکائیل بحق جیم.اجب یادردائیل بحق دال.اجب یا دوریائیل بحق ھا.اجب یارفتمائیل بحق واؤ.اجب یا ثرفائیل بحق زا۔اجب یاتنکفیل بحق حا.اجب یااسماعیل بحق طا.اجب یا سرکیتائیل بحق یا.اجب یا حزورائیل بحق کاف. اجب یا طاطائیل بحق لام. اجب یا رویائیل بحق میم.اجب یاحولائیل بحق نون. اجب یا ہمواکیل بحق سین.اجب یا لومائیل بحق عین. اجب یاسرحمائیل بحق فا. اجب یا اہجمائیل بحق صاد.اجب یا عطریا ئیل بحق قاف.اجب یاامواکیل بحق را. اجب یا ہمرائیل بحق شین.اجب یا عزرائیل بحق تا. اجب یامیکائیل بحق ثا.اجب یا مہکائیل بحق خا. اجب یااہراطیل بحق ذال.اجب یا عطکائیل بحق ضا. اجب یا لوزائیل بحق ظا. اجب یا لوخائیل بحق غین برحمتک یا ارحم الرحمین

خزانہ اور دفینہ کی قسمیں
از صوفی محمد عمران رضوی القادری
قرآنِ مقدس میں حضرتِ خضر علیہ السلام کےاس واقعے کا ذکر بڑی تفصیل آیا ہے  جس میں آپ جنابِ موسی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ایک بستی  میں تشریف لے جاتے ہیں اور بستی  والوں کے نا روا سلوک کے باوجود آپ اس بستی  میں دو یتیم بچوں کے گھر کی گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دیتے ہیں اس کو قرآن مجید میں فرمایاوَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ "خضر نے فرمایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے اور ان کاباپ نیک آدمی تھا " اس آیت میں خضر علیہ السلام کی یہ کرامت بیان ہوئی کہ انہوں نے زمین کے نیچے کا دفینہ معلوم کرلیا ان جیسی بہت سی آیات میں انبیاء کرام کے معجزات اور  اولیاء اللہ کی کرامات بیان ہو ئیں ،مفسرین فرماتے ہیں  اس دیوار کے نیچے ان دو بچوں کا خزانہ تھا ان کے نام اصرم صریم تھے  اور کان ابوھما صالحا میں ان کے جس باپ کا ذکر ہے وہ ان بچوں کا آٹھویں یا دسویں پشت میں باپ تھا  ،دیکھئے نیک اور صالح انسان کی نیکی کا اثر اس کی کئی نسلوں میں باقی رہتا ہے   جاننا چاہئے  کہ باپ کے تقویٰ و پرہیز گاری کے نتیجے میں ا س کی اولاد در اولاد کو دنیا میں فائدہ ہوتا ہے، جیساکہ حضرت  عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ آدمی کے نیک ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد در اولاد  کی بہتری فرما دیتا ہے اور اس کی نسل اور اس کے ہمسایوں میں اس کی رعایت فرما دیتا ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف سے پردہ پوشی اور امان میں رہتے ہیں}درمنثور{
اور حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’ اللّٰہ تعالیٰ بندے کی نیکی سے اس کی اولاد کو اوراس کی اولاد کی اولاد کو اور اس کے کنبہ والوں کو اور اس کے محلہ داروں کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔(خازن)
 یونہی باپ کا نیک پرہیزگار ہونا آخرت میں بھی اس کی اولاد کو نفع دیتا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمٰنٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ‘‘" اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس)  اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی اولاد کو ان کےساتھ ملادیں گے اور ان( والدین) کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے}طور{
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بیشک اللّٰہ تعالیٰ مومن کی ذُرِّیَّت کو اس کے درجہ میں اس کے پاس اٹھالے گا اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہو تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔(جامع الاحادیث)
 حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جب آدمی جنت میں جائے گا تواپنے ماں باپ،بیوی اور اولاد کے بارے میں پوچھے گا۔ ارشاد ہوگا کہ وہ تیرے درجے اور عمل کو نہ پہنچے۔ عرض کرے گا ’’اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ، میں نے اپنے اور ان کے سب کے نفع کے لئے اعمال کئے تھے۔ اس پر حکم ہوگا کہ وہ اس سے ملادئیے جائیں ،ان احادیث و آثار کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نیک اعمال کا اثر  نہ صرف باقی رہتا ہے بلکہ اس سے دنیا و آخرت میں برابر فیض پہنچتا ہے ،دیکھئے ان یتیموں کا خزانہ محض اس لئے محفوظ رہا کیوں کہ ان کا دادا جو کہ آٹھویں پشت میں تھا نیک اور صالح تھا ،اور یہ بھی پتہ چلا کہ ایسا خزانہ جو نیک نیتی کے ساتھ بطور امانت کوئی دفن کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس پر محافظ مقرر ہوتے ہیں پھر کوئی لاکھ چاہے کہ اسے حاصل کرلے ہرگذ کامیاب نہیں ہو سکتا یہ نکتہ ذہن میں رہے آگے کام آئےگا
خزانہ اور دفینہ نکالنے کے تعلق سے فقیر کو  سینکڑوں کی تعداد میں کالس اور میسج آ تے ہیں اور بہت سارے سوالات بھی احباب کے جمع ہو گئے ان شاء اللہ اس آرٹیکل میں  بتدریج  ان کے جوابات بھی  آئیں گے ،سب سے پہلے میں عرض کر دوں کہ دفینہ وغیرہ  کے حوالے سے میرے بہت سارے ذاتی تجربات ہیں  یہ کام آسان نہیں بلکہ جان جوکھوںوالا کام ہے دفینہ کا حاصل کرنا ممکن توہے لیکن آسان نہیں، وہ لوگ جو خزانے کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں پہلے فقیر کی تحریر پڑھ لیں توان شاء اللہ ان کا  وقت اور مال دونوں ضائع ہونے سے محفوظ رہیں گے ،دسیوں ایسے خاندان جنہوں نے  نا تجربہ کار یا نا اہل عاملین کے بتانے پر خزانہ حاصل کرنے کے لئے لاکھوں روپئے اور وقت ضائع کر بیٹھے حاصل کچھ نا ہوا سوائے تضیع اوقات اور مال کی بربادی کے، کچھ تو نفسیاتی مریض ہو گئے ان کا علاج کیا گیا بہر کیف یہ میرا موضوع نہیں اس حوالے اداریہ میں گفتگو کر آیا ہوں فی الوقت سب سے پہلے خزانے کی اقسام کو سمجھتے ہیں  اور اس کے بعد اس کے  نکالے جانے کی ترکیب نقوش و طلسمات و عملیات کا تذکرہ ہوگا

خزانے کی دو قسمیں
 سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ خزانے کی دو قسمیں ہوتی ہیں  اگر بہت سارا قیمتی مال انسان خود کہیں دفن کرے یا رکھ چھوڑے تو عربی میں اسے کنز کہتے ہیں اردو میں دفینہ یا خزانہ اور فارسی میں گنج  کہا جاتا ہے  یہ بھی جاننا چاہئے کہ جب مطلقاً کنز یا دفینہ یا خزانہ یا گنج  بغیر کسی اضافت کے کہا جائے تو اس سے مراد مال و دولت ہوتا ہے اور اضافت کے ساتھ ہر چیز کو کنز یا گنج کہ سکتے ہیں جیسے کنزالایمان ،کنزالدقائق، پنجِ گنج قادری وغیرہ تو یہ خزانے کی ایک قسم ہوئی جسے کنزیا دفینہ کہتے ہیں  قرآن مقدس میں دو طرح کے کنز کا ذکر ہوا ایک کی حفاظت کرنے اور پوشیدہ رکھنے کا ذکر فرمایا  وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ "خضر نے فرمایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے اور ان کاباپ نیک آدمی تھا  " اس خزانے کی حفاظت کی گئی اس کے لئے محافظ مقرر کئے گئے،لیکن وہ خزانہ  جوخدا کی راہ میں مال نہ خرچ کے جمع کئے جائیں تو ایسا کرنے  والوں کو وعید سنائی گئی  فرمایا  وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ "اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی" فقیر قادری عرض کرتا ہے کہ وہ خزانے جو کسی خاص مقصد و حسنِ نیت کے ساتھ کہیں دفنائے جائیں تو وہ ہر کسی کو نہیں مل سکتیں  ہاں جو  اس کا مستحق ہوگا بلا تکلف  اسےحاصل ہو جائے گا اوریہ دفینہ رکھنے والے کی نیت پر منحصر ہے کہ اس نے اسے مباح  کر دیا ہوکسی ضرورت مند یا دیندار انسان کے لئے اس میں مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ،اور وہ دفینہ جس پر خدائے قدیر کی وعید آئی ہے اس پر کوئی محافظ مقرر نہیں ہوتا اسے مالِ غنیمت سمجھنا چاہئے اور ایسا مال جو دفینے کی شکل میں کہیں ہو اس کو حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں،واضح رہے کہ میں دفینوں کے  شرعی احکام نہیں بتا رہا بلکہ یہ روحانی تدبیر کے قبیل سے ہے ہاں یہ ضرور ملحوظ رہے کہ خزینہ و دفینہ کے تعلق سے بہارِ شریعت میں با ضابطہ ایک باب ہے وہاں سے دفینہ وغیرہ کے شرعی احکام معلوم کرنا چاہئیے،
  دوسری قسم خزانے کی وہ ہے کہ کہیں خود ہی قدرتی طور پر کوئی قیمتی جمادات مثل   فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر  جواہر یاسونا ،چاندی،سیسہ،پیتل،لوہا،تانبہ وغیرہ  پیدا ہوجائے یا ہوتا ہو تو ایسے خزانے کو عربی میں معدن اور اردو و فارسی میں کان کہتے ہیں ، دور جدید میں کسی بھی کان  کی کھوج مشینی آلات سے کی جاتی ہے اس سلسلے میں روحانی تدابیر کا کوئی ذکر بھی نہیں کرتا  
 
اعمالِ خزینہ و  دفینہ کی دو قسمیں
جس طرح خزانے کی دو قسمیں ہیں اسی طرح ان کا سراغ لگانے والے اعمال بھی دو طرح کے ہیں ،پہلی قسم کے اعمال و نقوش میں دفینہ کے ساتھ سحر مدفونہ بھی شامل ہے مطلب جس عمل یا طریق سے دفینہ معلوم ہوگا اسی طریقے سے سحر مدفونہ کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے   ،جبکہ دوسرے قسم کے اعمال و نقوش معدنی اشیاء مثل     فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر  جواہر یاسونا ،چاندی،سیسہ،پیتل،لوہا،تانبہ وغیرہ  کے دریافت کے لئے ہیں چونکہ دوسرے قسم کے خزانے کو دریافت کرنا یہ ہمارا موضوع نہیں اس واسطے صرف پہلی قسم کے خزانے اور اس کے حصول کے طریق اور  اعمال و نقوش وغیرہ پر بات چلے گی ،کتب عملیات میں جتنے اعمال درج ہیں وہ  زیادہ تر دفینہ کے عنوان سے  ہیں وہاں آپ کو معدن یا کان کا پتہ لگانے کے عنوان سے اعمال نظر نہیں آئیں گے  لیکن  حقیقت یہ ہے کہ ان اعمال ونقوش میں بعض  معدن کے لئے ہیں اور بعض کنز کے لئے ، لہذا دفینہ کی کھوج میں اکثر ناکامی عاملین کو اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ  وہ ان دو قسم کے اعمال میں فرق نہیں کر پاتے ،جن اعمال یا نقوش سے خزانے کی قسم اول کا پتہ چلتا ہے ضروری نہیں کے قسم دوم یعنی معدن یا کان کا پتہ بھی ان سے چل جائے اسی طرح دوسری قسم کے خزانے کا پتہ لگانے والے نقوش و اعمال و طلسمات سے قسم اول یعنی دفینہ کا سراغ ہرگذ نہیں مل سکتا مثال کے طور پر مرغ کے ذریعہ دفینہ معلوم کرنے کے جتنے طریقے ہیں وہ سب قسم اول یعنی دفینہ اور سحر مدفونہ کے لئے ہیں اس سے معدن کا پتہ نہیں چل پائے گا  نہ مرغ وہاں پنجے مارے گا اور نا بانگ دیگا ،اسی طرح  لَہُ مَقَالِیْدُالسَّمَوٰتِ وَالْاَرْض والی آیت سے دفینہ اور گنج کا پتہ نہیں لگ سکتا اس آیت ِ شریفہ کی خاصیت کان یا معدن کی کھوج میں اثر رکھتی ہے   اور اسی طرح اس  آیت کو اگر مرغ کے باندھ کر مشتبہ مقام پر چھوڑیں گے تو کچھ فائدہ نہیں ہوگا  میں نے اعمال و نقوش کی مشہورو معروف  کتابوں میں دیکھا ہے کہ نقش جو معدن کے لئے مفید ہے اسے دفینہ کے لئے لکھا گیا ہے  اس کی سب سے بڑی وجہ نقل در نقل ہے ،جب عامل بذات ِخود دفینہ کی کھوج کے روحانی طریقوں پر عمل پیرا ہوگا اور بہت سارے تجربات سے گذرے گا جب ہی اسے اعمال و نقوش جو اس سلسلے میں وارد ہیں ان کی صحیح طور پر پرکھ  اور جانچ ہو سکے گی میری اس مختصر سی تمہید سے اہل علم حضرات دفینہ و معد ن کے اعمال و نقوش میں فرق کر پائیں گے  ۔۔۔۔جاری ہے

دعائے کشف عالم ِارواح
 باطنی آنکھ کھولنے والی جامع و مستند دعاء
حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی دعا اس دعا سے بہتر نہیں ہے جو کوئی میری امت میں سے اس دعا کو پڑھے گا خدائے تبارک وتعالیٰ ستر ہزار بیماریاں ظاہری و باطنی اُس کی دُور فرمائے گا اور جو کوئی ایّامِ بیض میں تین رات دن برابر پڑھے گا اپنے نفس کافر پر فتح یاب ہوگا اور اس کے تمام گناہ صغیرہ و کبیرہ بخشے جاویں گے اور جو کوئی اکیس رات برابر اکیس بار اس دعا کوپڑھے گا عالم ارواح اس پر منکشف ہوگا اور سب کچھ دکھلائی دے گا دبعض نسخوں میں اتنا اور زیادہ ہے اتنا ثواب حق تعالیٰ کرامت فرمائے گا کہ سوائے خدا کے اور کوئی نا جانے گا اور جو کوئی ہمیشہ یہ دعا پڑھے گا حق تعالیٰ اس کو عذاب گور سے نجات دے گا اور قیامت کو بھی عذاب سے بچائے گا اور دارین کی آفات سے محفوظ رکھے گا اور دوذخ کی سخت آواز اس کے کان میں نہ آوے گی اور مرگ مفاجات سے ایمن رہے گا اورتو انگرہوگا اور خلائق کی نگاہ میں عزیز ہوگا اور جو کوئی اس دعا کو ایک دفعہ روز پڑھ لیا کرے گا کبھی مقروض نہ ہوگا اور اپنے دشمنوں کے شر سے مامون رہے گا اور بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر اُس کے لکھنے کی یہاں گنجائش نہیں اس دعاء کو عمل میں لانےکا ایک طریقہ یہ ہے کہپرہیز جلالی کے ساتھ ۲۱ دنوں کے تین چلے متواتر کئے جائیں اور روزانہ بعد نماز عشاء ۲۱ مرتبہ پڑھ کر ختم کریں پھر ہمیشہ ایک مرتبہ پڑھتا رہے جب کسی امر کا قصد کرے گا اس کا حل آنکھ بند کرتے ہی باطن کی آنکھ سے دیکھ لے گا یہ دعاء نا اہل کو نقصان پہچانے والی دعاء ہے لہذا کھیل تماشا اور آزمائش کے طور پر جو کرے گا سزا کا ذمہ دار وہ خود ہوگا اس واسطے چاہئے کہ مرشدِ کامل سے اس دعاء کا طالب ہواور بغیر اجازت کے ہرگذ طبع آزمائی نہ کرے دعائے  مبارک یہ ہے




ذکر ونمازو دعائے ماہ محرم الحرام
از-صوفی محمد عمران رضوی القادری
آپ سب کو اسلامی نیا سال ۱۴۴۱ ھجری  بہت بہت مبارک  ہو رب قدیر کی کی جناب میں دعاء گو ہوں کہ یہ سال آپ سب کے لئے خیر و عافیت ،فتح و نصرت  اور ترقی درجاتِ روحانی کا سال ہو آمین ۔۔۔

جب محرم کا چاند نظر آئےتو یہ دعاء پڑھنی چاہئیے
آقائے دو جہاں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ جب ماہ محرم کا چاند نظر آئے تو پڑھے مَرْحَبًا بِاالسَّنَّۃِ الْجَدِیْدَۃِ وَ الشَّھْرِا لْجَدِیْدِ وَالْیَوْمِ الْجَدِیْدِ وَالسَّاعَۃِ لْجَدِیْدَۃِ  مَرْ حَبًا بِا الْکَاتِبِ وَالشَّھَادَۃِ وَالشَّھِیْدِ اَکْتَبَا صَحِیْفَتِیْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ ا ِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہ‘ لَاشَرِیکَ لَہ‘ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدً عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘ وَاَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَحَقٌّ وَاَنَّ السَّا عَۃَ اٰتِیَۃٌلاَّ رَیْبَ فِیْھَاوَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْر
پہلی رات کے نوافل
پہلی رات کو چھ رکعتیں تین سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد آیتہ الکرسی ایک بار اور سورہ  اخلاص گیارہ بار پڑھے اور تین بار سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ سُبُّوحٌ قُدُوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃُ
 وَا لرُّوحْ
سال کے پہلے دن کی نفل
اول روزمحرم الحرام  آفتاب نکلنے کے  ۲۰ منٹ بعد دو رکعت پڑھے اور دونوں رکعتوں میں جو قرآن شریف سے یاد ہو تلاوت کرے اور سلام کے بعد سات بار کلمہ طیّب پڑھےپورا  سال عافیت سے گذرے
شبِ عاشورہ کی نفل
۹ محرم الحرام کا دن گذارنے کے بعد جو  عاشورہ کی رات آئے اس میں  سو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص تین بار اور جب نماز سے فارغ ہو تو ستّر بار سُبْحَانَ اللہ ِوَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بَااللّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ گناہ بخشے جائیں دعائیں قبول ہوں
 عاشورہ کے دن کا  روزہ
محرم کا مہینہ نہایت مبارک مہینہ ہے، خاص کر عاشورہ کا دن بہت ہی مبارک ہے کہ دسویں محرم جمعہ کے دن حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے زمین پر تشریف لائے اور اسی تاریخ اور اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے نجات پائی اور فرعون غرق ہوا، اسی تاریخ اور اسی دن میں سید الشہداامام حسین علیٰ جدہ وعلیہ السلام نے کربلا کے میدان میں شہادت پائی اور غالباًاسی  جمعہ کے دن دسویں محرم کو قیامت آئے گی غرضیکہ جمعہ کا دن اور دسویں محرم بہت مبارک دن ہے اسلام میں سب سے پہلے صرف عاشورہ کا روزہ فرض ہوا،پھر رمضان شریف کے روزوں سے اس روزے کی فرضیّت تو منسوخ ہوگئی مگر اس دن کا روزہ اب بھی سنت ہے
حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،حضور اکر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ''ماہِ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ تعالی  کے مہینے محرم کے روزے ہیں ]صحیح مسلم[
   حضرت سیِّدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یومِ عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا گیاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میں نہیں جانتا کہ اللہ کے پیارے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے باقی دنوں پر فضیلت کے طور پر یومِ عاشورہ کے علاوہ کسی دن کا اور باقی مہینوں پر فضیلت کے طور پر رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا روزہ رکھا ہو۔'']صحیح مسلم[
حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا، اس کے ایک اگلے اور ایک پچھلے سال کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اس کے ایک سال کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔'']مجمع الزوائد[
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بڑا ثواب ہے یعنی ایک سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ صَامَ یَوْ مَ عَا شُوْرآءَ فَکَا نَّمَا صَامَ الدَّھُرَ کُلَّہ

عاشورہ کے دن کی دعائیں اور نوافل
چاشت کے وقت غسل کر کے اور لباس پہن کر تھوڑا پانی ہاتھ میں لے کر سر پر ملتا جائے اور یہ تسبیح پڑ ھتا جائے حَسْبِیَ اللّٰہُ وَکَفٰی سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ دَھَا لَیْسَ وَرآءِ اللّٰہِ الْمُنْتَھٰی مَنِ اعْتَصَمَ بِجَبْلِ اللّٰہ نَجٰی وَتَخْلُقُ مَا تَخْلُقُ فِی ھٰذَالْیَوْمِ اس کے بعد دو  رکعت پڑھے پہلی میں فاتحہ کے بعد آیتہ الکرسی اور دوسری میں لوانزلنا آخر سورہ حثر تک بعد نماز کے درود شریف پڑھے پھر یہ دعا پڑھے یَا اَوَّلَ الْاَ وَّ لِیْنَ یَا اٰخَرِاَلْآ خِرِیْنَ لآ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَ مَا خَلَقْتَنِیْ اَوَّلِ ھٰذالْیَوْمِ وَ تَخْلُقُ فِیْ اٰخِرِ ھٰذَالْیَوْمِ اَعْطِنِیْ فِیْہِ خَیْرَمَا اَوْ لَیْتَ فِیْہِ اَوْلِیَآءِکَ وَ انْبِیآءِکَ وَاَ صئفِیَآئِکَ  مِنْ ثَوَابِ الْبَلَا یَا وَاَسْھِمْ مَا اَ عْطَیْتَھُمْ فِیہِ مِنَ الْکَرَ اَمَۃِ وَ بِحَقِّ  مُحَمَّدٍ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَعَلیٰ اٰلِہٖ وَسَلِّمْ  اور ایک روایت میں یہ ہے کہ پیوستہ چھ رکعت ایک سلام سے پڑھے ہر رکعت میں والشمس اور والضحیٰ اور اذازلزلت الارض اور سورہ  اخلاص اور معوذ تین پڑھے اور بعد فراغ کے سجدہ کرے اور سورہ کافرون سات دفعہ پڑھ کر اپنی حاجت چاہے اور یہ دُعا پڑھے قبول ہوگی
 اَللّٰھُمَّ اَجْعَلْنِیْ مِمَّنْ دَعَاکَ فَاجَبْتَہ‘ وَاٰمَنَ بِکَ فَھَدَیْتَہ‘ وَرَغِبَ اِلَیْکَ فَاعْطَیْتَہ‘ وَتَوَکَّلَ عَلَیْکَ فَکَفَّیْتَہ‘ وَاقْتَرَبَ مِنْکَ فَاَ دْ نَیْتَہُ اَللّٰھُمَّ امْدُ دْ بِعَیْشِیْ فِی الْخَیْرَاتِ مَدً اوَّ اجَعَلْ لِیْ فِیْ قُلُوْبِ الْمُوْ مِنِیْنَ وَدًا اَللّٰھُمَّ اَسْئَلُکَ الْایْمَانَ بِکَ وَاَسْئَلُکَ الْفَضْلَ مِنَ الرِّزُقِ وَ اَسْئَلُکَ الْعَا فِیَۃَ مِنَ الْبَلاَ یَا وَاَسْئَلُکَ حُسْنَ الْعَا فِیَۃِ فِی الدَّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ یَا ذَا لْجَلَا لِ وَ الْاِکْرَامِ
رب تعالی کی بخشش
اور جوکوئی عاشورہ کے دن ستّر بار حَسبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکْیِلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُپڑھے گا حق تعالیٰ جل شانہ اس کو بخش دے گا
سال بھر موت نا آئے
جو کوئی عاشورہ کے دن یہ دعا سات بار پڑھے گا انشاء اللہ تعالیٰ اس سال موت کے صدمے سے محفوظ رہے گا اور جس سان اس کی موت ہوگی اس کو پڑھنے کی توفیق نہ ہوگی وہ دعا یہ ہے
سُبْحَانَ اللّٰہِ مَلاَءَ الْمِیْزَ انِ وَمُنْتَھَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّ ضیٰ وَزِنَتہَ الْعَرْشِ  لَا مَلْجَاءَ وَلَا مَنْجَاءَمِنَ اللّٰہِ  اِلاَّ اِلَیْہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَ دَالشَّفْعِ وَا لْوَتْرِ وَ کَلِمَا تِ اللہِ التَّامَّاتِ کُلِّھَا اَسْئَلُکَ السَّلاَمَۃَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْ حَمَ الرّٰاحِمِیْنَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوْۃَاِلاَّ بِاللّٰہِ لْعَلِیِّ  الْعَظِیْمِ وَھُوَحَسْبِیْ وَ نِعْمَ الْوَکْیِلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَا بِہٖ اَجْمَعِیْنَ
 عاشورہ کے دن  اتنی باتوں کا لحاظ رکھے
(۱) اس دن کو بزرگ جاننا (۲) روزہ رکھنا (۳) فحش باتوں سے زبان کو روکنا(۴) اپنی اہل وعیال میں نفقہ کی وسعت کرنا یعنی کھانا پکوانا (۵) صلہ رحمی کرنا (۶) صدقہ دینا(۷)مسلمانوں کی زیارت کرنا(۸) سلام کرنا(۹) دشمن سے صلح کرنا (۰۱) جس سے قطع تعلق ہو اس سے میل ملاپ کرنا  (۱۱)بال منڈوانا(۲۱)مہمان کے ساتھ افطار کرنا (۳۱) بُھوکے کو کھانا کھلانا (۴۱)پیاسے کو پانی دینا(۵۱) جنازہ کے ساتھ جانا(۶۱) مریض کی عیادت کو جانا(۷۱) حَسْبِیَ اللّٰہ وَ نِعْمَ الْوَ کِیْل وَ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر ستر بار پڑھنا (۸۱) یتیم کے سَر ہاتھ پھیرنایعنی اس کو کچھ دینا (۹۱) بلا قصد زیبائش کپڑے بدلنا(۰۲) غسل کرنا(۱۲) اپنے دونوں ہاتھوں سے سر پر پانی ڈالنا(۲۲) علماء کی زیارت کرنا (۳۲) ماں باپ کی خدمت کرنا(۴۲) خدا تعالٰی کے خوف سے گریہ وزاری کرنا اور آنسو بہانا(۵۲) مسلمانوں سے اخلاص کرنا(۶۲) جناب الٰہی میں دعا کرنا
تفسیر روح البیان میں ہے محرم کی نویں اور دسویں کو رو زہ رکھے تو بہت ثواب پائے گا بال بچو ں کے لئے دسویں محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے توإن شاءاللہ عزّوجلّ! سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی  بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا )پکا کر حضرت شہید کر بلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فا تحہ کر ے بہت مجر ب ہے اسی تا ریخ  کو غسل کرے تو تمام سال إن شاءاللہ عزّوجلّ! بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ ا س دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے]تفسیر روح البیان[
  سال بھر آنکھ نہ دکھیں 
اسی دسویں محرم کو جو سر مہ لگائے تو  سال بھر تک اس کی آنکھیں نہ دکھیں
سال بھر گھر میں خیر و برکت رہے
حدیث شریف میں آیا کہ جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے گھر کھانے میں وسعت کرے یعنی خوب پکائے اور کھلائے تو سال بھر اس کے گھر میں برکت رہے گی
سال بھر مال میں برکت کا نسخہ
عاشورہ کے دن اپنے والدین ،پیر و مرشد ،استاذ کی خدمت میں کچھ نقدی پیش کریں اور اپنے اہل و عیال او رضرورت مند رشتہ داروں کو بھی تحائف یا نقدی پیش کریں   تو انشاء اللہ پورا سال مال میں خوب برکت ہو



علم الاعداد اور کامیابی کی کنجی     
ماخوذ از اسرالاعداد
اعداد سے کامیابی کے طریقے بھی حکمائے متقدمین نے بیان کئے ہیں ان طریقوں کو زیر عمل لانے سے اپنی ناکامیوں کو صاحب عدد کام میں لاکر کامیاب ہو سکتا ہے یہ تو تسلیم شدہ امر ہے کہ ایک انسان میں چند خوبیاں اور کمزوریاں ضرور پائی جاتی ہیں اگر آدمی خوبیوں کو بڑھائے  اور خرابیوں کو کم کرتا جائے اس لگا تار کوشش سے وہ ایک دن کامیاب ترین انسان کہلا سکتاہے وہ جس صفت کو ابھاریگا وہ بڑھ جائےگی جسے تدریجاً کم کرتا جائے گا وہ آخر ختم ہو جائیگی ذیل میں ناظرین کی سہولت کی خا طروہ طریقے بیان کرتا ہوں لیکن یہ معلوم رہے کہ انسان کو جو طاقت دو یعت ہوئی  ہے وہ مٹ تو نہیں سکتی لیکن اُس میں معتد یہ اصلاح ہوسکتی ہے
ہدایات برائے عدد ایک
خامیاں نہ چھپائے اور خوبیو ں کی  اصلاح فرمائے آپ کیواسطے جبر ودباؤ مفید نہیں کیونکہ صاحب عدد کی ضمیر نمود چاہتی ہے ضروری کاموں کے لئے نہ خود سفارش کیجئے  اور نہ کسی سے کرایئے محض آپ کی ذات کسی سفارش و تحریرسے زیادہ اثر رکھتی ہے آپ کا نظام درست نہیں ہے اسے درست کرکے کاروبار میں ذاتی دلچسپی لیجئے ہر کا م کے متعلق بڑے عرصہ کے بجائے قریب عرصہ کے لئے تجادیز سوچنا بہترہے صاف بیانی اور نہایت تدبیر وسنجیدی سے کام کرتے ہوئے اپنے پر کلی بھروسہ رکھنا فائدہ مند ہے نقال نہ بنئے کسی دباؤ سے کام لینا یا ناحق طور پر کسی چیز کو اپنی واحد ملکیت خیال کرنا صاحب عددکیلئے بُرا ہے محبت کی راہ میں محبوب دراسکے نتائج کو نہ بھولئے اور اس میدان میں محتاط اوردور اندیش رہے گرچہ آپ الوالعزم بھی ہیں لیکن ہر کام میں اعتدال پسند بننا بہترین صورت ہے
 کامیابی کی کنجی
عقل و فکر امور کا توازن برقرار رکھناصاحب عدد کے لئے کلید کامیابی ہے
ہدایات برائے عدد دو
آپ کی خوبیاں اورتحمل برائیوں اور جلد بازی پر غالب رہیں گی اگرچہ بے وقوفوں سے آپ کا واسطہ پڑےگا دوسروں کا بوجھ اُٹھانا اور انکے واسطے بہبودی کو قربان کرنا اچھا نہیں کیونکہ انکے دُکھ دردپر دل میں درد کی حد رکھنی بہتر ہے اپنی ذات پر بھروسہ رکھے ریت کے محلات کی تعمیر کے بجائے کاروبار میں ٹھوس قدم اٹھانا اچھا ہے نکتہ چینی و حوصلہ شکنی میں حساسی ترک کردیجئے بلکہ اپنی قوت ارادی کو ابھار تے ہوئے حقیقت پر ست بننا آپ کیلئے بہت مناسب ہے محبت کے راستے میں سب کچھ قربان کرکے محبوب کے منظور نظر ہونے کیلئے قدرے حتراز کیجئے یہ مانا کہ آپ محبت پرست ہے لیکن اس کے بارے میں یا درکھے کہ آپ کا محبوب انسان ہے جو آپ کے تعلق سے اچھا بُرا ہو سکتا ہے کسی قابل اعتبار اورناصر و مددگار  اور خوش باش دوست واحباب کا ساتھ دیجئے جو آپ کا نیک نیتی سے ہاتھ بٹا سکے کیونکہ دوسرے لوگ آپکو گرانے کی کوشش کرتے ہیں ثابت قدم رہئے یاد رکھے کہ حسب توفیق اپنوں کی مدد کرنا دوسروں کی مدد سے اچھا ہے
کامیابی کی کنجی
 مستقل مزاج اور ثابت قدم رہنا 
ہدایات برائے عدد تین
صاحب عدد دانائی کا ثبوت نہیں دیتا اس لئے تکالیف سے نجات نہیں ملتی آپ دوسروں کی مدد کرنے والے ہیں اگر وہ تمہاری مدد کریں تو آپ کو مغرور نہ بننا چاہئے جھگڑا لو طبع کی وجہ سے آپ بکثرت مفید کام ضائع کر چکے ہیں اس لئے شکست کو فخر سے برداشت کرلینے کے عادی بن چکے ہیں لیکن فتح پر آپ کوئی مسرت نہیں کرتے آپ کی تندمزاجی بہودگی ایک دن آپ کی قسمت خراب کر دے گی یہ ٹھیک ہے کہ آپ نامور ہیں لیکن جبر و تشدد کی وجہ سے آپ کامیاب نہیں ہو سکتے اس لئے قوت ترغیب وصلح جوئی وامن پسندی کو بروئے کار لانا آپ کے واسطے اچھا ہے آپ سے آپ کا محبوب اچھی سیرت و کردار کا ہے جو آپ کو پسند ہے کشادہ دلی فکر و ترود سے مشکلات کو دورکیجئے بے سودا حساسات کی بجائے جبلی دور اندیشی اور پنے افعال کو ٹھیک اور مواقع کے مطابق بنائے اور امر واقعہ کو اپنے فعلوں سے منطبق نہ کیجئے ہر امر میں  ڈسپلین آپ کے واسطے اچھا ہے صحیح الد دماغ ہو کر جس وقت آپ کسی امر پر غور کریں گے تو کوئی دوسرا فرد آپ کی دور اندیشی کا مقابلہ نہ کرسکے گا
 کامیابی کی کنجی
ہر کام میں ڈسیپلین آپ کے لئے کامیابی کی کنجی ہے 
ہدایات برائے عدد چار
روایتی عادات و خصائل و خیالات کو چھوڑ کر قوت ِتخلیق کو ترقی دے کہ آپ کامیابی کی منزل پر کامزن ہو سکتے ہیں طبع زاد خیالات و توقعات کی وجہ سے آپ دوسروں کو مجبور نہیں کر سکتے اپنے امور کو طبیعت کی جدت واختلاف و بلند ہمتی سے کیا کیجئے کاروباری عمل میں ہمت بکثرت خیالات اور جوش عمل پر باقاعدگی آپ کو عروج پر لے جانے کا زینہ ہے کبھی بے ضا بطہ غفلت نہ کیا کرو غیر متوقع نتائج  سے جوش عمل کو وابستہ نہ کرو آنے والی نسلوں سے متلقہ امور سے کبھی رجحان طبع کو نہ ہتاؤ  اس امر میں اعتدال پسندی رکھو محبت کے راستہ میں آپ کے بیساختہ اور غیر ضروری و غیر مروجہ تعلق سے آپ کا محبوب زیادہ پریشان ہوگا خیالات کے لحاظ سے اگر آپ کا مطلوب پسماندہ ہے تو احتیاط سے رہنا چاہئے  حقیقت پرستی آپ کے لئے بہترین چیز ہے آپ کامدعا بہترین اور اعلیٰ مقاصد کی تکمیل ہونا چاہئے آپ کو ہرا مر میں خبردار ہوکر غور و فکر کرناچاہئے کہ یہ آپ کے لئے بہترین جو ہر ہے
  کامیابی کی کنجی
حقیقت پرستی ہی کلیدِ کامیابی ہے
ہدایات برائے عدد پانچ
آپ قوت خیال کی برق رفتاری سے ہر معاملہ و اموار کے ہر پہلو پر نظر ڈال کر ایسی طاقتوں کو متحرک دیکھتے ہیں جو اوروں کو نظر نہیں آسکتیں اور اگر آپ ان کو بہترین راہنمائی کے ساتھ زیر قبضہ رکھیں تو بہتر و خوب ہو عام جذبات کو مٹا دینے اور اعدادو شمار اوروا قعات کی قوت آپ سے زیادہ شاذوناد ر ہی شاید کوئی دوسرا آدمی آشنا ہو لیکن آپ کے واسطے یہ ساری مشکلات کا ایک علاج نہیں اس لئے آپ انسانیت کے عنصر کو  طاقتور کیجئے یہ ٹھک ہے کہ ایک ہی وقت کے اندر آپ کئی کاموں میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور ا ن میں چند کو مکمل بھی لیتے ہیں یاد رکھے کہ کاروباری میں آپ نئے طریقوں اورمختلف الانواع کی جدتوں کے بروے کار لانے کا مادّاہ آپ میں موجو دہے لیکن خوب سوچئے کیا اعداد و شمار کی وہی قوت و طاقت سے آشنائی آپ کی کامیابی کے لئے بہتر ہے صاحب عددکا زور تحریر و تقریر نت نئے مسائل کو حل کے لئے بہت اچھا ہے اور میدان محبت میں آپ دور سے دیکھنے یا ازدیدہ دور ازدل دور کے معقولات پر عامل ہیں اور نادانستہ طور پر آپ وفاداری کو نظر اندار کر دیتے ہیں اگر محبوب آپ کے پاس آجائے  تو آپ اس کے جذبات وخواہشات کا احترام کر سکتے ہیں ورنہ نہیں یاد رہے کہ وفاداری آپ کے لئے بہتر ہے
کامیابی کی کنجی 
عدد پانچ والوں کے لئے سچائی اور وفاداری کامیابی کی کنجی ہے
ہدایات برائے عدد چھہ
دماغ کے اندر ہر ایک چیز کو ایک جیسا رکھنا آپ کی بہتر خوبی ہے ، ظاہری امور پر آپ کو تصرف حاصل ہے مگر یاد رکھے کہ گہرائی اور اچھائیاں وغیرہ اور دوسرے اندرونی امور آپ کی ظاہرداری ہی بکثرت معنی خیز ہوتی ہیں  آنکھوں سے دھوگا کھانے سے پرہیز کیجئے آپ کا روبار یا خطرناک امور میں پڑ کر اکثر اوقات اس سے اچھے نتائج بھی پیدا کر سکتے ہیں لیکن ایسا ہر وقت آپ کے واسطے اچھا نہیں یہ مانا کہ آپ کامیابی بدیر سے نہیں گھبراتے کیونکہ آپ میں مادہ انتظار پایا جاتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا اگر نئے حالات کے مطابق آپ میں اپنے کو تبدیل کرنے کا مادہ موجود ہوتو جلد ہی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں آپ کی نہایت مفید کشش زیادہ دوستوں کو آپ کی طرف کھینچ لاتی ہے لیکن محبوب کے جذبات و خواہشات کے احترام میں آپ غیر معمولی صبر و تحمل کرتے ہیں اگر کوئی آپ سے شادی کرے تو آپ لوہا کی مانند بن کر بعض حالات میں آپ کبھی نہیں ہل سکتے یاد رکھے کہ فراخدلی آپ کی قوت فیصلہ میں اضافہ کرے گی
کامیابی کی کنجی 
چھ عدد والوں کے لئے فراخ دلی کامیابی کی کنجی ہے
ہدایات برائے عدد سات
 آپ کے مزاج میں استقلال نہیں اس کو پیداکیجئے اور جذباتی نتائج آپ کے احساسات کو زخمی کرتے ہیں آپ صرف بے تکلفانہ تبادلہ خیالات سے ان کا علاج کرتے ہوئے اپنی دلی شکست کا مقابلہ کر سکتے ہیں اپنے کاروباری امور میں عقل اور خیالات کے مطابق سے استعمال کیجئے یاد رکھے کہ زود فہمی و نقش بندی کے حالات کے موافق آپ کے دماغ میں تغیر پذیری کی صلاحیت موجو ہے جس کے نتیجہ کے طور پر بعض اوقات آپ اپنے نمایاں کاموں پر خود ہی حیران ہو جاتے ہیں اوردوسرے شریک ہمراہیوں کو بھی ایک انگشت بدندان بنادیتے ہیں میدان بحث میں آپ افسانوی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور بعض امور آپ کے دل میں گھر کر جاتے ہیں آپ کو سب سے زیادہ سنجیدہ ہو نا چاہئے صرف عتقادآپ کو کامیاب نہیں کر سکتا کیوں کہ آپ رومانی شرست کے آدمی ہیں یہ ٹھک ہے کہ آپ خیالات بلند رکھتے ہیں اور آپ سے مقابلہ بھی بکثرت آدمی کریں گے یہ جان لیجئے کہ آپ کی عالی ظرفی اور بلند اعتقادی کا کوئی شخص مقابلہ نہ کرسکے گا
 کامیابی کی کنجی
 سات عدد والوں کی کامیابی کی کنجی جذبات پر قابو رکھنا اور حقیقت پسند ہونا ہے
ہدایات برائے عدد آٹھ
 صاحب عدد کو مفت کے مال اثر ورسوخ اور وعدہ اور کسی مہربانی پر بھروسہ نہ کرنا چاہئے یاد رہے کہ محنت اور کوشش آپ کے لئے بہتر ہے اور محنت سے ہی آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونگے اور اس طرح حاصل شدہ محنت تجربہ کی کسوٹی پر لگ کر صاف ہوگی یہ اصول آپ ہرامر میں انپے پر حاوی  رکھیں اگرچہ صبر آزماکام سے اکثر واسطہ پڑتا ہے اور دیر سے نہ مرعوب  ہونے کی اہمیت سے آپ واقف ہیں کفایت شعاری وہشیاری آپ کے لئے اچھی ہے ورنہ آپ کا سب کیا کرایا خاک میں مل جائے گا مادہ پرستی کا آپ کے ہر پہلو پر غالب ہوجانے کا خطرہ ہے آپ کو نفس کشی و روحانیت کے حصول کی اتنی  ہی ضرورت ہے جس قدر کہ مادیت کی آپ کو ایک قلبی وفادار سنجیدہ مزاج  اور ہشیار ساتھی کی ضرورت ہے جو آپ سے کوئی راز پوشیدہ نہ رکھے اگر وہ تمہارا  شریک حیات ہو تو بہتر ہے آپ ہر ایک چیز کے ساہ پہلو کو نہ دیکھے اسے روشن بنانے کی کوشش کیجئے ہر وقت خوش رہنا آپ کے لئے بہتر ہے گرچہ آپ سنجیدہ و مطالعہ دوست اور مستقل مزاج ہیں مگر کبھی جان کو جوکھوں میں ڈالنے کے لئے تیار نہ ہویئے  جان لیجئے اس میدان میں فقط آپ ہی تکلیف زدہ نہیں دوسرے بھی کئی مصیبت زدہ آپ کے ساتھ ہیں
کامیابی کی کنجی 
عدد آٹھ والوں کی کامیابی کی کنجی ہمیشہ ہر حال میں محنت و کوشش کو جاری رکھنا ہے 
ہدایات برائے عدد نو
 اپنے مزاج میں اعتدال پیدا کیجئے بُرے اور خطرناک امور میں پڑنے سے خوش نہ ہویئے آپ کے لئے کسی بھی وقت بڑی خطرناک صورت اختیار کر جاتے ہیں دوراندیشی سے بلند دعوےجس میں کچھ نہ ہو ترک کردیجئے آپ کی تجاویز وعدے  اور الفاظ سے نہیں بلکہ زوردار محنت سے مکمل ہو نگے آپ کی سخت جانی مفید ہے اسے آزادی سے استعمال  میں لاکر اس سے مستفید ہوا کیجئے جملہ مقاصد کی تکمیل جذبہ خوداعتمادی آپ کے لئے ضروری ہے آپ کی بے صبری جملہ کامیابیوں کی جڑ ہے ہر کام میں متحمل و بر د بادی آپ کے لئے ضروری ہے محبت کی راہ میں آپ جذباتی اور جاں فروش ہیں آپ کے جذبہ کا بغض و حسد سب سے بڑا محرک ہے آپ اپنے کاروبار میں نہایت دلیری اور آزادانہ روش و سچائی سے کامیاب ہونگے اگرآپ نے یہ طریقہ اختیار کیا تو یقیناً آپ ہر پیشے میں کامیاب رہیں گے سکون قرار آپ کے لئے مفید ہے معاملات میں ٹھنڈے دل و دماغ غور کرنا ابتداً اس سے اچھا کوئی کا میاب  ذریعہ آپ کے لئے نہیں ہو سکتا
کامیابی کی کنجی
 عد نو والوں کے لئے کامیابی کی کنجی قرار و سکون اور ہر معاملے میں خوب غور و فکر سے کام لینا ہے 

طِلسم شفاء الامراض
جسمانی امراض کے روحانی علاج کے حقاق پر مشتمل ایک جامع الکمالا ت عمل

کتب معتبرہ طلسمات و رُوحانیات میں طلسم شفاء الاامراض کے متعلق اکابر علمائے فن سےیہ امر بطور صحیح ثابت اور متواتر نقل ہے کہ یہ عمل ِ مقدّس جس کا شمار طلسمات کے عملیات  میں نوامیسؔ کے باب کے متعلقہ ایسے عظیم ترین عملیات میں سےہوتا ہے جن کو تمام طلسماتی اعمال کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے اس نادرو نایاب عمل کے حقائق و دقائق، اسرار مخز و نہ و مکنونہ اورا س کے طلسماتی و روحانی  فیضان واثرات کا راز اس کے کلمات و حروف کی ملکوتی  قوّتوں میں پوشیدہ ہے ظاہری اعتبار سے تو اس طلسم کی عبارت کی کوئی جامع الاعمال قسم کی حیثیت نظر نہ آتی مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ عمل جن علمائے طلسمات سے عبارت ہے اس کا تعلق باطن میں مئوکلات ورُوحانیات کی ایسی مخلوق سے ہے جو خدائے
بزرگ وبر تر کے حکم سے اس عمل کے عامل کے لیئے بغیر کسی تسخیر و ریاضت کے تابع فرمان ہوتے ہیں
علمائے طلسمات و رُوحانیات فرماتے ہیں کہ طلسم شفاء الاامراض کے عمل کے عبارت جو اس وقت جس بھی صورت میں ہمارے پاس محفوظ و موجود ہے وہ خدائے علیم و خبیرکی طرف سے اپنی مخلوق کے لیئے ایک اعظیم الشان اور متبرک تحفہ ہے اس طلسم کے اسرار و رموز کی بنیاد خدا   کی طرف سے حاصانِ خدا کے الہامات و مکاشفات پر ہے اس عمل کا موضوع چونکہ جملہ قسم کی جسمانی امراض وعوارضات کا روحانی علاج ہے اس لیئے اس کا عامل ایسی پُرا سرار مخفی قوتوں کا مالک بن جاتا ہے جو مختلف اور لاعلاج امراض کو پل بھر میں دُور کرنے پرقادر ہو تا ہے 
کتب ِ فلکیات میں علمائے طلسمات و رُوحانیات کے اقوال و تجربات پر مشتمل طلسم شفاء الاامراض کے اس عمل کے متعلقہ امراض کے علاج کے لیئے مختلف قسم کی تراکیب کے عملیات کا ایک عظیم ذخیرہ پایا جاتا ہے چنانچہ طلسم شفاء الامراض کے ایسے عملیات جو مختلف امراض کے معجزنما طریقہ علاج پر مشتمل ہیں اور صدیوں سے آج تک اپنے خواص و فوائد کے اعتبار سے مجرّب و کامیاب شمار ہوتے ہیں ان کی تفصیل کا ذکر کرنے سے قبل ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ ارباب علم دفن کی خدمت میں اس حقیقت کو واضح طور پر آشکار ا کردیا جائے کہ اگر چہ اس عمل کی تسخیر کے سلسلہ میں جلالی و جمالی شرائط و آواب کا کوئی عمل دخل ثابت نہیں ہے بلکہ علمائے طلسمات و رُوحانیات کے نزدیک تو ہر وہ شخص جو پاک باطن اور نیک خصائل و عادات کا مالک ہو اس عمل کا عامل بن سکتا ہے تاہم اس سہولت کے ساتھ یہ پابندی بھی بر قرار ہے کہ بد باطن و بد کردار جب تکن فسق و فجور کے جرائم سے تائب نہ ہو جائے اس وقت وہ اس عمل کے بجا لانے کا ہرگز قصد نہ کرے ورنہ اس عمل کی مخفی قوّتیں اس پر عذاب الٰہی بن کر مسّلط ہو جائیں گی جن سے وہ زندگی بھر کبھی بھی چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے گا
متذکرہ بالا حقائق کے علاوہ اس عمل کے عامل کے لیئے اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہونا ضروری ہے کہ علمائے طلسمات و رُوحانیات نے جملہ قسم کی امراض کو دو حصّوں میں تقسیم کر کے ان کے علاج کا سلسلہ میں جو تفصیل بیان کی ہے اس کے مطابق جن امراض کو اس طلسم سے مخصوص کرکے بیان کیا گیا ہے ان کے علاج کے لیئے باقاعدہ طور  پر مختلف تراکیب و نتائج کے حامل اعمال کا ذکر بھی ملتا ہے دوسرے ایسے امراض جن کا ذکر خصوصی اعمال کی تراکیب  کے باب میں شامل نہیں ہے ان کے علاج کے متعلق عامل کے لیئے اجازتِ عام ہے کہ وہ اپنی صوابد ید کے مطابق جس بھی طریقہ عمل کو مناسب خیا ل کرتا ہو اختیار کر سکتا ہے ذیل میں اس طلسم کی متعلقہ مخصوص قسم کی امراض کے علاج کے طریقہ جات پر مشتمل عملیات کی تفصیل کو درج کیا جاتا ہے
۱۔سانپ  بچھو کے کاٹے کا علاج
حکیم فخر الدین رازیؔ (ابوزکریا) اپنی شہرہ آفاق کتاب مجرّ باتِ رازی کے باب المقالات میں تحریر کرتے ہیں کہ طلسمِ شفاء امراض مار گزیدہ کے علاج کے لیئے نہایت ہی بے ضرربے خطر اور سہل الحصول ہے اور اثر آفرین عمل ہے جس کا خالی جانا ناممکن ہے ترکیب اس عمل کی اس طرح ہے کہ زہر مریض کے جسم میں جس جگہ تک پہنچ چکا ہو اس جگہ کو مریض اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے عامل یکسوئی اور یقین کامل کے ساتھ کلماتِ عمل کا ورد کرتا ہوا دہاں سے پھونکیں مارتا ہوا  اور جھاڑتا ہوا زہر کو نیچے کی طرف لائے دو چار بار ایساکرنے سے مریض کو زہر اس مقام سے نیچے کی طرف اترتا ہوا محسوس ہوگا عامل مسلسل اسمائے طلسمات کا وردکرتا اور بد ستور مریض پر پھونکتا رہے اور زہر کو مریض کے سر کی طرف سے اتارتا ہوا بتدریج مقامِ ماؤف کی طرف لے جاتا ہوا زمین پر خارج کردے یہاں تک کے مریض کے جسم سے تمام زہر اس کے پاؤں کی ایڑی تک پہنچ کر غائب ہو جائے مریض کو فوراً اطمینان و سکون اور صحت کامل حاصل ہوجائے گی
                     مصحف ہر مسؔ میں ہے کہ اگر کسی کو سانپ یا بچھو کاٹے تو پارچہ نمک کو مقام ِ زخم پر رکھ دے اور نمک کو انگشتِ ابہام سے دبائے رکھے اور اس پر طلسم شفاء الاامراض کو پانچ مرتبہ پڑھے اور نمک کو زخم پر ہی پڑا رہنے دے یہاں تک کہ نمک بلکل گداز ہوجائے اس کے علاوہ کلمات طلسم کو پاک ظرف پر لکھے اور پانی سے محو کرکے مریض کو پلائے تو زہر کا اثر باطل ہو جائے گا اگر مریض دُور ہو تو جو شخص خبر لایا ہو اس کو کلماتِ عمل کو پاک حالت میں روبقبلہ پانچ مرتبہ لکھ کر پانی سے محو کرکے پلائے بیمار کو شفا حاصل ہوگی جسے ہمیشہ سانپ کاٹے وہ طلسم شفاء الامراض کو لکھ کر اپنے پاس رکھے سانپ کے حملہ سے محفوظ رہے گا
۲۔دیوانے کتے کے کاٹے کا علاج
شیخ عبدالوھاب شعرانی الملفوظ میں لکھتے ہیں کہ سگِ گزیدہ کے علاج کے لئے طلسم شفاء الامراض نہایت مجرّب عمل ہے علاج کا طریقہ یہ ہے
کہ عامل اسمائے طلسمات کو سات بار پڑھ کر چوراہے سے ایک مٹی اٹھالائے اور اسے سگِ گزیدہ کے تمام جسم پر سر سے پاؤں تک خوب ملیں اس عمل کے بعد دیکھیں گے تو اس مٹی میں دیوانے کتے کے جسم کے بالوں جیسے بے شمار بال نظر آئیں گے ان تمام بالوں کو نکال کر پھنک دیں اور دوبارہ انہی اسماء کو پھر سات بار پڑھ کر مٹی پر دم کرکے مریض کے جسم پر ملیں اور اسی طرح دوبارہ جو بال نظر آئیں انہیں بھی دور کردیں جب تک مٹی سے بال نکلنا بند نہ ہو ں یہی عمل بجا لاتے رہیں جب بال نکلنا بلکل بند ہو جائیں اسی وقت مریض کو شفاء ہو جائے گی ۳۔علاج برائے طحال
حکیم لاوٰن طر ابلسیؔ اپنی مشہورکتا ب النیر نجاؔت میں عظیم طحال کا علاج بیان کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ طحال کے علاج کے لئے پہاڑی بکرا برنگ سیاہ جوان عمر کی عمدہ اور تازہ تلی لے کر طلسم شفاء الامراض کی عبارت کو ایک سو دس بار پڑھ کر تلی پر دم کریں اور اس پختہ ارادہ کے ساتھ کہ مریض کی غیر طبعی طورپر بڑھی ہوئی تلی کو کاٹ دیا جاتا ہے تلی کو تانبے کے کسی طشت میں مریض کے سامنے رکھ کر تانبے کی ہی تیز دھار چھُری سے جو پہلے سے بنوارکھی ہو سات مختلف مقامات سے کاٹ ڈالیں پھر تلی کے ان تمام ٹکڑوں کو کسی دوسرے صاف برتن میں ڈال کر اوپر سے پانی ڈالیں اس قدر کہ تین انگشت تک اوپر آجائے اس برتن کو آگ پر چڑھادیں جب خوب جوش آجائے پھر تھوڑا آرام کرکے پھر شروع کریں اسی طرح سات بار اس عمل کو کریں ساتوں بار یہاں تک آگ کو روشن کریں کے برتن کا تمام کا تمام پانی حل خشک ہو جائے اور تلی کے ٹکڑےس سوختہ ہو کرخاکستر ہو جائیں عمل تمام ہونے پر برتن کو اتار  کر ٹھنڈا کریں اور دوسرے روز طلوع آفتاب سے قبل  برتن کو کسی پرانی قبر میں گاڑ دیں طحال کے لئے یہ عمل ایسا ہے جو اپنی نظیر آپ ہے سات روز میں تلی خواہ کس قدر بڑھ گئی ہو اپنی اصل حالت میں آجاتی ہے اور کمزور اور ناتوان مریض سرخ طاقتور اور صحیح و تندرست ہو جاتا ہے
۴۔صرع کے علاج کیلئے
مرگی کے مریض کو دؤرہ کے وقت غش آجائے تو طلسمِ شفاء الامراض کو ایک دفعہ پڑھ کر بیمار کے دائیں کان میں اورایک دفعہ پڑھ کر بائیں کان میں پھونک دیں پھر دوبارہ یہی عمل کریں بعدازاں ایک مرتبہ دائیں آنکھ میں اور ایک مرتبہ بائیں آنکھ میں ایک مرتبہ ناک کے دائیں نتھنے میں اور ایک مرتبہ ناک کے بائیں نتھنے میں اور ایک مرتبہ منہ پر دم کریں پھر ایک مرتبہ پڑھ کر سارے جسم پر دم کریں بفضلہ  تعالیٰ بیمار کو صحت ہوگی
قاضی صاعدؔ نے خواص الاشیاء میں جالنیوؔس کا قول نقل کیا ہے کہ طلسم شفاء الامراض کو گدھے کی دباغت شدہ کھال پر تحریر کرکے اس کو ٹوپی بنا کر مریض کے سر پر پہنا دیں تو اسے مرگی کا دُورہ نہیں گا
۵ سر درد کا تیر بہرف عِلاج
دردِ سر کے ازالہ کے لئے عامل مریض کے پیشانی کے دونوں جانب انگوٹھا اور بڑی انگلی رکھے طلسم شفاء الامراض کو تلاوت کرتا ہوا اور پیشانی کو دباتا ہواانگلی اور انگوٹھے کو عین پیشانی کے وسط میں لے آئے اور پھونک مارکر علیحدہ کردے اس عمل کو سات بار بجا لائے چائے کیسی ہی درد سر ہو فوراً ہو جائے گی اسی طرح دردِ شقیقہ یعنی دردِ نیم سر یا آدھا سیسی کو دور کرنے کے لئے شفاء الامراض کو سات بار پڑھ کو مریض کے سر اور پیشانی پر سات بار پھونکا جائے درد کافو ہو جائے گا
دردِ شقیقہ دُور کرنے کا ایک اورعمل عجیب اس طرح پر بھی ہے
طلسم شفاء الامراض کو دردکرتے ہوئے مریض کے گلے میں پارچہ ڈال کر بل دیں تاکہ گلا گُھٹ کر کنپٹی پر رگیں اُبھر آئیں ایسا کرنے سے عموماً دو تین رگیں اُبھر آتی ہیں ان لوگوں کو باری باری سے انگلی سے دبا کر دیکھیں جس رگ کے دبانے سے مریض کو افاقہ ہو اس رگ پر استرے سے پچھ لگا کر قدرے خون نکال دیں درو فوراً جاتا رہے گا زخم پر مسکہ لگاتے رہیں چند ایک روز تک زخم خود بخود اچھا ہو جائے گا اور پھر اس مریض کو زندگی بھر وردِ شقیقہ کا عارضہ لاحق نہیں ہو گا    ۔۔۔۔نوٹ۔اس طریقے سے صرف حکیم حضرات  کو علاج کرنا چاہئےجو حکیم نہیں وہ اس طرح علاج سے کلیۃً گریز کریں۔۔فقیرِ قادری
۶۔ بواسیر کے لئے
قاضی بہاؤ الدین بربرؔی بُرہان النجوم میں لکھتے ہیں کہ جس شخص کو بواسیر کا مرض ہو بواسیر خونی ہو یا بادی نئی ہو یا پرانی اور مریض کو کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ محسوس  نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں صحیح طریقہ علاج یہ ہے
کہ اسماء شفاء الامراض کو چینی کی رکابی پر زعفران سے لکھئے اور عرقِ گلاب سے دھو کر مریض کو پلا دیجئے اس کے بعد کلمات ِ طلسمات کو ایک صاف کاغذ پر لکھ کر اور اسے موم جامہ کر کے مریض کی کمر میں باندھ دیجئے ہر قسم کی بواسیر چند روز میں نیست و نابود ہو جائے گی
وحید الدین کندؔی صاحب ِ سر مکتوم و شاملین کا تجر بہ ہے کہ بواسیر کے لئے سات مثقال تانبہ، تین مثقال چاندی اور دو مثقال سونا لے کر ان سب کو نوچندی اتوار کے دن باہم ملا کر ایک چھلّا تیار کرے پھر اس چھلّا کو آگ پر گرم کرے پانی پر طلسم شفاء الامراض کو چند بار پڑھ کر پھونکیں اور چھلّا کو اس دم کیئے ہوئے پانی میں بجھائیں اور اسی وقت ہی اپنے یا مریض کے بائیں ہاتھ میں پہنا دیں بواسیر کا عارضہ ہمیشہ کے لئے جاتا رہے گا 
۷۔ برائے مرضِ اٹھرا
اٹھرا کا مرض خواتین کی حملہ امراض میں سب سے زیادہ خوفناک، پریشان کن سخت تکلفْ  اور اکثر حالتوں میں جان لیواقسم کا لا علاج مرض خیال کیا جاتا ہے اس مرض کی بہت سی قسمیں بھی بیان کی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک قسم وہ ہے جس میں پیدائش کے بعد بچہ مختلف جسمانی عوارضات کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن جاتا ہے شیخ یحییٰ ابو الخیر ھمدؔا نی مصنف البیان مرض اٹھر ادُور کرنے کے لیئے ایک مجرّب عمل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ احمد بن اسحاق صالح مشہدی کہتا ہے کہ اٹھر ا کی ایسی مریض عورت جس کے بچے دلاوت کے بعد مر جاتے ہے تو ایسی عورت جب حاملہ ہو تو اس کے تیسرے ماہ ے شروع میں عامل اس کے دائیں اور بائیں کانوں میں طلسم شفاء الامراض کے کلمات پڑھ کر پھونکے تو اس عورت کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ زندہ سلامت رہے گا اس عورت کو اٹھرا کا مرض پھر کبھی بھی لاحق نہ ہو سکے گا راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ اٹھرا جیسے موذی مرض کے لئے یہ عمل انتہائی کامیاب وبے خطا ثابت ہواہے جو میرا ذاتی طور پر سینکڑوں بار کا آزمودہ مجرّب ہے
۸۔ ام الصبیان کا علاج
ام الصبیان جسے عرف عام میں صرع اطفال یعنی بچوں کی مرگی اور جموگا کا نام بھی دیا جاتا ہے ایک غیر متعدی قسم کا مرض ہے جو عموماً سات آٹھ سال کی عمر تک کے بچوں کو ہوا کرتا ہے یہ مرض جتنا عام ہے اتنا ہی خطرناک اور مہک ثابت ہوتا ہے چنانچہ بچوں میں کثرت اموات کا سبب زیادہ ترام الصبیان کا حمل ہی ہوتا ہے ملاعبدالعلی طہراتی محقق یزدانی اخلاقِ علویہ میں ام الصبیان کے علاج کے لئے ایک عمل بڑی تعریف کے ساتھ پیش کرتا ہے رقمطراز ہے کہ ام الصبیان کے سلسلہ میں ایک تیر بہدف عمل مجھے میرے شیخ طریقت شیخ عبداللہ الحسینی سے پہنچا ہے جس کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ ریحان کی لکڑی یا ایسا سرکنڈہ جس کا  بطن اندر سے خالی ہو مریض بچے کے قد کے برابر لے کر اسمائے محولہ بالا کو نو بار پڑھ کر دم کریں پھر اس سرکنڈہ کے ایک سرے کو بچے کی ناف کی جگہ پر کسی قد ر دباکر رکھیں اور دوسرے سرے کو روغن نفط میں خوب ترکر کے روشن کریں یہ سرکنڈہ شمع کی مثل جلنے لگتا ہے جب اس کا ایک بالشت بھر حصہ جل جائے تو اسے ناف پر سے ہٹا کر جلتے ہوئے سرے کا رخ زمین کی طرف کرکے اسے اُلٹا دیں سرکنڈہ کے سوراخ سے زدر رنگ اور غلیظ قسم کا بدبو دار پانی بہہ نکلے گا یہ پانی ایک قسم کا خطرناک زہر ہوتا ہے جو اس مرض کے سبب بچے کے جسم میں کثرت کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے اور مرض کی کامل تشخیص و مناسب تجویز علاج کے نہ ہونے کے سبب انجام کاریہ زہر یلاسیال مادہ جان لیواثابت ہو جاتا ہے یہ پانی عمل کی خیر وبرکت سے مریض بچے کے جسم سے ناف کے ذریعہ پسینہ کی طرح نکل کر سر کنڈہ کی نالی کے سوراخ میں جمع ہو جاتا ہے اس جلے ہوئے سر کنڈہ کو پھینک دیں اور ایک دوسرے سر کنڈہ پر اسی طرح عمل بجا لائیں اس دفعہ بھی جس قدر پانی نکلے اسے بھی زمین پر بہا دیں اور پھر حسبِ ترکیب اس عمل کو بلا تعین تعداد بجا لائیں یہاں تک کہ پانی کا نکلنا بالکل موقوف ہو جائے گا اس کے بعد اسمائے متذکرہ الصدر کو ہرن کی دباغت شدہ کھال پر لکھ کر بچے کے گلے میں ڈال دیں انشاء اللہ تعالیٰ بچہ ام الصبیان کی مرض سے شفا پائے گا علامہ سباعی اپنے مقامات میں بچوں کے ام الصبیان کے لیئے اس عمل کو مجرّب المجرّب لکھتے ہیں
۹۔ دردِ ریح اور جوڑوں کے درد کیلئے
طلسم شفاء الامراض ایک ایسا نادر مسیحائی عمل ہے جو درد ریح اور جوڑوکے ہر قسم کے درد کاشرطیہ رُوحانی علاج ہے صاحب العجائب والغرائب عبد اللہ المسیح فرماتے ہیں کہ طلسم شفاء الامراض کے ہوتے ہوئے دردِ ریح اور جوڑوں کے درد کے لئے طبیوں کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی طریقہ علاج کی تحریر ہےکہ بارش کا پانی لیں اور اس پر ستر مرتبہ اسمائے  طلسمات کو پڑھیں اگر دردِریح اور جوڑوں کے درد کو  یہ پانی سات دن تک روزانہ صبح و شام پیئے اس کے جسم رگوں اور ہڈیوں سے تمام دَرد اور بیماریاں دفع ہو جائیں گی  مکا رمہ الاخلاق میں ہے کہ طلسم شفاء الامراض کو سات بار روغن زیتون پر پڑھیں اور اس روغن سے مریض کے جسم پر مالش کرلیں انشاء اللہ تعالیٰ مریض شفا یاب ہوگا حرث طبیبؔ بصری کا قاعدہ تھا کے جب اس کے پاس درد ریح یا جوڑوں کے دِرد کا کوئی مریض آتا تو وہ اس عجیب و غریب عمل کا مظاہرہ کرتا وہ لوہے کی سلاخ کو آگ میں سرخ کرکے اسماء شفاء الامراض کو چالیس بار پڑھ کر مریض کے دونوں پاؤں کی ایڑیوں کے تلوؤں کو اس گرم سلاخ سے داغ دیتا وہ اس عمل کو تین روز تک متواتر کرتا جس سے مریض کو حیرت انگیز طور پر آرام آجاتا
ابوطیب تمیمیؔ دوالیسؔ میں تحریر کرتاہے کہ میں نے حرؔث کے اس عمل کو متعد ومریضوں پر آزمایا ہے اور حروف بحرف کامیاب پایا ہے راقم الحروف عرض کرتاہے کہ حکیم موصوف کا یہ عمل میرا ذاتی طور پر ہزار بار کا آزمودہ ہے اس رُوحانی علاج کا ایک اعجاز نما پہلو یہ بھی ہے کہ آگ کی طرف گرم لوہے سے مریض کی ایڑی پر داغ لگانے کے باوجود مریض کسی قسم کی جلن، تپش،حرارت یا درد اور تکلیف محسوس نہیں کرتا بلکہ اس وقت ہی شفا یاب ہو جا تا ہے
۱۰۔ مرضِ خنازیر دُور کرنے کیلئے
ارباب ِ علم و تحقیق نے خواص طلسم شفاء الا امراض بیان کیا ہے کہ اسمائے طلسمات کو لکھ کر اسے دھو یا جائے اور پانی مریض ِ خنازیر و خناّق کے گلے میں زخموں پر چھڑکیں، مرض زائل ہو جائے گا ان اسمائے طلسمات کو لکھ کر مریض کے پاس رکھنا موجبِ صحت ہے رسائل اِبن عراقی اور کتاب ابن حِلاّج میں علاج الخنازیر کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے کہ منگل کے دن ایک جوان عمر سفید رنگ کا مرغ جس میں کسی دوسرے رنگ کا کسی بھی قسم کا دھّبہ موجود نہ ہولے کر اس کو ذبح کریں اور اس کے خون سے نئے قلم کے ساتھ آفتاب کے نکلنے سے پہلے اسمائے طلسمات کو لکھیں اور اسی وقت تانبہ کے تعویذ میں بند کرکے نابالغ عمر کی لڑکی سے چودہ تا رسُوت کے کٹواکر اس ڈورہ میں تعویذ ڈال کر مریض کی گردن میں ڈال دیں انشاء اللہ تعالیٰ اس موذی مرض سے شفا ہوگی۔۔نوٹ ۔خون کلیجی سے حاصل کیا جائے۔۔فقیرِ قادری
علا مہ واصلؔ ابن عطاع بغدؔاد ی مصحف ِ طلسمات میں خنازیر و خنّاق کے لئے ایک مجرّب و مستندعمل بیان کرتا ہے جو اس طرح پر ہے کہ جس کی گردن میں کنٹھ ما لا یعنی خناذیر ہو تو چمڑے کے تسمہ پر جو مریض کے قد کے برابر ہو اکتالیس گرہ دیں اور گرہ پر اسمائے محوّلہ بالا پڑھ کر پھونکیں پھر اس چرمی تسمہ کو موم جامہ میں سی کر مریض کے گلے میں ڈالیں بہت جلد شفا ہوگی
۱۱۔ برائے دردِ دندان
طمطم ھندی اپنے مجر بات میں تحریر کرتا ہے کہ جو شخص دردِ دندان میں مبتلا ہو تین مرتبہ ہاتھ موضع سجود پر ملے اور پھر دندانِ دردناک پھیرے ہر یار اسمائے طلسمات پڑھے دورزائل ہوگا
ضرس یعنی داڑھ اور دانتوں کے درد کے لئے کسی لکڑی پر اسمائے طلسمات لکھیں اور ہر اسم پر میخ رکھ کہ تھوڑی سی ٹھونکتے جائیں جس اسم پر درد ختم ہو جائے وہاں میخ گاڑدیں پھر نہ نکالیں اگر میخ نکل جائے گی تو پھر درد شروع ہو جائے گا نہایت مفید مجرّب ہے
۱۲۔ برائے کرِم اُذن ودندان
کان کی اکثر امراض کا سبب کان میں پیپ اور رطوبت فاسدہ کے تعفّن سے پیدا ہونے والے کپڑے ہوتے ہے اسی طرح دانت اور داڑھ کی درد بھی کیڑوں کی موجودگی کی علامت سمجھی جاتی ہے کان کے کیڑے بہرہ پن کو پیدا کرتے ہیں جب کہ دانتوں اور داڑھوں کے کیڑے بھی سخت نقصان دہ ثابت ہوتے ہے جن کی موجودگی میں دانتوں اور واڑھوں میں درد کا پیدا ہو نا لاعلاج تکلیف بن جاتا ہے اور سوائے دانت یا داڑھ کے نکلوانے کے اس کا کوئی دوسرا علاج ممکن نہیں ہوتا دافع کرِم اُذن و وندان کے ضمن میں صاحب یر مس الہرامسہ ایک عمل بڑی تعریف کے ساتھ پیش کرتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ دانت و داڑھ اور کان کے کیڑوں کے علاوہ اگر جسم میں کسی زخم یا پھوڑے پھنسی کی وجہ سے بھی کیڑے پڑ جائیں تو اس کے لئے بھی طلسم شفاء الامراض کا عمل بہت کامیاب اور موثر ترین ثابت ہوتا ہے کانوں کے کیڑوں کے لئے روغن سرس یا چنبیلی پر عبارتِ طلسم کو سات مرتبہ پڑھ کر روغن کو نیم گرم کرکے کانوں میں اس قدر ٹپکائیں کہ کانوں کے سوراخ بھر کر تیل ان سے باہربہہ نکلے تیل ڈالنے کے تھوڑی دیر کے بعد ہی تیل کو کانوں سے اُلٹ دیں بحکم خدا کانوں میں موجود کیڑے تمام تیل کے ساتھ ہی باہر بہہ نکلیں گے
دانتوں اور داڑھوں کے کیڑوں کے لئے اسمائے شفاء الامراض کو پانی میں خوردنی نمک ڈال کر ستر مرتبہ پڑھ کر دم کریں مریض اس پانی سے کلُی کرے اور پانی کو کسی برتن میں گرائے کلُی کے اس پانی میں کیڑے موجود ہوں گےاس عمل کو محض تین دفعہ بجالانے سے دانتوں اور داڑھوں کے تمام کیڑے بغیر کسی تکلیف کے نکل آئیں گے
اسطرح اگر جسم کے کسی حصہ میں کسی کُہنہ قسم کے زخم میں کیڑے پڑ جائیں تو اس عمل کو نو بار پڑھ کو پھونکیں تو اسی وقت اس زخم کے تمام کیڑے زخم سے گرنے شروع ہو جائیں گے یہاں تک کہ وہ زخم بالکل صاف ہو جائے گا
اس طرح اگرگائےبھینس یا بیل وغیرہ کسی جانور کو کیڑے پڑ جائیں تو عمل کو سات بار پڑھ کو کرِم خوردہ جونور پر پھونکیں تواس جانور کے جسم سے کیڑے گر کر مرجائیں گے مجرّب المجرّب ہے
۱۳ ۔تریاقِ یرقان
شیخ ابوالحسن جرجاؔنی کتابِ مرعاش میں یرقان کے لئے ذیل کے طریقہ علاج کو تریاق یرقان کے نام سے بیان کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ یرقان کا مریض اسپند یعنی حرمل جو ہر موسم اور تقریباً ہر جگہ پائی جانے والی ایک مشہور و معروف خودرو بوٹی ہے جسے خوردو کلاں سب جانتے ہیں کا پوداطلوع آفتاب سے قبل جڑسے اکھاڑ لائے اورایسا کرتے وقت اسمائے طلسمات کا وردکرتا رہے پھر اس بوٹی کو کسی بلند جگہ پر لٹکا دے جوں جوں یہ بوٹی خشک ہوتی چلی جائے گی اسی طرح یرقان  کی شدّت میں کمی واقع ہوتی جائے گی جب یہ پودا مکمل طورپر خشک ہو جاتاہے تو اس کے ساتھ ہی یرقان کی تمام شکایات دفع ہو جاتی ہیں مریض کی آنکھوں اور چہرے کی زردی دُور ہو کر گلاب کی طرح رنگ نکھر آتا ہے راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ یہ طریقہ علاج میرے ستائیس سالہ عملیات اور اکیسری مجرّبات میں سے ایک بہترین چیز ہے جو ہر قسم کے یرقان کے لئے خواہ نیا ہو یا پرانا بے حد مفید اور حقیقی تریاق ہے تجربہ پر کوئی مریض ایسا نہیں جس کو اس عمل سے کلُی صحت نہ ہوئی ہو
۱۴۔وافع اختلاج ِقلب
اختلاجِ قلب یا حفقان کی شکایت آج کل بہت دیکھی جاتی ہے شروع میں تو عموماً اس کی پراہ نہیں کی جاتی لیکن یہی وہ مرض ہے جس کے نتیجہ میں فوری موت واقع ہو جاتی ہے زادالروحاؔنیون میں منذراِبن خلقان جوؔزی نے مواہب السحرؔ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص اختلاجِ قلب کا شکارہو اس کے لئے طلسم شفاء الامراض سے زیادہ اکسیر صفتِ علاج نہیں مل سکتا ترکیب عمل یوں ہے کہ مرض آبِ ندیدہ روئی کے کپڑے پر اسمائے طلسمات کو سات سطروں میں ترتیب سے لکھے اور ہر ایک سطر میں نئی سوزن کو چبھو دے پھر اس نوشتہ کو آبِ ندیدہ کے کو زہ میں رکھے اور کوزہ کامنہ بند کر کے اس کو زہ کو کسی پرانے قبرستان میں دفن کرے اس عمل کے بعداسمائے شفاء الامراض کو آبِ باراں پر یک صد مرتبہ پڑھے اور اس پانی کو سات دن تک پیئے انشا اللہ تعالیٰ اختلاجِ قلب کا عارضہ ہمیشہ کے لیئے جاتا رہے گا
۱۵۔برائےرعاف یعنی نکسیر
واصل ابنِ عطاء کا لدیؔ رسائل قُدسیہ میں تحریر کرتا ہے کہ رعاف یعنی نکسیر کی ایک قسم ایسی ہے جو انتہائی خطرناک ہوتی ہے اس میں مریض دائمی طورپرمبتلا ہو کر لا علاج ہو جاتا ہے اگریہ مرض پرانا ہو جائے تو پھر موت سے پہلے نجات حاصل ہونا ناممکنا ت سے خیال کیا جاتا ہے اس مرض کے شافی اور کامیاب علاج کے لئے ذیل کا عمل اپنے فوائد کے لحاظ سے بے مثال ہے عمل کو آزمائیں اور اس کامعجز نما اثر ملا خطہ کریں
عمل کے لئے طلسم شفاء الامراض کو مریض کے خون نکسیر کے ساتھ باریک کاغذ پر لکھیں اور گیہوں کے آٹے سے رکھ کر صحرائی کبوتر کو نگلوادیں بعد ازاں کبوتر مریض کے سر سے سات دفعہ اتاریں اور ساتھ ہی ساتھ اسمائے شفاء الامراض کو پڑھتے جائیں اس عمل کے بعد کبوتر کو چھوڑدیں مہلک قسم کی دائمی نکسیر کا مرض ہمیشہ کے لیئے ختم ہو جائے گا حضرت خواجہ ابو بکر ابن و حشید عراقی انوار البیان میں لکھتے ہے کہ پوست آہو پر طلسم شفاء الامراض کو لکھیں اور مریض کے دونوں آبروؤں کے درمیان باندھیں اس کے علاوہ حضرت خواجہ طلسم شفاء الامراض کے فضائل و محاسن بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نکسیر کے مریض کی نکسیر جاری ہوتے وقت عامل اس کا ناک پکڑ کر چند مرتبہ اسمائے الامراض کو پڑھے اور مریض کے خون نکسیر سے اس کی پیشانی پر طلسم کی عبارت کو لکھے تو نکسیر کا مرض زائل ہو جائے گا ۔۔۔نوٹ۔فقیرِ قادری کی رائے میں خون سے نا لکھا جائے ہاں ہوں کرے کہ جب نکسیر جاری ہو تو عین اسی وقت کسی سیاہی سے لکھ لیں عمل صد فیص کام کرے گا اور آپ کوشرعی قباحت بھی محسوس نہیں ہوگی
۶۱۔ طوارقِ حمیّات یعنی بخاروں کے حملہ کا علاج
تپِ ہر روزہ کے لیئے طلسم شفاء الامراض کو لکھ کر مریض اپنے پاس رکھے اور ایک مرتبہ صبح کو اور ایک مرتبہ شام کو پڑھا کرے حمیٰ باردہ اور حمیٰ حارہ کے لئے مریض نماز عصر سے طلسم شفاء الامراض کو پڑھنا شروع کردے اور غروب آفتاب تک متواثر پڑھتا رہے یہ عمل سات روز تک بجا لاتا رہے حمیٰ غب کا علاج یُوں ہے کہ کسی پرانی ہڈی پر اسمائے طلسمات کو لکھ کر مریض کو دُھونی دے حمیٰ ربع یعنی جوتھیہ کے بخار کے لئے اسمائے طلسمات کو ایک کاغذ پر لکھے اور کاغذ کو بطور تعویز کو روئی کے سات تار کے دھاگہ سے باندھے پھر اس دھاگہ کو منہ کے برابر کرکے ایک طرف چارگرہ اور دوسری طرف تین گرہ لگائے ہر ایک گرہ پر ایک ایک مرتبہ اسمائے شفاء الامراض پڑھے اس کے بعد اس تعویذ کو مریض کے دائیں بازو پر باندھے ایسا کرتے وقت بھی اسمائے شفاء الامراض پڑھتا رہے حمیٰ ربع کا حملہ ختم ہوکر بخار اتر جائے گا تپِ لرزہ کے لئےبخار چڑھنے سے پہلے طلوع آفتاب کے بعد مریض کو دھوپ میں کھڑا کرکے اس کے سایہ کو چُھری سے کاٹے اور کاٹتے وقت اسمائے شفا ء الامراض کو وِرد کرتا جائے سایہ کو سر کی طرف سے کاٹتے ہوئےجب پاؤں تک پہنچے تو ختم کردے مریض جلد صحت یاب ہو جائے گا
۱۷۔ دردِ ناف کا علاج
اسمائے شفاء الامراض کو سات مرتبہ پانی پڑھیں اور اس پانی سے گیہوں کا آٹا گُوندھ کر اس کی روٹی پکائیں اس روٹی کو گرم حالت میں ناف پر رکھ کر کپڑے سے باندھ دیں صبح و شام باندھے رکھیں پھر اتار کر اس روٹی کے تین ٹکڑے کرلیں ہر ٹکڑے ہر اسمائے طلسمات کو تحریر کریں ان میں سے ایک ایک ٹکڑا کرکے روزانہ تین دن صبح نہارمنہ پانی کے ساتھ کھائیں تین روز کے بعد پھر گیہوں کی روٹی حسبِ سابق عمل کے مطابق پکا کر ناف میں باندھیں اور دوسرے روز اس کے تین ٹکرے کرکے اسمائے شفا ء لامراض کو ہر ایک ٹکڑے پر لکھ کر روزانہ تین دن تک ٹکڑا نہار منہ کھایا کریں گویا یہ عمل چھ روز تک کریں ساتویں روز اسمائے شفاء الامراض کو چرم آہور پر لکھ کر بطور تعویذ کمر میں اس طرح باندھیں کہ تعویذ عین ناف کے اوپر رہے ناف کا درد کا فور ہو جائے گا
۱۸۔ مسّوں کا علاج
حافظ علی ابنِ عمران طہرؔانی سے رویت ہے کہ اسمائے طلسمات کو کسی ریشمی دھاگہ پر چند بار پڑھیں پھر مسّوں میں سے بڑے مسّے کو اس ریشمی دھاگہ سے باندھ دیں اور کسی تیز دھار اُسترے سے اس کا سر کاٹ دیں اس کے بعد اس کی جڑ کو گھی گرم ٹکور کریں جب وہ بڑا مسّہ مر جائے گا تو باقی تمام مسّے خود ہی خشک ہو کر مر جائیں گے نہایت مجرّب و صحیح ہے۔۔۔نوٹ ۔کسی حکیم کے مشورہ سے عمل آزمایا جائے۔۔فقیرِ قادری
تمیمی کا قول ہے کہ مسّوں کے علاج کے لئے عامل دانے جو کے لے کر ہر ایک دانہ پر سات سات مرتبہ اسمائے شفاء الامراض کو پڑھے بعدازاں ایک ایک جو لے کر مسّہ (یعنی مُوہکا) پر ملے اس کے بعد سب کو ایک کپڑے میں پوٹلی باندھ کر کسی ویران کنوئیں میں پھینک دیں اور جلدی واپس آجائے یہ عمل چند بار کرے مگر بہتر ہو گا کہ اس عمل کوتحت الشعاع یعنی اندھیری راتوں میں کرے سات آٹھ روز تک تمام کے تمام مسّے خود بخود خشک ہو کر ختم ہو جائیں گے
۱۹۔ سلعہ یعنی رسولی کا علاج
چہار شنبہ آخرماہ کو قبل از طلوعِ آفتاب اسمائے شفاء الامراض کو پوست آہو پر لکھ کر مریض کے بازوئے چپ پر باندھے سات دن کے بعد تعویذ کو کھول کر آبِ رواں میں ڈال دے اگر مریض اچھا نہ ہو تو پھر اس اسمائے طلسمات کو لکھے اور سات دن تک مریض پر پھر باندھے اگر اب بھی مریض کو آرام نہ ہو تو بعد از طلوع آفتاب اور بعد از غروب آفتاب ہاتھ میں لوہے کی ایک ایسی چُھری لے جس کا دستہ بھی لوہے کا ہو اسمائے طلسمات کو پڑھے اور چُھری سے مریض کے بدن میں اندرون و بیرون جلد جن مقامات پر سلعات یعنی رسولیاں پائی جاتی ہوں اشارہ کرکے اس طرح کہ گو یا ان رسولیوں کو کاٹ رہا ہے یہ عمل تین روز متواتر کرے مریض کو صحت ہوگی
ابو سلمان محمد بن الحنین حراؔتی بدیع العجائب میں ابو القاسم طالقاؔنی سے نقل کرتے ہیں کہ طلسم شفا ء امراض اکابر و مشائخ علمائے طلسمات و رُوحانیات کے مطابق ایسے رموزِ عجبیہ اور اسرارِ غریبہ پر مشتمل ہے کہ جس کے اسمائے رُوحانیات سوائے موت کے ہر مرض کے شافی و کافی علاج ہیں سلعات کے رُوحانی علاج کے متعلق علامہ حراؔتی اپنے تجر بات کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ طلسم شفاء الامراض کے لئے اس قدر کامیاب وبے خطا عمل ہے کہ میرے نزدیک طلسم شفاء الامراض کا عمل در حقیقت و فعہ سلعات کے لئے ہی مخصوص قرار دیا جا سکتا ہے چنانچہ ترکیب عمل میں تحریر کرتا ہے کہ سلعات کا مریض ایک گو سفند حلال قیمت سے خرید ے جو بے عیب ہو اس گو سفند کو اپنی مرض کا صدقہ قرار دے پھر سات روزکے بعد اس گو سفند کو ذبح کر ڈالے تو خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرے گا کہ اسی جانور کے جسم میں مریض کے جسم کی طرح مریض کے جسم میں پیدا ہونے والی سلعات کی تعداد کے مطابق سلعات موجود ہوگی ان تمام چھوٹی بڑی سلعات کو نکال کر بحفاظت رکھ لے اور گوشت کو خوب اچھی طرح صاف کر کے اہل ِ استحقاق میں تقسیم کردے اس کے بعد گوسفند کے جسم سے نکلنے والی تمام سلعات کو شمار کرکے ان کی تعداد کے برابر آہنی کیل لے پھر ایک ایک مرتبہ ہر کیل پر طلسم شفاء الامراض کو پڑھ کر مریض اپنا اور اپنی والدہ کا نام لے اور تمام رسولیوں کو قبلہ کی دیوار میں کیل کے ساتھ ٹھونک دے اور وہاں ہی پڑا رہنے دے یہاں تک کے وہ تمام خشک ہو جائیں ان سلعات کے خشک ہوتے ہی مریض کے جسم میں پیدا ہونے والی تمام رسولیاں بحکم خدا از خود ہی ختم ہو جائیں گی اور اس عمل کے بعد وہ شخص زندگی بھر کبھی بھی اس خوفناک اور تکلیف دہ مرض کا شکار نہیں ہوگا
۲۰۔ جُملہ امراضِ چشم کیلئے
مریض طلسم شفاء الامراض کو اُنیس مرتبہ پانی پر پڑھے اور اس پانی سے آنکھوں کو چھینٹے  مار کر دھو ئے دردِ چشم رفع ہوگا  مریض اسمائے طلسمات کو لکھ کر آبِ باراں سے دھوئے اور اس پانی سے سُر مہ پیس کر آنکھوں میں لگائے سرخی چشم اور دھُندو  جالا زائل ہوگا  کلمات ِ طلسمات کو تین ہڈیوں پر لکھیں اور کسی اندھیری جگہ میں مرض شب کوری کے مریض کو کھلائیں شب کوری کا عارضہ جاتا رہے گا  بیاض چشم ِ یا پھولا کے لئے شہد خالص پر طلسم مذکورہ بالا کو تین مرتبہ پڑھ کر دم کریں اور شہد کی سلائی آنکھوں میں لگائیں بیاض چسم سے شفا حاصل ہوگی
ضعفِ بصارت اور کُکرے دُور کرنے کے لئے اسمائے متذکرۃ الصدر کو لکھ کر بازو پر باندھیں موجب صحت چشم ہوگا  کشف الظنوؔن میں ابو القا سم مشہدؔی نے حکیم ھرمس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اسمائے شفاء الامراض کا عمل پیدائشی طور پر آنکھوں کی قوت ِ بصارت سے محروم شخص کے سوا آنکھوں کی ہر مرض لے لئے عملِ شفاء ہے حکیم
ہر مّس کہتا ہے کہ موتیا بندکی وجہ سے میری آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جبکہ میں ایک مدت تک ہر قسم کے علاج کے بعد مکمل طور پر مایوس ہو چکا تھا اسمائے شفاء الامراض کو پانی پر پڑھ کر آنکھوں کو دھونا شروع کردیا خدا کے فضل و کرم اور اسمائے شفاء الامراض کی خیرو برکت سے تین روز میں ہی موتیا بند زائل ہو کر دو بارہ آنکھیں روشن ہوگئیں
۲۱۔ علاج برائے چھپا کی
چھپا کی جسے طبِ جدید میں الرجی کا نام دیا جاتا ہے دَورِ جدید کا ایک عام لیکن انتہائی تکلیف دا مرض ہے جس میں اچانک تمام جسم پر سرخی مائی دھبّے نمودار ہو جاتے ہیں جن میں شدید قسم کی خارش اور جلن پیدا ہو جاتی ہے جس میں سوئیاں سی چھتی محسوس ہو تی ہے اس کے ساتھ ہی ہلکا سا بخار بھی ہو جاتا ہے جس سے مریض کی طبیعت میں بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے  کتاب دوالیسؔ میں حکیم سقراطؔ لکھتے ہیں کہ چھپا کی کے لئے طلسم شفاء الامراض کا عمل انتہائی ستریع الاثر، مفید اور حکمی علاج ہے چنانچہ حکیم موصوف ترکیب علاج میں تحریر فرماتے ہے کہ کسی سوتی کپڑے پر طلسم شفاء الامراض کو سات مرتبہ پڑھ کر دم کیجئے مریض اس کپڑے کوسر سے پاؤں تک تمام جسم پر پھیرے انشاء اللہ تعالیٰ چھپاکی کے اثرات باطل ہوکر فوراً آرام و سکون پیدا ہو جائے گا چھپا کے علاج کے لئے یہ میرا ذاتی طور پر آزمایا ہواعمل ہے جس میں محض ایک دفعہ عمل کے بجا لانے سے چھپاکی ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہو جاتی ہے آزمائیں اور فائدہ اٹھائیں کیونکہ آزمائش شرط ہے
۲۲۔سنگ ِ گردہ و مثانہ کے لئے
حضرت خواجہ علی ادریس ابن شاہ مردان نورالدین عاملیؔ اپنی مسند میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے گردہ، مثانہ یا پتہ میں پتھری پیدا ہو جائے یا ریگ جمع ہو جائے اور اس کی وجہ سے اس شخص کو نا قابل برداشت درد کے جانکاہ دورے پڑتے ہوں تکلیف کی شدت کے سبب مریض زندگی پر موت کو ترجیح دیتا ہو اور ہر قسم کے علاج معالجہ کے بعد عمل جراحت سے پتھری نکلنے کے سوا اور کوئی تدبیر کار گر ہوتی نظر نہ آتی ہو تو اس وقت طلسم شفاء الامراض کے کلمات کو چینی کے برتن پر زعفران و عرق گلاب سے تحریر کیجئے پھر پانی میں شہد ملا کر برتن میں ڈال کر عبارت کو دھوڈالئے اور مریض کو پلائے خدائے تعالیٰ کی حکمت ِ کاملہ سے حیرت انگیز طور پر مریض کا درد جاتا رہے گا مریض کا پیشاب میں پتھری ٹکڑے ٹکڑے ہو کر خارج ہو جائے گی ریگ ہوگی تو بھی نکل جائے گی راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ میں نے اس عمل کو گردہ و مثانہ کو پتھری کے ایسے لا علاج مریضوں پر جن کو ڈاکٹروں اور اطباء حضرات نے آپریشن کا مشورہ دیا تھا آزمایا اور ایک عجیب نفع بخش اکسیری علاج پایا ہے اس عمل کی برکت صرف تین دن تک تین بار اس عمل کو بجا لانے سے ہر قسم کی پتھری پیشاب میں شامل ہو کرریگ کی شکل میں تبدیل ہوکر خارج ہو جاتی ہے اورآئندہ چل ک مریض کو زندگی بھر کبھی بھی دوبارہ یہ مرض لاحق نہ ہو سکتا ہے طلسم شفاء الامراض کے یہ عمل میرے نزدیک جہاں سنگ گردہ و مثانہ کے لئے تریاق اور اسکے اخراج کے لئے معجز نما علاج ہے وہاں جملہ امراض گردہ اور دیگر اعضائے احشائیہ کے لئے بھی اکسیرکا حکم رکھتا ہے
۲۳۔ دافع سنگر ہنی
ارباب ِعلم وفن سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ سنگرہنی کیسی موجل الرفع مرض ہے اس لئے اس کا نام سنگ رہنی یعنی ہمیشہ ساتھ رہنے والی ہے علمائے طلسمات ورُوحانیات کے نزدیگ سنگر ہنی جیسا مُوجل الرفع مرض ہے ویساہی طلسم شفاء الامراض کا عمل اس مرض کے علاج کے لئے معجل الرفع ہے
علامہّ نفیس ابن ربن طبوی سنگر ہنی کے علاج کے متعلق اپنی تصنفِ جلیلہ فردوس الاعمال میں تحریر فرماتےہیں کہ انہوں نے سنگ رہنی کاایک عجیب النفع طریقہ عمل پولا رس ابن ابی جند ب با بلی ایک مشہور عامل ِ طلسمات سے بصد خدمت و کمال محنت کے حاصل کیا ہے عمل ملا حظ ہو سنگر ہنی کا مریض جب رفع حاجت کے لئے نکلے تو اسمائے شفاء الامراض کا دِرد کرنا شروع کردے اور دفع حاجت کے بعد اپنے بول و براز کو زمین میں گڑھا کھود کرو دفن کردے اس دوران تمام وقت عمل کے کلمات کو برابر پڑھتا رہے سنگر ہنی خواہ برسوں سے کیوں نہ ہو پہلے ہی روز کا فور ہو جاتا ہے یہ عمل بھی میرے سالہا سال کے تجربات سے سنگر ہنی کے لئے اکسیر ثابت ہو تے ہے ہزاروں مریض اس عمل کی برکت سے صحت یاب ہو چکے ہیں جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے سنگ رہنی کے لئے اس سے بہتر کامیاب عمل و علاج کا ملنا بہت مشکل ہے
۲۴۔ ہیضہ کا علاج
طلسم شفاء الامراض کا عمل ہیضہ کا بے خطا علاج ہے جب ہیضہ کے مریض کی قے اور اسہال کسی دوائی سے دُور نہ ہوں مریض کا بدن کمزور ہوتا جا رہا ہو نبض چھوٹ رہی ہو یہاں تک کہ حالت مایوس کن ہو جائے تو طلسم شفاء الامراض کا عمل بجالانا معجز نما اثر کرتا ہے ترکیبِ عمل کے مطابق طلسم شفاء الامراض کے کلمات کو عرق گلاب یا عرق بادیان یعنی سونف کے عرق پر اکیس بار پڑھ کر مریض کو پلائیں خدا کت فضل و کرم سے مریض کو شفا ہو جائے گی یہ عمل صاحب فِردوس الا عمال کا بیان کردہ ہے جو نہایت آسان اور ہیضہ جیسے ہلاکت خیز مرض کے لئے اکسیر کا حکم رکھتا ہے میں نے اکثر اس کا تجر بہ کرکے اسے ہرحال میں ہیضہ کی بہترین ادویات سے ممتاز اور سریع الاثر پایا ہے بظاہر یہ معمول قسم کا عمل و علاج ہے مگر حقیقت میں فوائد کے اعتبار سے جواہرات سے تولنے کے قابلِ قدر تحفہ ہے
۲۵۔برائے دیدان یعنی کرِم شکم
پیٹ کے کیڑوں کی نا مراد مرض کا مؤثر اور بے ضرر علاج اگرہے تو طلسم شفاء الامراض ہے کیونکہ اس عمل کا یہ کرشمہ ہے کہ پیٹ کے تمام قسم کے کیڑوں کو جوہر قسم کے علاج کرنے پربھی ختم نہ ہوتے ہیں بہت جلد ہلاک کرکے پیٹ کو ہمیشہ کے لئے پاک کردیتا ہے دیدانِ شکم کے سبب پیدا ہونے والی جسمانی کمزوری، خون کی کمی، خرابی جگراورافعال ہاضمہ کے جملہ  نقائص کو دور کرکے پیٹ کے اندر غلیظ بلغم کی پیدائش کو بھی ختم کر دیتا ہے
علاج کے لئے سب سے پہلے مسہل لیں اس کے بعد طلسم شفاء الامراض کو چینی کی رکابی پر لکھ کر اسے لہسن کے پانی اور شہد سے دھو کر نہار منہ سات روز ک استعمال کرتے رہیں دیدانِ شکم کے اخراج کے لئے یہ عمل اس عاجز کا تسلی بخش اور سو فیصدی مجرّب ہے میرے خیال میں طلسم شفاء الامراض واقع دیدان ہونے کے علاوہ مقوی معدہ اورجملہ امراض معدہ و جگر کے لئے مؤثر ہے لاریب طلسم شفاء الامراض ایسا بے نظیر اور ایسا سہل الحصول عمل و علاج ہے جس پر عوام اور اطبائے کرام مکمل طور پر بھروسہ کر سکتے ہیں
۲۶۔ استسقاء کے علاج میں
شیخ ابوالعطاء جرادیؔ اپنی تصنیف لطیف مقالات ِ طلسمات میں طلسم شفاء الامراض کے خواص و فوائد کے باب میں رقمطراز ہیں کہ مجھے جملہ قسم کے روحانی و طلسماتی علوم و فنون کی تحصیل کے لئے اپنے شیخ طریقت و مرشدِ کامل حضرت شیخ ابومنصور عبدالوھاب ھمدانیؔ کی خدمت اقدس میں بارہ سال تک حاضر رہنے کا موقع ملا اس عرصہ کے دوران میں نے طلسم شفاء الامراض کے جس قدر عجائبات وکمالات کا مشاہدہ کیا ہے اس قدر کمالات آپ کے سواکسی بھی ہمعصر عامل و کامل سے نہیں دیکھے  لا علاج قسم کی بیماریوں کے مریض آپ کے پاس آتے اور طلسم شفاء الامراض کی برکت سے شفایاب ہوتے تھے شیخ بیان کرتے ہیں کہ آپ کہ پاس علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں میں اکثر یت مرضِ استسقاء میں مبتلا لوگوں کی ہوتی چنانچہ جب بھی شیخ کسی مریض استسقا  کا علاج کرتے تو اپنے معمولات ِ عمل کے مطابق پہلے اس مریض کے دونوں کانوں میں اسمائے طلسم کو تین مرتبہ پڑھ کر پھونکے پھر اس مریض کے مثک کی طرح پھولے ہوئے پیٹ پر طلسم کی عبارت کو تحریر کرکے اپنے دائیں ہاتھ کو پیٹ پرآہستہ آہستہ پھیرتے جاتے اور اس دوران اسمائے عمل کو بھی تلاوت کرتے جاتے یہاں تک کہ مریض کے پیٹ پر تحریر کردہ طلسم کی عبارت کے تمام کلمات مِٹ کر ختم ہو جاتے اس کے ساتھ ہی اچانک مریض کا پیشاب جاری ہو جاتا اور پیشاب کے ساتھ ہی قے اور اسہال آنے لگتے شیخ اس عمل کو متواتر تین بجا لاتے جس کے نتیجہ میں مریض کا پیٹ سلسل البَول اور غیر معمولی طور پر قے اور اسہال کے لاحق ہو جانے والے عارضہ کے بعد بالکل برابر اپنی سطح پر آجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ گویا مریض کبھی بیمار تھا ہی نہیں راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ میں نے زندگی میں جس بھی مریض استقاء پر اس عمل کو آزمایا بے خطا پایا ہے یہ عمل مرض استقاء کی لحمی طبلی اور ذقی تینو ں اقسام کے لئے تریاق کا مل ہے جوجگر کی اصلاح کرکے مرض کو مکمل طور پر دفع کر دیتا ہے تین ہی یوم میں مرض کا قلع قمع کرنے والا ہے بے مثال اور تیر بہدف اکسیر الاثر علاج ہے
۲۷۔ دُودھ میں اضافہ کے لئے
عورتوں کا دُودھ اکثر نظر ِ بد اور کبھی خون یا پھر جسمانی کمی یا پھر جسمانی عارضہ کی وجہ سے بالکل خشک ہو جاتا ہے یا اتنا کم ہو جاتا ہے کہ بچے کی شکم سیری نہیں ہو پاتی اس کے لئے طلسم شفاء الامراض کو تانبے یا چاندی کی رکابی پر کندہ کیجئے مریض عورت جو چیز بھی کھائے اس رکابی میں ہی کھائے بفضلہ تعالیٰ دُودھ میں صحت کی حالت کی طرح اضافہ ہو جائے گا طلسم شفاہ الامراض سے مستورات کے دُدوھ میں اضافہ کرنے کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے جو عورتوں کے علاوہ جانوروں جیسے گائے بھینس اور بکری وغیرہ سب کے لئے مفید ہے  دوسرا طریقہ  مستورات کے لئے اسمائے عمل کو اکیس بار پڑھ کر تین دن تک مسلسل کسی کھانے یا پینے کی چیز پر دم کر کر کھلائیں پلائیں جبکہ جانوروں کا دودھ بڑھانے کے لئے نمک پر دم کرکے دیں یہ عمل اس خاکسار کا صد ہامرتبہ کا مجرّب و آزمودہ ہے
۲۸۔ برائے استقرارِ حمل حفاظتِ حمل اور وضع حمل
حضرت خواجہ ابوالعباس طاؔتی معراج البیان میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی عورت اولاد سے محروم ہے اور کسی بھی وجہ سے حمل قرار نہیں پاتا تو اسے چاہیئے کہ پاک وصاف ہو کربروز جمعرات ایک سو دس بار بعد نماز عشاء اسمائے طلسمات کو پڑھے انشاء اللہ تعالیٰ چند روز میں وہ عورت حاملہ ہو جائے گی اور اس کے بطن سے زندہ سلامت رہنے والا بچہ پیدا ہوگا حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عورتوں کے لئے وضع حمل کا وقت انتہائی نازک ہوتا ہے بعض مواقع پر عورتیں اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتی ہیں ایسے نازک وقت کے لئے طلسم شفاء الامراض کا عمل مجرّب ہے اگر وضع میں دشواری پیدا ہو جائے تو کلماتِ عمل کو صاف کاغذ پر لکھ کرموم جامہ میں لپیٹ کر ولادت کی آسانی کے لئے عورت کی بائیں ران پر باندھ دیجئے انشاء اللہ تعالیٰ بچہ آسانی سے پیدا ہو جائے گا ولادت کے بعد اس تعویذ کو کھول کر احتیاط سے کسی مناسب مقام پر رکھ دیجئے
معراج البیان میں ہے کہ حمل کی حفاظت، حاملہ کی حفاظت اور بچوں کی حفاظت کیلئے طلسم شفاء الامراض کا عمل تیر بہدف ہے حمل کی حفاظت اور حاملہ کی نظر بد سے محفوظ کھنے کے لئے اسمائے طلسم کو زعفران سے کاغذ پر لکھ کر حاملہ کے دائیں بازوباندھ دیجئے انشا اللہ تعالیٰ حاملہ تمام آفات سے محفوظرہے گی وضع حمل کے بعد اس عمل کے کلمات کو زعفران سے لکھ کر بچے کے گلے میں بطور تعویذباندھ دیجئے بچہ نظر بد ،بدخوابی اور تمام قسم کی جسمانی و روحانی بیماریوں سے محفوظ رہے گا
۲۹۔ عُسرالبَول کے علاج میں
عسرالبول کے معنی یہ ہیں کہ پیشاب کرتے وقت جلن اور درد محسوس ہوتا ہے اور بڑی تکلیف کے بعد پیشاب کے چند قطرے نکلتے ہیں علمائے طلسمات کاقول ہے کہ طلسم شفاء الامراض کا عمل عسرالبول کے مرض میں سب سے عمدہ علاج ہے عاصر بن حیان الخولانی صاحب پورو ممانشاث کا اس سلسلہ میں تجربہ ہے کہ عسرالبول کامریض ایک فولادی چُھری لے اور اس پرا اسمائے عمل کو انیس مرتبہ پڑھ کر پھونکے اس چُھری سے جنگلی کبوتر کو ذبح کرے اس عمل کے فوراً بعدہی ذبحیہ جانور کو چُھری سمیت کسی دریا، نہر یا جاری پانی میں ڈال دے بحکم خدا اس مرض کا عارضہ اسی وقت ہی جاتا رہے گا اور تکلیف دُور ہو کر مریض کو اس کے معمول کے حالات کے مطابق کھل کر پیشاب آنے لگے گا
۳۰۔ برائے سلسل البَول
عامربن حیان الخولاؔنی مما نشاث میں تحریر کرتا ہے کہ سلسل البول ایک انتہائی خطرنک تکلیف دہ اورپریشان کن مرض ہے جس میں پیشاب مثانہ میں جمع ہونے سے پہلے ہی بے اختیار ہوکر خارج ہو جاتا ہے طریقہ علاج میں تحریر فرماتے ہیں کہ کلماتِ عمل کو کفن کے کپڑے پر لکھ کر بکری کے سینگ میں رکھ کر موم سے بند کردیں اور اس کو کسی پرانی قبر میں شنبہ یعنی ہفتہ کے روز سورج نکلتے وقت دبادیں نہایت مفید و مجرّب ہے
۳۱۔فالج کے علاج میں
لتاب فردوس الا عمال میں واردہے کہ فالج جیسے خوفناک اور مہلک مرض کے روحانی علاج کے لئے طلسم شفاء الامراض کا درج ذیل طریقہ عمل علمائے مخفیات و رُوحانیات کے نزدیک نہایت معتبر و مجرّب تسلیم کیا گیا ہے چنانچہ ترکیب عمل کے مطابق قمر زائد النور میں سات مختلف مقامات کا پانی حاصل کرکے سات مختلف رنگ کی شیشے کی علیٰحدہ علیٰحدہ بوتلوں میں بھرکر سات دن تک رات کے وقت چاند کی چاندنی میں اور دن کے وقت سورج کی دھوپ میں رکھیں اس عمل کے بعد تمام بوتلوں کے پانی کو کسی ایک ہی کشادہ قسم کے برتن میں جمع کرکے اس پر طلسم شفاء الامراض کے کلمات کو سات سو سات بار پڑھ کر دم کریں اس پانی کی قمر ناقص النور کے دنوں سے فالج کا مریض اس طرح پر استعمال کرنا شروع کرے کہ شیشہ کی رکابی میں ایک پاؤ بھر پانی کی مقدار ڈال کر صبح سورج کے طلوع ہونے پر پانی میں سورج کا عکس دیکھتے ہوئے تمام پانی کو ایک ہی گھونٹ کرکے پی جائے اسی طرح ایک پاؤں بھر کی مقدار رات کو غروبِ آفتاب کے بعد برتن کے پانی میں چاند کو دیکھ کر فوراً ہی پانی کو ایک ہی سانس میں پی کر ختم کردے ایک ہفتہ تک اس پانی کے استعمال سے فالج کے اثرات مکمل طور پر ختم ہوکر صحتِ کامل ہونے پر سات مساکین کو دونوں وقت کا کھانا کھلانے کی شرط رکھی گئی ہے فردوس الا عمال میں فالج کے اس عجیب و غریب طریقہ عمل کو حکیم میرک روفض کی طرف منسوب کرکے حکیم موصوف کا اس سلسلہ میں یہ قول بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص طلسم شفاء الامراض کے اس طریقہ عمل کے مطابق فالج متاثرہ مریض کا علاج کرے اگر اسے شفا حاصل نہ ہوتو قیامت کے رو بارگاہِ خداوندی میں مجھ سے مواخذہ کا حق محفوظ رکھتا ہے طلسم شفاء الامراض کے متذکرۃ الصدر طریقہ عمل و علاج کو میں ذاتی طورپر اب تک ہزاروں نہیں تو سینکڑوں فالج کے لا علاج قسم کے مریضوں پر آزما چکا ہوں لیکن اس حکیم مطلق کے فضل و کرم سے سوائے کامیابی کے کبھی بھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے آزمائیں اور فالج کے لئے تریاقِ مسیحائی کے حامل اس طلسم کے فوائد کا مشاہدہ کریں
۳۲۔لقوہ کے علاج کے لیئے
مرض لقوہ سے نجات کے لئے علمائے روحانیات کے مجرّبات سے ہے کہ عامل چاند گرہن کے وقت فولاد خالص سرخ تانبہ سکّہ وجست نقرہ و رصاص اور زر خالص کی دھاتیں مساوی الوزن لے کر پگھلاکرباہم ملالے اور اس مرکب کی ایک اچھی خاص مربع لوح تیار کرے اس لوح کے ایک طرف طلسم شفاء الامراض کے کلمات کو بڑی احتیاط اور صحت کے ساتھ کندہ کرلیا جائے دوسری طرف کو سوہن سے اس قدر صاف کیا جائے کہ اس کی سطح آئینہ کی طرح چمک اٹھے اس آئینہ نما طلسماتی لوح سے لقوہ کے علاج کا طریقہ اس طرح بیان کیا گیا ہے
کہ مریض اس طلسماتی لَوح کو کسی چیز پر بیلنس کرکے رکھے اور خود لَوح کے مقابل ایک بالشت کے فاصلہ پر دوزانو ہوکر بیٹھے اس کے بعد کامل اعتماد اور یک سوئی کے ساتھ لَوح کے آئینے میں اپنے چہرے کے عکس کو پلک جھپکائے بغیر جس قدر بھی زیادہ دیر تک ممکن ہو سکے دیکھے عمل کے وقت مریض کو سخت قسم کی گرمی محسوس ہوگی جس سے اس کا جسم پسینے سے شرا بور ہو جائے گا اس عمل کے بعد پہلے ہی روز آفاقہ محسوس ہوگا یہاں تک کے اس عمل کو سات روز تک مسلسل جاری رکھنے کے نتیجہ میں لقوہ کے تمام اثرات باطل ہو کر مریض کا چہرہ اپنی اصلی حالت پر دوبارہ آجائے گا  صاحب ابن اعیادابو القاسم طالقانی کتاب النوات والا نمان میں فرماتے ہیں کہ مختلف دھاتوں سے تیار کردہ اس لَوح میں ایسے طلسماتی ومقناطیسی اثرات پیدا ہو جاتے ہیں کہ جب مریض اس لوح میں کامل انہماک حضورِ قلب اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی شکل و صورت کو مشاہدہ کرتاہے تو اس کے چہرہ کے اعصاب وعضلات میں ایک زبردست قسم کی قدرتی و طبعی حرارت کا عمل دوبارہ جاری ہو جاتا ہے جس سے مریض کے جسم کی کثافت و برودت اور بلغمی غلیظ قسم کی رطوباتِ فاسدہ رقیق ہو کر متاثرہ حصّہ کے مسامات کو کھول دیتی ہیں اس عمل کے سبب مریض اپنے جسم میں شدّت کے ساتھ گرمی محسوس کرنے لگتا ہے اس کا پسینہ جاری ہو جاتا ہے اور اس طرح لقوہ کی وجہ سے چہرہ کے خشک اورمردہ ہو جانے والے خلیات میں قوت و حرکت کی نئی روح پیدا ہو جاتی ہے اور یہ چند ہی روزہ علاج لقوہ جیسے خوفناک اور پریشان کن مرض کو نسیت و نابود کر دیتا ہے
مرض لقوہ کے ازالہ کے لئے یہ طلسماتی لَوح اس راقم الحروف کی ذاتی طور پر تیار کردہ آزمودہ و مجرّب ہے میرے نزدیک لقوہ کے رفع کرنے کیلئے بے نظیر فوائد کی حامل یہ لوح پرانے سے پرانے لقوہ کو دُور کرنے کے لیئے بھی ایسے وقت میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے جبکہ کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ نہ ہوتا ہو لاریب اس لوح کے شفا بخش طلسماتی عمل کے محض ایک ہی دفعہ کے استعمال سے مریض لقوہ کو نفع معلوم ہونے لگتا ہے جبکہ سات روزہ مکمل کورس مرض کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکتا ہے ارباب علم وفن ضرورت علاج کے وقت اس لوح کو بناکر استعمال کرائیں گے تو تجربہ کے بعد خود اس کے قائل ہو جائیں گے
۳۳۔کلالت نتق
فردوس الاعمال میں طلسمات فلا طیسؔ سے نقل کے اگیا ہے کہ شیخ ابو محمد مرجاؔنی کو اس شیخ طریقت عمیدابن جندب واصلیؔ نے متواتر تین شب عالم خواب میں تشریف لاکر کلالت نطق یعی زبان کی لکنت کے سبب قوت گویائی میں فرق کے پیدا ہو جانے کے لئے طلسم شفاء الامراض کا رُوحانی علاج تلقین فرماے
شیخ ابو محمد مرجاؔنی سے منقول ہے کہ میں نے اپنے شیخ کے تلقین کردہ طریقہ کے مطابق طلسم شفاء الامراض کے عمل کی عبارت کو صبح و شام اوّل سے آخر تک درمیان میں کہیں بھی ٹھہر ے بغیر تلاوت کرنا شروع کردیا ابتدائی طورپر تو مجھے کلالت نطق کے سبب عبارتِ عمل کو مکمل طور پر تلاوت کرنے میں سخت قسم کی دشواری کا سامنا کرنا پڑا لیکن سات روز تک متواثر اس عمل کے بجا لانے کے بعد عبارت کی عمل کو صحت کے ساتھ پوری طرح تلاوت کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی حیرت انگیز طور پر روزمرّہ کی عام گفتگو کے دوران بھی پیدا ہونے والا لکنت کا عارضہ جاتا رہا اورمیں ہر قسم کی بات چیت کو آسانی کے ساتھ کرنے پرقادر ہوگیا
شیخ تحریر کرتا ہے کہ طلسم شفاء الامراض سے لکنت کے علاج کے سلسلہ کا ایک دوسرا عجیب و غیریب طریقہ عل یُوں ہے کہ عامل طلسم شفاء الامراض کو ایک سوایک مرتبہ تلاوت کرکے مریض کے عضوِنطق یعنی زبان کو لکنت کی تکلیف سے محفوظ کرنے کے کامل ارادہ کے ساتھ اس کے حصار کرے اور خود اس کے پاس بیٹھ کر ایسی باتیں کرے کہ جس سے مجبور ہوکر مریض کو جواب دینا پڑے عامل مریض کے جواب دینے پر کہے کہ میں تیری بات کو نہیں سمجھتا اس پر مریض دوبارہ عامل کی باتوں کو جواب دے گا تو اس کی قوت ِ گویائی درست ہو جائے گی شیخ کا قول ہے کہ اس طریقہ عمل میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ جب مریض کسی شخص کو نا پسندیدہ بات سن کر اس کا جواب نہیں دے سکتا تو وہ سخت قسم کا پریشان ہو جاتا ہے اور اس حالت میں اس سے جو کچھ بھی کہا ساسکتا ہے وہ پوری قوّت سے کہتا ہے اس عمل کے دوران اگر عامل کے علاوہ کوئی ایسا اجنبی شخص جس کو مریض نہ جانت ہو وہ اچانک عمل کے مکان میں داخل ہو جائے اور مریض کو سخت دسُست کہنے لگے تو اس سے بھی مریض غیرت میں آکر انتہائی جوش وخروش سے جواب دینے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس کی زبان کی گرہیں کُھل جاتی ہیں شیخ فرماتے ہیں کہ عامل کے اس عمل کو ہفتہ عشرہ تک بجا لانے سے بفضلہ تعالیٰ مریض کو اس مرض سے نجات حاصل ہو جاتی ہے
۳۴۔ عقر یعنی بانجھ پن کے لئے
مجرّباتِ ارسطاطالیس میں حکیم اس سطا طالیسؔ رقمطراز ہے کہ طلسم شفاء الامراض کا عمل عاقرہ عورت کے لئے بانجھ پن دور کرنے کے  ہزاروں عملیات سے ایک مفید قسم کا کامیاب رُرحانی علاج ہے جس سے عقر کے متعلق جملہ پوشیدہ پیچیدہ نسوانی عوارضات کا قلع قمع ہو کر عورت کی گود ہری بھری ہو جاتی ہے
ترکیب علاج کے مطابق طلسم شفاء الامراض کو آبِ نیساں پر ایک سو دس مرتبہ پڑھ کر دم کیا جائے عاقرہ عورت کو جب وہ اپنے ایام ماہواری سے غسل کرکے پاک وصاف ہو جائے تو فوراً ہی اس پانی کا استعمال شروع کردینا چاہیئے روزانہ ایک چھٹا نک پانی کو شہد خالص سے شیریں کرکے نیم گرم تین روز تک استعمال کرائیں چو تھے روز اس عورت کو اپنے خاوند سے قربت کرنے کی ہدایت کریں اُمید ہے کہ اسی روز یا پھر دوسرے یا تیسرے روز حمل ٹھہرجائے گا اگرپہلے مہینہ میں کامیابی نہ ہو تو دوسرے اور تیسرے مہینہ اسی طرح آیام حیض سے فراغت کے بعد تین روز تک اس پانی کا استعمال کرائیں اور چوتھے روز خاوند سے مباشرت کرنے کا حکم دیں امید واثق ہے کہ دوسرے مہینہ میں ضرور حمل قرار پائے گا ورنہ تیسرے مہینہ میں اسی طرح پانی کا استعمال کرائیں اب خدا کے فضل و کرم سے ضرور کامیابی ہوگی
حکیم کہتا ہے کہ طلسمات کے مشاہیر عالم علمائے فن کے نزدیک عقر جیسی سخت اور لا علاج مرض کے لئے طلسم شفاء الامراض کا عجیب التاثیر رُوحانی علاج ہونا ثابت ہے راقم الحروف کے علاج سے اب تک سینکڑوں مایوس العلاج خواتین اس رُوحانی علاج کی بدولت اولاد جیسی نعمت سے مالا مال ہوچکی ہیں میرے نزدیک یہ ممکن نہیں کے کہ کوئی بانجھ عورت اس رُوحانی علاج پر عمل پیرا ہوکر اورپھر بھی وہ قابل اولاد نہ ہو سکے
آبِ نیساب
علمائے فلکیات کے مطابق بحساب شمسی ہر سال ۲۱مارچ کو آفتاب بُرج حمل میں داخل ہوتا ہے اس دن نو روز کے نام سے پکارا جاتا ہے نو روز سے ۳۲ دن کے بعد نیساں کا مہینہ شروع ہوتا ہے جو ۳۰ روز کا شمار ہوتا ہے اس مہینہ میں جو پانی برستا ہے اسے آبِ نیساں کہتے ہیں
۳۵۔ دردِ قولنج کے لئے
قولنج کا درد ایک انتہائی تکلیف دہ پریشان کُن اور نا قابل برداشت قسم کا درد ہوتا ہے اربابِ طب و حکمت کے نزدیک اس درد کا سبب ایک ایسے خشک قسم کی ریح کو بیان کیا جاتا ہے جو معدہ کی غلیظ رطوبت سے پیدا ہونے والے بجارات کو پیٹ اور انتٹریوں میں جانے سے روکتی ہے اس ریح کے غلبہ کے وقت سانس کی رکاوٹ کے پیدا ہو جانے والے عارضہ کے باعث انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کی جان نکلی جارہی ہے دردِ قولنج گرم اور سرد دو قسم کا ہوتا ہے جو عموماً حرارت اور گرمی کی شدّت، سخت سردی بارش کے وقت پیدا ہو جاتا ہے
ابوبغداؔدی مفتاح المراد میں امام فلا طیس سے نقل کرتے ہیں کہ علمائے علوم مخفیات کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ طلسم شفاء الامراض کا عمل دردِ قولنج جیسی خبیث و درد ناک مرض کا شافی وکافی علاج ہے 
چنانچہ ترکیب علاج کے مطابق دردِ قولنج کا مریض طلسم شفاء الامراض کا وردکرتے ہوئے سوئے ہوئے کتے کو جگائے اور اس کی جگہ پر بیٹھ کر پیشاب کرے تو فوری  طور پر اس کا درد جاتا رہے گا مریض کو ایسا معلوم ہوگا کہ قولنج کا درد کبھی اس کے نزدیک تک بھٹکا بھی نہ تھا محرّرالسطورصاحبان علم و فن کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ طلسم شفاء الامراض کا عمل قولنج جیسے خطرناک مرض کے لئے اپنے فوائد کے لحاظ سے اپناثانی نہیں رکھتاقولنج کے علاوہ متذکرۃ الصد ر طریقہ عمل ہر قسم کے جسمانی درد کے لئے نظر رُوحانی علاج ہے
۳۶۔ دافع فواق یعنی ہچکی
مرض ہچکی کے لئے طلسم شفاء الامراض کا عمل نہایت آزمودہ و مجرّب ہے اگر طہارت کی حالت میں طلسم کی عبارت کو ایک چینی کے برتن میں لکھ کر عرق بادیان سے دھو کر مریض کو پلائیں تو بہت جلد شفا پائے گا شفائے فواق کے لئے منہاج الاصول میں مسطور ہے کہ ہرن کی کھال پر اسمائے شفاء الامراض کو تحریر کرکے عودد صندل سے دُھونی دے کر ہچکی کے دورہ کے وقت مریض کے گلے میں لٹکائیں تو فی الفور ہچکی کا دورہ جاتارہے گا اکابرو مشائخ علمائے طلسمات کا قول ہے کہ ہچکی کے دورہ کے وقت طلسم شفاء الامراض کا دور کرنے سے ہچکی کا عارضہ کا فور ہو جاتا ہے
۳۷۔برائے نسیان
عشوہ مقالات میں حکیم حنین ابن اسحق عاصم بن ھشام کُندی سے روایت کرتا ہے کہ شیخ علی محمد صالح مشھدی ؔ صاحبِ مکاشفات نے عاصم  بن ھشام کندیؔ سے کہا کہ کے میں تجھے وہ متبرکّ روحانی علاج نہ تعلیم کروں جو مجھے میرے شیخ طریقت امام فلاطیس سے ایک خصوصی عمل کی حیثیت سے پہنچا ہے جس سے حافظہ بڑھتا ہے اور نسیان دورہوتا ہے کندیؔ نے کہا یا شیخ ضرور بیان کیجئے شیخ  نےفرمایا کہ طلسم شفاء الامراض کو زعفران و عرق گلاب سے تحریر کرکے پانی سے دھوکر صبح کے وقت تین مثقال لوبان اور دس مثقال شہد ملا کر نسیان کا مریض چند روز تک پیئے تو اس کا مرض ختم ہو جائے گا کندیؔ کا قول ہے کہ میں ایک طویل عرصہ سے نسیان کا شکار تھا اور متواتر علاج کے باوجود مایوس العلاج مریض بن چکا تھا میں نے طلسم شفاء الامراض کے مذکررہ بالا طریقہ عمل پر عمل کرنا شروع کیا تو محض سات یوم تک علاج سے ہی میراحافظہ و فہم ترقی کرکے نسیان مکمل طور پر دور ہو گیا
عبداللہ بن اشھبؔ مصری کہتے ہیں کہ طلسم شفاء الامرض کا عمل و علاج زیادتی حفظ و دفع نسیان کے لئے خوب ہے سلیمان بن مسعود کا قول ہے کہ طلسم شفاء الامراض کا عمل بدن کے تمام قوتوں کا امین ومحافظ اور دماغی طاقت کے حصول کا ایسا ذریعہ ہے جو نسیان جیسی عارضہ کو ختم کرکے ایک بہترین رفیق دماغ ثابت ہوتا ہے
۳۷۔ ذیابیطس کا علاج
شیخ ابو منصور عبدالوھاب ھمدانیؔ طبقات النجوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ ذیا بیطس یعنی شوگر کے لئے امام المشائخ حضرت خواجہ جمال الدین طوسیؔ کا ذیل کا طریقہ عمل و علاج اس مرض کا اپنی قسم کا انتہائی مفید اور بے حد اثر آفرین حکمی علاج ہے شیخ کے بیان کردہ طریقہ کے مطابق ذیا بیطس کا مرض چالیس روز تک طلسم شفاء الامراض کو رال سفید کے سفوف پر سات بار پڑھ کر صبح کے وقت روزانہ ایک تولہ کی مقدار کے برابر پانی کے ہمراہ  استعمال کرے انشاء اللہ صحت حاصل ہو جائے گی شیخ ہمدانیؔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمل و علاج ذیا بیطس میں مبتلا  ہزارں بندگانِ خدا کو بتایا جو سب کے سب شفا یاب ہو گئے طلسم شفاء الامراض کا یہ طریقہ عمل و علاج اپنے حیرت انگیز افعال و خواص کے اعتبار سے بلا شبہ تریاق ذیا بیطس کہلانے کا مستحق ہے اس روحانی علاج کی بدولت وہ مریض جو شوگر کے سبب کمزور ہو کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے ہوں چند روز میں ہی تندرست و توانا ہو جاتے ہیں ہر قسم کی شوگر اور شوگر سے پیدا ہونے والے تمام ترعوارضات کا نام و نشان کہیں باقی نہیں رہتا اس علاج کی سب سے بڑی خوبی یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاج ہر موسم ہر عمر اور ہر مزاج کے مریض کے لئے یکساں طور پر مفید ثابت وتا ہے
۳۹۔دردِ کمر کے لئے
علمائے طلسمات کے معمولات سے ہے کہ عامل درد کمر کے مریض کو کھڑا کرکے طلسم شفاء الامراض پڑھتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس کی گردن سے لے کر کمر کے مقامِ درد تک پھرتا ہوا اوپر سے نیچے کی طرف لائے اور ختم کردے اس طریقہ کے مطابق اس عمل کو مریض کے جسم میں پسینہ کے آنے تک مسلسل جاری رکھے یہاں تک کہ کچھ ہی دیر بعد جب مریض کا جسم پسینہ سے شرابور ہو جائے اور اس کی ساتھ ہی پیشاب کی حاجت بھی ہونے لگے تواس وقت عمل کو ختم کر دیا جائے مریض کے پیشاب کرنے کے بعد اسے درد سے افاقہ محسوس ہو گا اس عمل کو تین روز تک تین مرتبہ بجا لانے سے دردِ کمر کا عارضہ جاتا رہے گا
عمل کی شرائط کے مطابق عمل کے وقت مریض کے بدن سے کپڑے اتار کر اس عمل کو بجا لانا ضروری قرار دیاگیا ہے علمائے فن کے نزدیک دردِ کمر کا سبب مریض کی کمر کے مفاضل میں برودت کا کثرت کے ساتھ جمع ہو جانا ہوتا ہے عامل جب عمل کے وقت اسمائے طلسمات کی روحانی عبارت کا ورد کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کی حرکت سے مریض کو حرارت پہنچاتا ہے تو برودت کا غلبہ ختم ہو کر مریض کا مرض جاتا رہتا ہے
۴۰۔ مسموم یعنی زہر خوردہ کا علاج
حمورابی کا قول ہے کہ طلسم شفاء الامراض کا عمل ہر قسم کے زہر کے لئے تریاق کا حکم رکھتا ہے حمورابی کے نزدیک بعض زہر گرم ہوتے ہیں اور بعض سرد مسموم حاری کی علامات جس میں کثرت کے ساتھ پیاس سخت قسم کی گھبراہٹ پیٹ میں جوش اور التہاب عظیم ہو اکرتی ہے اس کے علاج کے لئےطلسم شفاء الامراض کو عرق لیموں پرگیارہ مرتبہ تلاوت کرکے مسموم کو پلائیں سموم باردہ کی علامات بدن کی سردی پیاس کی کمی التہاب قلب اور جسم کا بھاری ہونا ہیں اس قسم کے مریض کے عمل و علاج کا اصول یہ ہے کہ لہسن کا پانی شہد کے ساتھ ملا کر اس پر طلسم شفاء الامراض کو بارہ مرتبہ پڑھ کر جس قدر پی سکے بلائیں اس عمل و علاج کی برکت سے زہر کا اثر خون میں سرایت نہ کر سکے گا اور مریض شفایاب ہو جائے گا
علمائے علوم مخفیات ورو حانیات کے نزدیک طلسم شفاء الامراض سے ہرقسم کے جسمانی مرض کے لئے علاج کرنا بالا تفاق ثابت ہے اس طلسم کے خواص و فوائد پر بڑے بڑے علماء نے تشریحات لکھی ہیں اور اس کو مجرّب التاثیر اور کمال سریع الاثر ہونے پراجماع کیا ہے تحقیقات کے مطابق یہ طلسم کامل اکمل حضرت قاضی ابو محسن بن عبد العلی بن عمران مشھدیؔ کی تالیفات سے ہے اس طلسم کا عامل بننے کے لئے نہ کسی قسم کی زکوٰۃ ادا کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ترکیب حیوانات جلالی و جمالی پا بندی کی کوئی شرط لازم ہے تاہم علمائے روحانیات و مخفیات کے نزدیک اس عمل کے عامل کے لئے لازم وواجب ہے کہ اتباعِ سنت اور اجتناب بدعت کا خیال رکھے ممنوعات شرعیہ اورمکر و ہات دنیا میں مبتلا نہ رہے اگر ان امور کی رعایت نہ کرے گا تو اس کے فیوض و بر کات سے محروم رہے گا
میرے ذاتی تجربات و مشاہدات کے مطابق طلسم شفاء الامراض کا عمل جہاں متذکرۃ الصد امراض کے لئے خصوصی طور پر اکسیر صفت شافی و کافی علاج ثابت ہوتا ہے میرے نزدیک طلسم شفاء الامراض کا عمل امراض نسواں کے لئے دنیا ئے طلسمات کا ایک ایسا کامیاب ترین عمل ہے جس سے بہتر اس مقصد کے لئے آج تک کوئی دوسرا عمل میری نظر سے نہیں گزراطلسم شفاء الامراض بے قاعدگی حیض بندش خونِ حیض شدت دردِ حیض کمی خونِ حیض ورم باطن رحم ورم عنق الرحم اور ورم خُصیتہ الرحم جیسی پوشیدہ و پیچیدہ امراض کے لئےبہت ہی عجیب الاثر عمل و علاج ہے میرے معمولات کے طریقہ کے مطابق طلسم شفاء الامراض کو پانی پر ایک سو دس(۱۱۰) مرتبہ پڑھ کر پھونکیں اور کسی شیشی میں سنبھال کر رکھیں اس پانی کو صبح و شام ایک ایک چھٹانک کے برابر دونوں وقت پلائیں اس پانی کا استعمال رحم کو طاقت دیتا ہے استقرار حمل کی صلاحیت پیدا کرتا ہے سفید رطوبت (سیلان ابیض) کو بندکرتا ہے ہیسٹیر یا کی بیماری کو دفع کرتا ہے غرض یہ پانی عورتوں کی تمام تر جسمانی تکالیف کے لئے آبِ حیات کا کام دیتا ہے عوتوں کی امراض کے لئے جب کوئی بھی علاج کار گر ہو تا نظر نہ آتا ہو تو پھر طلسم شفاء الامراض کا استعمال کر کے دیکھیں انشاء اللہ تعالیٰ اس عمل کو ہمیشہ اکسیر الاثر پائیں گے
طلسم شفاء الامراض کا نقش
یہ نقش بھی انہی خوبیوں کا حامل ہے ،جن امراض کے متعلق آپ اوپر پڑھ آئے ہیں ان تمام میں یہ نقش عامل اپنے صوابدید کے مطابق کام میں لا سکتا ہے زیادہ وضاحت درست نہیں جو اہل ہوگا اسے سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی اور نا اہل کا فہم میری مراد سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہے گا
                            ۷۸۶                                                    
۴۰۰۳
۳۹۹۷
۴۰۰۵
۴۰۰۴
۴۰۰۲
۳۹۹۹
۳۹۹۸
۴۰۰۶
۴۰۰۱